’کھلا عجائب گھرٗ:جدہ کے تاریخی علاقے میں آخر کیا ہے؟

جدہ کے تاریخی علاقے جدہ البلد کی 56 مخدوش عمارتوں کی بحالی اور مرمت کے لیے ابتدائی طور پر پانچ کروڑ ریال کی رقم مختص کی گئی ہے۔

مرمت اور بحالی کے کام کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پہلی قسط کے طور پر  پانچ کروڑ ریال جاری کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔

اس علاقے کی بحالی کا کام سعودی نوجوان انجام دیں گے۔

خیال رہے جدہ کے اس تاریخی علاقے کو یونیسکو نے 22 جون 2014 کو عالمی ورثے میں شامل کیا تھا۔

 شاہ سلمان نے جون 2018 میں اس علاقے کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی ادارہ قائم کیا تھا جس کی تجویز ولی عہد محمد سلمان نے پیش کی تھی۔

جدہ کے اس تاریخی علاقے کی حیثیت ’کھلے عجائب گھر‘ جیسی ہے۔ یہ اسلام کی آمد سے قبل سے آباد ہے۔ خلیفہ سوم عثمان بن عفان نے 26ھ مطابق سنہ 647 میں اسے مکہ مکرمہ کی بندرگاہ بنانے کا فیصلہ کرکے اسے تاریخ کا اٹوٹ حصہ بنا دیا۔

یہ علاقہ نہایت اہم تاریخی عمارتوں اور قابل دید مقامات کا مجموعہ ہے۔ یہ مختلف محلّوں پر مشتمل ہے۔

ان محلّوں میں حارة المظلوم، حارة الشام، حارة الیمن اور حارة البحر اہم ہیں۔ یہاں تاریخی مساجد بھی پائی جاتی ہیں جن میں مسجد عثمان بن عفان، مسجد الشافعی، مسجد الپاشا، مسجد عکاش، مسجد المعمار اور جامع حنفی نمایاں ترین ہیں۔

اس علاقے میں تاریخی بازار بھی ہے جن میں العلوی، البدو، قابل اور الندیٰ نہایت اہم ہیں۔

ایک زمانے میں ان کے اطراف فصیل ہوا کرتی تھی۔ یہ علاقہ ڈیڑھ مربع کلو میٹر کے دائرے میں پھیلا ہوا ہے۔ یہاں قدیم روایتی عوامی دستی مصنوعات بھی بڑے پیمانے پر فروخت کی جاتی ہیں۔

اس علاقے میں بہت سارے بازار ہوا کرتے تھے۔ ان میں سے کئی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب ان کا کوئی نام و نشان نہیں رہا۔ بعض اب بھی موجود ہیں جن میں سوق السمک (مچھلی بازار)، سبزی اور گوشت مارکیٹ، السو ق الکبیر (بڑا بازار)، الخاسکیہ، الندیٰ الجامع، الحبابہ، الحراج، البدو، العصر، البراغیہ، السبحیہ کے نام آتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں قابل دید تاریخی مکانات پائے جاتے ہیں جن کا طرز تعمیر منفرد ہے۔ ان مکانات میں دار آل نصیف، (نصیف ہاﺅس)، دار آل جمجوم، دار آل باعشن، آل قابل، آل باناجہ اور آل الزاھد دنیا بھر میں مشہور ہیں۔
یہاں سالانہ میلے بھی لگتے ہیں اور سعودی حکومت اس کی بحالی کو قومی منصوبے کے طور پر لے رہی ہے۔

شیئر: