تیما میں قدیم پتھر دریافت

تاریخ اور سیاحت کے شوق سے بیابانوں اور پہاڑوں کا سفر کرتے ہوئے سعودی عرب کے ایک شہری نے ملک کے شمال میں پتھروں پر صدیوں پرانی نقش ونگاری کا پتہ چلایا ہے ۔
ٹی وی چینل ’العربیہ‘ کے مطابق بندر الغیث تاریخ اور سیاحت سے لگائو رکھتے ہیں ۔ حال ہی میں انہوں نے شمالی سعودی عرب میں تیما کے علاقے کا سفر کیا جہاں انہیں پتھروں پر کندہ کی گئی عبارتیں ملیں جن میں سے بعض عبارتوں میں رمضان کے حوالے سے بھی پیغام شامل ہیں ۔
تیما میں ‌پائی جانے والی ایک چٹان پر عربی زبان میں ماہ صیام اور سال درج ہے، اس کے ساتھ کئی دوسری نصوص اورعبارتیں موجود ہیں ۔

بندر الغیث کا کہنا تھا کہ انہوں نے تبوک میں قومی ورثے کے تحفظ کے لیےقائم مرکز کے چیئرمین عبدالالہ الفارس سے ملاقات کرکےانہیں تیما میں موجود اس تاریخی ورثے کی موجودگی کے بارے میں‌ بتایا۔ ’انہوں نے میرا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم بھی میرے ساتھ تاریخی چٹانوں کو دیکھنے کے لیے بھیجی۔‘

تیما میں موجود تاریخی نقوش کے بارے میں بات کرتے ہوئے عبدالالہ الفارس نے کہا کہ چٹانوں پرموجود تاریخی نقش ونگاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اورممکنہ اقدامات کئے گئے ہیں۔ جس علاقے میں یہ چٹانیں موجود ہیں وہ تبوک گورنری کا حصہ ہے اور نقش ونگاری کی تاریخ اموی خلیفہ ھشام بن عبدالملک کے دور کی معلوم ہوتی ہے۔

 چٹان پر ’اہل تیماء کی مغفرت فرما‘، ’ایک سو 8 ھ ماہ صیام‘، ’میں ھود بن میسرہ بن عمر ہوں‘ اور ’استغفراللہ‘ کے الفاظ درج ہیں۔

شیئر: