Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تکنیکی خرابی دور، ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر بحال: پی ٹی اے

جمعرات کی شام بین الاقوامی زیرِ سمندر کیبل میں اچانک پیدا ہونے والے تعطل کے باعث پاکستان میں انٹرنیٹ کی فراہمی متاثر ہوئی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی زیرِ سمندر کیبل  ایس ایم ڈبلیو ای 5  میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کو دور کرتے ہوئے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔
جمعے کو پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صارفین کو گزشتہ رات سے درپیش انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور رابطے میں تعطل کا مسئلہ اب پوری طرح حل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کی شام بین الاقوامی زیرِ سمندر کیبل میں اچانک پیدا ہونے والے تعطل کے باعث پاکستان میں انٹرنیٹ کی فراہمی متاثر ہوئی تھی، جس کی وجہ سے صارفین کے روزمرہ کے آن لائن معمولات میں خلل پڑا تھا۔

 

ترجمان پی ٹی اے کے مطابق زیرِ سمندر کیبل کی بحالی کے ساتھ ہی ملک بھر میں ڈیجیٹل رابطے اب معمول پر آ چکے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی نجی کمپنی ’ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس‘ کی جو بین الاقوامی ترسیلی صلاحیت (ٹرانزٹ کیپیسٹی) متاثر ہوئی تھی، اسے بھی مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے جس سے نیٹ ورک پر ڈیٹا کا دباؤ ختم ہو گیا ہے۔
خرابی کہاں ہوئی اور اس کے اثرات کیا تھے؟
جمعرات کی شام جب بین الاقوامی زیرِ سمندر کیبل نظام ’سدرن ایشیا-مڈل ایسٹ-ویسٹرن یورپ 5‘ میں اچانک تکنیکی خرابی پیدا ہوئی جس کے باعث پاکستان سمیت مختلف ممالک میں انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوئیں۔
یہ آپٹک فائبر کا نیٹ ورک درجنوں ممالک کو تیز ترین انٹرنیٹ ڈیٹا فراہم کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے، اس لیے اس تعطل کے باعث خطے کے کئی دیگر ممالک میں بھی انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہوئی اور ڈیجیٹل ٹریفک کی روانی سست پڑ گئی۔
پاکستان میں بین الاقوامی انٹرنیٹ بینڈوتھ فراہم کرنے والے دو بڑے نیٹ ورکس فعال ہیں، جن میں پی ٹی سی ایل اور ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس شامل ہیں۔
 ٹرانس ورلڈ کا بڑا انحصار اسی مخصوص کیبل پر ہے، اس لیے اس نیٹ ورک سے منسلک صارفین کو براؤزنگ، ڈاؤن لوڈنگ اور آن لائن کاروباری سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ کیبل لائن پاکستان کی مجموعی انٹرنیٹ بینڈوتھ کا ایک بڑا حصہ فراہم کرتی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اگرچہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور متعلقہ آپریٹرز نے فوری طور پر ٹریفک کو متبادل روٹس پر منتقل کر کے سسٹم کو سہارا دیا، تاہم اب کیبل کی مرمت مکمل ہونے کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی 100 فیصد بحال ہو چکی ہے۔
یہ زیرِ سمندر کیبل کتنی اہم ہے؟
ایس ایم ڈبلیو ای 5 قریباً 20 ہزار کلومیٹر طویل یہ بین الاقوامی زیرِ سمندر کیبل نظام جنوب مشرقی ایشیا کو مشرقِ وسطیٰ کے راستے یورپ سے جوڑتا ہے۔
یہ کیبل لائن پاکستان کی مجموعی انٹرنیٹ بینڈوتھ کا ایک بڑا حصہ فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اہم ڈھانچے میں معمولی سی خرابی بھی ملکی اور عالمی سطح پر ڈیجیٹل رابطوں کو فوری طور پر متاثر  کرتی ہے۔

 

شیئر: