Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

العلا کا کون سا تاریخی مقام سینکڑوں نایاب قدیم تحریروں کا مسکن ہے؟

جبلِ عکمہ تحقیق کاروں کو تحقیق کے لیے ایک مستند ذریعہ فراہم کرتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
العلا میں جبلِ عکمہ کو سرکاری طور پر یونیسکو کے ’میموری آف دا ورلڈ رجسٹر‘ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس طرح اب یہ جگہیں، شمال مغربی عرب میں انتہائی اہمیت کی حامل آثارِ قدیمہ کی سائٹس کے طور پر تسلیم کر لی گئی ہیں۔
ماضی میں ان مقامات سے سینکڑوں کی تعداد میں دادانی تحریریں ملی ہیں جن کا تعلق عیسوی زمانے کے شروع ہونے سے پہلے کے ہزاریے میں ہوتا ہے اور یہ تحریریں بڑی تعداد میں ملنے والی اپنی نوعیت کی پہلی ایسی تحریروں میں شامل ہیں جنھیں محفوظ کیا گیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ تحریریں ایک کھلی لائبریری کی طرح ہیں جن میں دادانی اور لحیانی تہذیبوں کی سماجی سرگرمیوں، زبان کے تدریجی ارتقا اور ثقافتی اظہارکو باضابطہ طور پر دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

تحریری سٹائل اور بولی کو اس کے اصل مقام پر محفوظ کرنے سے، جبلِ عکمہ دراصل تحقیق کاروں کو تحقیق کے لیے ایک مستند اور بنیادی ذریعہ فراہم کرتا ہے جن سے وہ قدیم عرب سلطنتوں کی تعمیر و ترقی کے اسباب سے اچھی طرح واقف ہو سکیں۔
آثارِ قدیمہ کی ان سائٹس کا عالمی طور پر تسلیم کیا جانا، العلا کے رائل کمیشن اور تعلیم، ثقافت اور سائنس کے لیے سعودی عرب کے قومی کمیشن کے مابین سٹریٹیجک تعاون کا نتیجہ ہے۔

ان سائٹس کے یونیسکو کی فہرست میں شامل ہو جانے سے یہ انمول اور بیش قیمت علامتیں طویل عرصے کے لیے محفوظ ہو گئی ہیں۔
ان تحریروں سے جزیرہ نمائے عرب میں انسانی معاشرے کے اندر ہونے والی پیش رفت اور ارتقا کے بارے میں انسانی سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوگا۔

شیئر: