’افسانوی پہاڑ،جسے سر کرنا انتہائی مشکل

جبل القہر سعودی عرب کے جنوب مغربی صوبے جازان کی مشرقی کمشنری الریث میں واقع ہے۔ قدیم زمانے میں اسے ’’جبل زہوان‘‘ کہا جاتا تھا ۔ تقریباً 70 برس سے اسے جبل القہر کہا جانے لگا۔
اسے جبل القہر کا نام دینے کی بابت کئی حکایتیں بیان کی جاتی ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہاں ایک جنگ ہوئی تھی جسے حرب القہر کا نام دیا گیا۔ اسی وجہ سے علاقے کو جبل القہر کہا جانے لگا۔
دیگر کا کہنا ہے کہ یہ پہاڑ انتہائی پرخطر اور دشوار گزار ہے۔ اسے سر کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ اس تناظر میں اسے جبل القہر کہا جانے لگا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس پہاڑ پر جنات کا راج ہے اور جو شخص بھی اسے سر کرنے کی کوشش کرتا ہے جنات اسے پٹخ دیتے ہیں۔ اس وجہ سے اسے جبل القہر کہا جاتا ہے ۔

پہاڑ کے اطراف میں بہت سارے شواہد یہاں ماضی میں کسی بڑی آبادی کا پتا دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں حضرت صالح کی قوم آباد تھی۔
 دو سعودی سکالرز نے یہاں ہڈیوں کے ڈھانچے اور چمڑوں میں لپٹی ہوئی لاشیں دریافت کی ہیں۔ تین ہزار برس پرانی سمجھی جانے والی یہ لاشیں چٹانوں میں بنے کمروں میں رکھی ہوئی تھیں۔
سکالرز کا کہنا ہے کہ یہاں ڈائنو سورز کے قدموں کے نشانات بھی موجود ہیں۔ چٹانوں پر انتہائی خوبصورت نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ چٹانوں کے درمیان معلق لکڑی کے بستر بھی دریافت ہوئے۔ غاروں کی دیواروں پر عجیب و غریب جانوروں کے خاکے بنے ہوئے ہیں۔
عوامی رقص کے خاکے بھی نظر آتے ہیں۔ سکالرز کو یہاں سنگی عمارتوں کے اندر اجتماعی قبریں بھی ملی ہیں۔ عمارتیں سطح ارض سے 20 میٹر اونچی ہیں۔ بچوں کی چھوٹی چھوٹی قبریں بھی پائی گئی ہیں۔

جبل القہر کا عجیب و غریب غار

 مقامی باشندے کہتے ہیں کہ یہاں ایک چٹان میں دیوہیکل شگاف پڑا ہوا ہے۔ حضرت صالح کی اونٹنی اسی چٹان سے نکلی تھی ۔ چٹان پر ایک نشان کی بابت دعوٰی کیا جارہا ہے کہ وہی اونٹنی کے بچے کی پیدائش کا مقام ہے۔         
چٹان کے پہلو میں ایک چھوٹا سا سنگی مکان بنا ہوا ہے۔ ایک ہی پتھر سے بنی اس عمارت کو ثمودی قبیلے کا تاریخی مکان سمجھا جاتا ہے۔

قریب ہی ایک بڑا غار ہے جو عجوبہ روزگار کی حیثیت رکھتا ہے۔ غار کی دیواروں پر ہاتھوں کے نو نشانات پیوست ہیں۔ انگلیوں کے اطراف سرخ نشانات پڑے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ خون کے نشان ہیں اور پختہ ہیں لہٰذا انہیں مٹایا نہیں جاسکتا۔ اگر کوئی شخص انہیں چھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں پر سرخ رنگ چڑھ جاتا ہے۔
مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ کچھ افراد نے غار کی دیوار پر موجود نشانات کو مٹانے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔ بعض لوگوں نے تو نشان مٹانے کے لیے گولیاں بھی استعمال کیں۔ مقامی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جب بھی مذکورہ نشانات کو مٹانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ مزید نمایاں ہو گئے۔

دیوار پر انگلیوں کے نشانات کی کہانی کیا ہے؟

مقامی باشندے بتاتے ہیں کہ یہ حضرت صالح کی اونٹنی کو ہلاک کرنے والے نو بدبختوں کی انگلیوں کے نشانات ہیں۔ یہ نشانات قدار بن سالف، مصدع، اس کے بھائی حرابا، رعینا، داوود (بتوں کا خادم) المصرد، مفرج اور کثیر کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے۔
'نو افراد کا گروہ زمین میں فساد برپا کرنے والوں کا ہے اور یہ ٹھیک ہونے والے نہیں۔' 
غار کی دیوار کے نیچے دو قبریں بنی ہوئی ہیں ۔ ان میں سے ایک بڑی ہے۔ قبر کے اندر مکمل ڈھکی ہوئی میت رکھی ہے۔ اس کے اطراف بہت ساری کھوپڑیاں اور ہڈیاں بکھری ہوئی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبر میں متعدد لوگوں کو ایک ساتھ دفنایا گیا ہوگا۔ مقامی باشندوں کا خیال ہے کہ یہ میتیں حضرت صالح کی اونٹنی کو ہلاک کرنے والوں کی ہو سکتی ہیں ۔
غار کے نیچے ایک بڑا سا گڑھا ہے جس میں ایک پتھر پر آگ جلانے کے نشانات بنے ہوئے ہیں۔ اسی جگہ ہاتھوں کی انگلیوں کے نشانات ہیں۔ یہاں ایسی جگہ بھی ہے جہاں سے اونٹنی جیسی آواز برآمد ہوتی ہے۔

 نیا مفروضہ

مقامی باشندوں کا مفروضہ بالکل بے سند نہیں۔ ہادی علی ابو عامریہ نامی ایک سکالر مقامی لوگوں کی باتوں کی تائید کرتے ہیں۔ ہادی ابو عامریہ کے مفروضے کے خلاف ماہرین آثار قدیمہ نے بہت کچھ لکھا ہے۔
ماہرین کا دعویٰ ہے کہ قوم ثمود جبل القہر میں نہیں بلکہ مدائن صالح میں حجر کے علاقے میں آباد تھی۔
ابو عامریہ کا کہنا ہے کہ ’’القہر پہاڑ کی ڈھلوان قدرتی اثرات کا نتیجہ نہیں بلکہ کسی کاریگر کی کارستانی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی بنیاد پر مذکورہ مقام کا مطالعہ شروع کیا۔ مقامی لوگوں نے یہاں کے چار قابل دید مقامات کی بابت کہانیاں سنائیں۔

جبل مشقوق

پہلا مقام جبل مشقوق ہے جہاں اونٹنی کی آواز جیسی صدا قریب سے سنائی دیتی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ حضرت صالح کی اونٹنی کے بچے کی آواز ہے۔
نشانات والی چٹان
دوسرا مقام وہ چٹان ہے جس پر نو انسانوں کے ہاتھوں کے نشانات پڑے ہوئے ہیں۔ 
اونٹ کے قدموں کے نشان
تیسرا مقام وہ چٹان ہے جس پر اونٹ کے قدموں کے نشان نمایاں ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ حضرت صالح کی اس اونٹنی کے نشان ہیں جو چٹان سے برآمد ہوئی تھی۔
چٹان کا فرش
چوتھا مقام چٹان کا سرخ فرش ہے۔ کہتے ہیں کہ 'حضرت صالح کی اونٹنی کو اسی جگہ ہلاک کیا گیا تھا۔ ابو عامریہ کہتے ہیں کہ مقامی لوگوں کے مذکورہ چاروں مقامات کی بابت دعوؤں نے مجھے جبل قہر کے نقوش کے جائزے پر آمادہ کیا۔' 
ابو عامریہ کے مطابق 'چٹانوں پر مرتسم نقوش اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ کتابت کی دریافت سے قبل یہاں کوئی متمدن قوم آباد رہی ہوگی ۔ معجزانہ سنگ تراشی دیکھ کر مجھے یقین ہے کہ مذکورہ نقوش اللہ کے نبی حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ہی کے ہوں گے۔ یہ سنگ تراشی قوم ثمود کا لازوال کارنامہ ہے ۔ قوم ثمود کے لوگ پہاڑوں کو تراش کر شاندار محل تیار کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے مشہور تھے۔'

ابو عامریہ مزید کہتے ہیں 'جو شخص بھی جبل قہر کو دیکھے گا اسے صاف نظر آئے گا کہ مذکورہ پہاڑ خوفو کے حرم کی طرح بلند و بالا ہے۔ جبل القہر چوٹی سے لے کر نیچے تک تراشا ہوا ہے۔ دیکھنے والے کو اپنے سامنے ایک دوسرے سے ملی ہوئی دو چٹانیں نصب نظر آئیں گی۔ سیر کے لیے آنے والا وادی پر سایہ فگن چٹان پر بیٹھ کر اپنا سر پہاڑ کی طرف اٹھائے گا تو اسے وہ ایک سائبان کی طرح نظر آئے گا۔'
ابو عامریہ کا دعویٰ ہے کہ دونوں چٹانیں انتہائی دقیق حساب سے پہاڑ کے سامنے نصب کی گئی ہیں۔ بلا شبہ غار والے اس پہاڑ کا کام بارش سے بچاؤ نظر آتا ہے۔ دونوں چٹانیں آگے کی جانب اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی ہیں جو شخص وادی کی طرف واقع چٹان پر بیٹھتا ہے اور ہوا تیز چل رہی ہوتی ہے تو بارش کی پھوار اس پر پڑتی ہے۔ اگر وہ دوسری چٹان پر جو پہلی سے ایک بالشت کے فاصلے پر ہے بیٹھتا ہے تو اس پر بارش کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ پہاڑ کے دامن یا دونوں چٹانوں کے درمیان بیٹھنے والے مکمل طور پر بارش سے محفوظ رہتے ہیں۔
ابو عامریہ کا کہنا ہے کہ جبل القہر کے پڑوس میں کھیتی باڑی کرنے والے مکئی کی فصل کاٹ کر جبل القہر میں محفوظ کر دیتے ہیں تاکہ وہ خشک ہو جائے اور بارش سے محفوظ رہے۔ اسے ہوا اس انداز سے لگتی رہے جیسا کہ وہ کھلے میدان میں رکھ دی گئی ہو۔ یہ سوچ یہاں نسل در نسل آنے والے لوگوں کی ہے۔
ابو عامریہ کے بقول 'نقش و نگار ہمیں رنگین لوحوں پر مرتسم شکل میں نظر آتے ہیں۔ بعض رنگین ہیں اور کئی رنگین نہیں ہیں۔ یہ مشرق کی جانب بھی ہیں اور شمال کی جانب بھی ۔ یہ چٹانیں یا چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں میرے نقطہ نظرسے باقاعدہ تراشیدہ ہیں، یہ منقش لوحیں ہیں۔ ایک لوح گھڑ سوار کی کہلاتی ہے ۔' 
ان کا ماننا ہے کہ یہ لوحیں اتنی ہی پرانی ہیں جتنا کہ ان کا نمائندہ قدیمی تمدن ہے۔ ’مجھے لگتا ہے کہ یہ تمدن کم از کم پانچ ہزار سال پرانا ہو گا۔‘

شیئر: