آبپارہ بازار نہیں بلکہ ایک لڑکی کا نام ہے!

آبپارہ اب کہاں ہے؟
بابوؤں کے شہراسلام آباد میں نئے آنے والوں کو سب سے پہلے جس جگہ کی تلاش ہوتی ہے، وہ ہے ایک عوامی بازار، جہاں سے ضرورت کی ہر چیزسستے داموں مل جائے۔
عموماً جب بھی کوئی نووارد کسی پرانے باسی سے ایسے کسی بازار کا پوچھتا ہے جہاں پرہرشے مناسب قیمت پر دستیاب ہو تو وہ اس کو آبپارہ بازار کا پتہ بتاتا ہے۔ 
آبپارہ کا لفظ سنتے ہی خیال آتا ہے کہ یہ بھلا بازار کا نام کیسے ہو سکتا ہے، آب یعنی پانی اور پارہ مطلب ٹکڑا یا حصہ۔ ذہن ٹامک ٹوئیاں مارتا ہے اور پھر یہ سوچ کر کسی اور خیال میں گم ہو جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے کسی زمانے میں یہاں پانی کا کوئی چشمہ ہو۔
لیکن ایسا نہیں ہے، آبپارہ درحقیقت اسلام آباد میں پیدا ہونیوالی پہلی بچی ہے جس کی پیدائش کا اندراج دارالحکومت کے سرکاری ادارے میں کروایا گیا۔

جی سکس سیکٹر میں واقع فائربریگیڈ کی عمارت تعمیر کے مراحل میں 

آبپارہ کا نام کیسے پڑا؟

قصہ کچھ یوں ہے کہ  سال 1960 میں  پاکستان  کے اس وقت کے فوجی  سربراہ جنرل ایوب خان نے جب راولپنڈی کے قریب نیا دارالحکومت اسلام آباد بنانے کا فیصلہ کیا تو کراچی سے سرکاری ملازمین کو یہاں آباد کیا گیا، جن کے لیے سیکٹر جی سکس میں سرکاری مکانات تعمیر کیے گئے۔ ان سرکاری مکانات کے ساتھ لوگوں کی سہولت کے لیے مارکیٹ بھی تعمیر کی گئی۔
کراچی سے آنے والے سرکاری ملازمین میں ایک بڑی تعداد اس وقت کے  مشرقی  پاکستان  (موجودہ  بنگلہ  دیش)  کے  شہریوں کی بھی تھی، جو وفاقی اداروں میں ملازمت کر رہے تھے۔
ان کی اسلام آباد منتقلی کے بعد مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری ملازم کے گھر ایک بچی نے جنم لیا جن کا کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (میونسپلٹی) میں اندراج آبپارہ کے نام سے کروایا گیا۔

آبپارہ مارکیٹ کی حالیہ تصویر

آبپارہ نئے وفاقی دارالحکومت میں رجسٹرڈ ہونے والی پہلی بچی تھی، سو اس کی مناسبت سے اس کے رہائشی علاقے کی مارکیٹ کا نام آبپارہ رکھ دیا گیا، جو بعد میں پھیلتی پھولتی اسلام آباد کے اوسط طبقے کا ایک بڑا آبپارہ بازار بن گئی۔
سی ڈی اے (کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی)  کے  ترجمان  سید  صفدر علی کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں رجسٹر ہونے والی اس پہلی بچی کی پیدائش کی بہت خوشی منائی گئی اور اس کی باقاعدہ تصاویر لے کر ان کو ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔

آبپارہ مارکیٹ کی ایک پرانی تصویر 

آبپارہ اب کہاں ہے؟

آبپارہ  کا  خاندان 1960 کی دہائی میں اسلام آباد میں آباد ہوا تھا لیکن بنگلہ  دیش کے قیام کے بعد وہ مشرقی پاکستان کے بہت سے دوسرے شہریوں کی طرح اپنے نئے ملک چلے گئے۔
آبپارہ کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں کہ وہ اب زندہ بھی ہے یا نہیں۔
اب صرف ان کی یادیں رہ گئی ہیں۔
آبپارہ مارکیٹ کے  انجمن  تاجران کے صدر محمد اجمل بلوچ کہتے ہیں کہ  سیکٹر جی سکس میں اب صرف بنگالی شہریوں کی یادیں رہ گئی  ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’بنگلہ  دیش بن جانے کے بعد یہاں پر موجود بنگالی شہریوں کی دکانیں اب وفاقی  ڈویژن کے زیرانتظام ہیں۔‘
اجمل بلوچ نے ’اردونیوز‘  کو بتایا کہ 1970 کی دہائی کے بعد بھی آبپارہ کے کچھ رشتہ دار سیکٹر جی سکس میں رہتے رہے ہیں، جو آکر اس کے بارے میں بتاتے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جب بے  نظیربھٹووزیراعظم بنیں تو مجھے آبپارہ کے خاندان  کی ایک خاتون نے خوشی میں مٹھائی کھلائی اورمجھے کہا کہ بےنظیر بڑا افسر بن گیا ہے۔‘
اجمل بلوچ کا آبپارہ کے رشتے داروں کے بارے میں کہنا تھا کہ ’ان کا یہ میٹھا لہجہ بہت بھلا معلوم ہوتا تھا!‘

شیئر: