Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سفید اور گلابی رنگ کی پینٹنگ، عسیر کے پہاڑ بادام کے پھولوں سے سج گئے

بادام کے ایک درخت کی اوسطاً پیداوار پانچ سے چھ کلو گرام تک ہے(فوٹو،ایس پی اے)
موسمِ سرما عروج پر ہے اور بادام کے درختوں کے سفید اور گلابی پھولوں نے عسیر کے بلند و بالا علاقے کو تقریباً پوری طرح ڈھانپ لیا ہے۔
بلندی اور ڈھلوانوں سے نیچے اترتے ہوئے یہ مقامات، زراعت کے لیے جانے جاتے ہیں لیکن آج کل ایسے لگتا ہے جیسے سردیوں نے ان پہاڑوں پر سفید اور گلابی رنگ کی پینٹنگ کر دی ہو۔ اس سے ماحولیاتی تنوع اور علاقے کے قدیم زرعی ورثے کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔
بادام کے درختوں کا پھیلاؤ کئی پہاڑی مقامات پر نظر آ رہا ہے، جن میں السودہ، بلسمار، تنومہ اور النماص کی پہاڑیاں خاص طور پر نمایاں ہیں۔ ان جگہوں پر بادام کے درختوں کے لیے آب و ہوا اور فضا سازگار ہے جنھوں نے ایسے مخصوص ماحول کو جنم دیا ہے جہاں یہ درخت اپنی تمام تر رعنایوں کے ساتھ موجود ہیں۔ اس علاقے میں دہائیوں سے فصلوں کو پہاڑی ماحول سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔
حالیہ سیزن میں آب و ہوا کے انتہائی متوازن اور موزوں ہونے کی وجہ سے پھولوں کی کثرت واضح دکھائی دے رہی ہے اور توقع ہے کہ اس سیزن میں پیداوار میں اضافہ رہے گا۔

بادام کے درختوں کا پھیلاؤ کئی پہاڑی مقامات پر نظر آ رہا ہے(فوٹو، ایس پی اے)

ان علاقوں میں سیزن کے دوران بادام کے ایک درخت کی اوسطاً پیداوار پانچ سے چھ کلو گرام تک ہے۔البتہ باداموں کی قیمت، فصل کی کاشت کے مختلف مراحل میں مختلف ہو جاتی ہے۔
بادام کی کاشت سے مقامی معیشت کو تعاون حاصل ہوتا ہے جس سے کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہو جاتا ہے اور زرعی تحریک میں بھی جان پڑ جاتی ہے۔
علاوہ ازیں یہ درخت یہاں کی ماحولی سیاحت میں بھی کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ عسیر کے پہاڑی علاقوں میں پھولوں کی سائٹس کو دیکھنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔

بادام کے درختوں کی شجر کاری دیہی علاقوں میں ترقی کی کوششوں کا حصہ  ہے(فوٹو، ایس پی اے)

بادام کے درختوں کی شجر کاری دیہی علاقوں میں ترقی کی کوششوں کا ایک حصہ  ہے جس میں سبزے کو محفوظ کرنا اور زرعی میراث کا تحفظ، مملکت کے وژن 2030 کے مقامصد سے ہم آہنگ ہے۔

شیئر: