آئین میں نائب وزیراعظم کی گنجائش نہیں: شاہ محمود قریشی

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جہانگیر ترین کے بطور ڈیفیکٹو نائب وزیراعظم بننے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں اس عہدے کی کوئی گنجائش نہیں۔
’اردونیوز‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویوکے دوران ان خبروں سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’آئین پاکستان کے مطابق صرف ایک وزیراعظم ہوتا ہے اور وہ عمران خان صاحب ہیں۔ کیا اس کی کوئی گنجائش ہے،کیا آئینی گنجائش ہے،  قانونی گنجائش ہے، نہ کوئی گنجائش ہے، نہ ضرورت ہے اور نہ کوئی ہے۔‘
انہوں نے عید کے بعد اپوزیشن کی طرف سے مہنگائی کے خلاف متوقع سیاسی تحریک کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ توجمہوریت کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ملک کے۔

جہانگیر ترین کی کابینہ کے اجلاس میں شرکت پر حزب اختلاف نے تنقید کی تھی

’تحریک کا جواز نہیں ہے، تحریک چلانا میں سمجھتا ہوں نہ جمہوریت کے مفاد میں ہے اور نہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اور اس تحریک کی کامیابی کا انحصار تو عوام پر ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ عوام اب بہت سمجھدار ہیں۔‘
’مہنگائی سے کون تنگ نہیں ہے، مہنگائی سے تو ہر انسان تنگ ہو گا، جب بھی مہنگائی ہو گی، ہم سب تنگ ہوں گے لیکن سوال یہ ہے کہ سڑکوں پر آنے سے مہنگائی چلی جائے گی۔ عوام کو سوچنا یہ ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں۔ یہاں تک نوبت پہنچی کیوں، کن کی وجہ سے نوبت پہنچی، اور پھر اگر سڑک پر آنے سے مہنگائی ختم ہو جاتی ہے تو کل میں بھی  نکل آتا ہوں۔‘  
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو عمران خان کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کرتے اوران (عمران خان) کی موجودگی میں خود کو ان کا متبادل کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ 

 

شیئر: