Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی سپریم لیڈر کی میت تہران کے مذہبی کمپلیکس میں جنازے کے لیے پہنچ گئی

حکام کے مطابق جنازے میں ڈیڑھ سے 2 کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے (فوٹو: اے پی)
ایران کے سپریم لیڈر کی میت جمعہ کو تہران کے گرینڈ مصلی میں جنازے سے قبل پہنچائی گئی ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو علی خامنہ ای کے سرکاری جنازے میں لاکھوں افراد اور غیر ملکی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ تہران کے چیف مذاکرات کار نے عوام سے بڑے پیمانے پر شرکت کی اپیل کی تاکہ ان کی موت کا بدلہ لیا جا سکے۔
تصاویر میں دکھایا گیا کہ سوگواران خامنہ ای کے تابوت کو، جو ایران کے تین رنگی پرچم میں لپٹا ہوا تھا، گرینڈ مصلی میں لے جا رہے ہیں، جو اسلامی جمہوریہ کے سب سے اہم تقریباتی مقامات میں سے ایک ہے۔

 

جنگ کے دوران تاخیر کے بعد اب خامنہ ای کے عوامی جنازے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، جبکہ ایران اور امریکہ ابتدائی معاہدے کے بعد ایک نازک جنگ بندی پر عمل کر رہے ہیں۔
پاکستان، جو امریکہ-ایران مذاکرات میں ایک اہم ثالث ہے، نے کہا کہ اس کے وزیراعظم شہباز شریف تقریب میں شریک ہوں گے۔ چین، افغانستان اور خطے کے پڑوسی ممالک نے بھی نمائندے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
جمعرات کو گرینڈ مصلی میں تیاریوں کا سلسلہ جاری تھا، جبکہ سکیورٹی ٹیمیں گاڑیوں کو روک رہی تھیں اور راہگیر تجسس سے دیکھ رہے تھے۔ ایک کارکن حسین مقدسی نے کہا کہ ’ہم اپنے شہید رہنما کی وداعی تقریب کے لیے پھول لگا رہے ہیں اور جھاڑیوں کو پانی دے رہے ہیں۔ لوگ پورے ایران سے آئیں گے۔ بہت بڑا مجمع ہوگا۔‘
تہران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو کہا کہ ’تمام ایرانی عوام اپنی موجودگی کے ذریعے اسلامی ایران کی تاریخ میں ایک شاندار باب لکھیں۔ قوم کی پکار دنیا کے کانوں میں گونجنی چاہیے۔‘
خامنہ ای، جو بہت سے شیعوں کے لیے روحانی رہنما تھے، 86 برس کی عمر میں تہران کے وسط میں اپنے کمپاؤنڈ پر حملوں میں ہلاک ہوئے۔ ان کی میت تین دن تک گرینڈ مصلی میں رکھی جائے گی، جسے ان کی تصاویر اور اقوال والے بینرز سے سجایا گیا ہے۔ ان کے رشتہ داروں کی میتیں بھی رکھی جائیں گی۔

تہران کے ساتھ ساتھ مقدس شہروں قم اور مشہد میں بھی جنازے اور تدفین کی تقریبات ہوں گی (فوٹو: اے ایف پی)

کئی شہروں میں یادگار تقریبات
حکام کے مطابق جنازے میں ڈیڑھ سے 2 کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، جو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا ریاستی جنازہ ہوگا۔ قالیباف نے اسے ’ایران کی تاریخ کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک‘ قرار دیا۔
تہران کے ساتھ ساتھ مقدس شہروں قم اور مشہد میں بھی جنازے اور تدفین کی تقریبات ہوں گی اور عوامی تعطیلات ہوں گی۔ حکام نے حکم دیا ہے کہ سنیچر سے پیر تک تہران میں سرکاری و نجی دفاتر بند رہیں گے۔
تہران کی تقریبات کے بعد خامنہ ای کی میت عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جائی جائے گی، اور 9 جولائی کو مشہد میں امام رضا کے مزار پر دفن کی جائے گی، جو ان کا جائے پیدائش ہے۔
یہ ابھی تک معلوم نہیں کہ ان کے بیٹے اور جانشین مجتبی، جو سپریم لیڈر بننے کے بعد عوامی طور پر نظر نہیں آئے، مرکزی تقریب میں شریک ہوں گے یا نہیں۔
تقریباً 30 ممالک کے نمائندے جنازے میں شریک ہوں گے، جبکہ پڑوسی ممالک عراق، افغانستان اور پاکستان سے لوگ بڑی تعداد میں آ رہے ہیں۔

 

شیئر: