وینزویلا: امیر سے غریب ترین ملک تک

وینزویلا کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک تیل کی برآمد پر ہے
جنوبی امریکہ میں واقع تیل سے مالا مال ملک وینزویلا بدترین معاشی صورت حال سے دوچار ہے ۔ سیاسی ہنگاموں، سینٹرل بینک پر پابندیوں، افراطِ زر میں اضافے اور بنیادی ضرورتوں کے فقدان نے وینزویلا کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے ۔
ویسے تو وینزویلا دنیا کے سب سے زیادہ تیل کے محفوظ ذخائرکا مالک ہے لیکن تیل کی صنعت کے خلاف امریکی پابندیوں کی وجہ سے وینزویلا کا معاشی بحران نقطہ عروج کو چھونے لگا ہے ۔
وینزویلا کی معاشی تباہ حالی، دھماکہ خیز افراطِ زر کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے وینزویلا کی کرنسی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بے وزن ہو کر رہ گئی ہے ۔
تیل، وینزویلا کی معیشت کا مرکزی ستون
وینزویلا کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک تیل کی برآمد پر ہے۔ تیل کی پیداوار نے وینزویلا کو لاطینی امریکہ کا امیر ترین ملک بنایا اور ملک میں جمہوریت کے قدم مضبوط ہوئے تاہم تیل کی دولت عوام میں مساویانہ بنیادوں پر تقسیم نہیں ہوئی ۔
گزشتہ چند برس کے دوران وینزویلا کی معیشت انحطاط کا شکار ہوئی ہے۔ سنہ 2014 سے وینزویلا کی مجموعی پیداوار میں کمی ہونا شروع ہوگئی تھی اور تب سے وینزویلا کا سیاسی نظام ہنگاموں کی زد میں ہے ۔
وینزویلا کے صدر نکولاس میڈورو کے خلاف احتجاج روز بروزبڑھتا جا رہا ہے ۔
صدر نکولاس 2018 میں دوبارہ منتخب ہوئے تھے تاہم ان کے خلاف عوامی مظاہرے مسلسل جاری ہیں ۔
وینزویلا کے صدر پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دسیوں ممالک دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ ان میں امریکہ ، کینیڈا اور یورپ کے بیشتر ممالک شامل ہیں ۔ یہ ممالک وینزویلا کے پارلیمنٹ کے سپیکر کو ملک کا سربراہ بنانے کی مہم چلا رہے ہیں ۔
امریکی پابندیوں سے بحران
وینزویلا کی تیل برآمدات جنوری سے لے کر اب تک 40 فیصد کم ہوگئی ہیں، جب کہ امریکہ نے وینزویلا سے خام تیل کی درآمد پر پابندیاں لگا کر اسے مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے ۔
وینزویلا کی حکومت اپنے استعمال کے مطابق ایندھن درآمد کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکی ہے ۔
مارچ تک وینزویلا کی تیل کی یومیہ پیداوار کم ہو کر 732 تا 960 ہزار بیرل رہ گئی تھی ۔ اس سے قبل تیل کی یومیہ پیداوار 30 لاکھ بیرل تھی ۔
امریکی وزارت خزانہ نے اپریل میں وینزویلا کی مزید 2 آئل کمپنیوں پر پابندیاں عائد کیں ۔ علاوہ ازیں وینزویلا جانے والے پانامہ کے دو آئل ٹینکرز پر بھی پابندیاں لگا دی گئیں ۔
امریکہ نے سنہ 2018 کے دوران حصص کی ثانوی منڈی میں بانڈز کے لین دین پر پابندی کے ساتھ وینزویلا سے تیل کی رسد کو بھی پابندیوں میں شامل کیا تھا ۔
امریکہ نے وینزویلا پر مارچ میں سونا نکالنے پر بھی پابندیاں عائد کر دی تھیں اور اپریل میں وینزویلا کے سینٹرل بینک پر پابندیاں عائد کر کے امریکی کرنسی تک اس کی رسائی کی راہ میں دیوار کھڑی کر دی تھی۔
عالمی مالیاتی فنڈ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ 2019 کے دوران افراطِ زر کی شرح 10 ملین فیصد تک پہنچ جائے گی ۔ گذشتہ سال افراطِ زر 80 ہزار فیصد تک پہنچ گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے ہر10 باشندوں میں سے 9 غربت کا شکار ہیں ۔
اقتصادی اور سیاسی ریسرچ سینٹر میں مارک ویسبروٹ اور جیفری ساکس نامی دو اسکالرز نے اپریل میں جائزہ تیار کر کے بتایا تھا کہ امریکی پابندیوں سے ادویہ اور غذائی اشیاء کی فراہمی محدود ہو جائے گی جس سے40 ہزار کے لگ بھگ اموات ہوں گی ۔
سالِ رواں کے دوران تیل کی صنعت پر سخت پابندیوں سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے ۔ وینزویلا کا اقتصادی اور سماجی بحران مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ مستقبل قریب میں اس کے ختم ہونے کا امکان نظر نہیں آ رہا ۔
لاکھوں شہری ہنگاموں، خوراک، پانی، صحت، نگہداشت اور اقتصادی مسائل سے گھبرا کر ملک چھوڑ رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ وینزویلا کے 90 فیصد باشندے غربت میں مبتلا ہیں ۔

شیئر: