Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ مکرمہ میں پاکستانی عازمینِ حج کے پہلے قافلے کی آمد

مدینہ منورہ سے 651 عازمینِ حج پر مشتمل پہلا قافلہ مکہ مکرمہ پہنچ گیا جہاں ان کا پرتپاک اور منظم انداز میں استقبال کیا گیا۔
وزارت حج کے مطابق استقبالیہ تقریب میں ڈائریکٹر جنرل حج عبدالوہاب سومرو ، چیف کوآرڈینیٹر مکہ ڈاکٹر مرزا علی محسود، کوآرڈینیٹر رہائش، خوراک و ٹرانسپورٹ ذوالفقار خان، ڈائریکٹر حج مکہ عارف اسلم راو، ڈپٹی ڈائریکٹر حج عزیز اللہ خان سمیت دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
ڈی جی حج عبدالوہاب سومرو نے بتایا کہ پاکستان حج مشن نے مدینہ منورہ میں تمام عازمین کو مرکزیہ علاقے میں رہائش فراہم کی جہاں سے عازمین کو مسجد نبوی تک رسائی میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
ان کا کہنا تھا کہ مکہ مکرمہ میں بھی عازمین کے استقبال، رہائش اور رہنمائی کے تمام امور اسی منظم انداز میں جاری رہیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حج 2025 کی کامیاب تکمیل کے تجربے کی بنیاد پر رواں سال انتظامات میں مزید بہتری لائی گئی ہے۔
ان کے مطابق حج آپریشن کے تمام مراحل بشمول آمد، نقل و حرکت، رہائش اور مشاعر مقدسہ کی منتقلی کو زیادہ مربوط اور مؤثر بنایا گیا ہے۔

منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں سہولیات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’اس سال خیموں کی تیاری بروقت مکمل کر لی گئی ہے۔ منیٰ میں ایئرکنڈیشنڈ خیمے، آرام دہ صوفہ کم بیڈز اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں جبکہ ہر حاجی کو اس کے خیمے اور بستر کا نمبر پہلے سے فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ مشاعر میں پہنچنے پر کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔‘
انہوں نے کہا کہ ایک مربوط نظام کے تحت عازمین کو ان کے خیموں، راستوں اور رہائش کی مکمل تفصیلات فراہم کی جا رہی ہیں جس سے منیٰ میں منتقلی کا عمل مزید تیز ہو جائے گا۔
مکہ مکرمہ میں رہائشی انتظامات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس سال مزید بہتری لائی گئی ہے، نئے سیکٹرز شامل کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال کی معیاری عمارتوں کو بھی برقرار رکھا گیا ہے جس سے مجموعی سہولیات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نُسک کارڈ کی تقسیم اور پری ارائیول ڈیٹا مینجمنٹ کے نظام کو بھی بہتر بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں عازمین کی آمد کے ساتھ ہی ان کی رجسٹریشن اور دیگر انتظامی مراحل تیزی سے مکمل ہو رہے ہیں۔
آخر میں ڈی جی حج نے امید ظاہر کی کہ پاکستان حج مشن اس سال بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا اور انتظامی معیار کے حوالے سے کسی نہ کسی کیٹیگری میں نمایاں اعزاز حاصل کرے گا۔

شیئر: