Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تینوں صوبوں سے افغانوں کو نکالا جبکہ خیبر پختونخوا میں تحفظ دیا: محسن نقوی

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ تینوں صوبوں سے افغانوں کو نکالا جا رہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں ان کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔
پیر کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد خودکش حملے کے علاوہ کیڈٹ کالج پر حملے میں بھی افغان ملوث تھے جبکہ ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں افراد بھی افغان نکلے۔
انہوں نے کہا کہ افغانوں کو واپس بھجوانے کے حوالے سے خیبر پختونخوا میں صورت حال مختلف ہے اور وہاں سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔
ان کے مطابق غیرقانونی طور پر مقیم افغان خود ہی عزت کے ساتھ واپس چلے جائیں۔
یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ ہم کسی افغان شہری کو واپس بھجیں وہ واپس آئے اور پھر واپس بھجیں، اب اس کو گرفتار کیا جائے گا اور اس کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’مزید بم دھماکے افورڈ نہیں کر سکتے، ہر صورت ان کو واپس بھیجیں گے۔‘ محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا میں افغان کیمپ ختم کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں کو واپس بھیجنے میں کامیاب ہو رہے اور سب کو ہر حال میں بھیجیں گے۔
’جتنے بھی حملے ہوئے ان میں افغان ملوث ہیں اور سارے خودکش حملہ آور افغانستان سے آ رہے ہیں۔‘
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آج جو ہفتہ شروع ہوا اس سے ایس ایچ اوز کی ذمہ داری لگائی جا رہی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں غیرقانونی طور پر مقیم افغانوں کو ڈھونڈیں اور ان کو ہر حال میں واپس بھجوانا ہے۔
’ہم خیبر پختونخوا کی حکومت کو بھی بار بار یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اس وقت ضروری بات یہ ہے کہ آپ پہلے اپنے ملک کا سوچیں، اس کے بعد اپنی سیاست کریں۔‘
ان کے مطابق ’ایک طرف ملک استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، معیشت بہتر ہو رہی ہے اور دوسری طرف ہم یہ دھماکے افورڈ نہیں کر سکتے۔‘
تمام آئی جیز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ تمام ڈیٹا اکٹھا کریں اور ایس ایچ اوز کو ذمہ داری سوپنیں اور گراس روٹ لیول پر کام شروع کریں۔
محسن نقوی نے سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی کی بھی تصویر لگا اور فیک نیوز بنا کر چلانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس بارے میں آج صبح وزیر اطلاعات سے بات ہوئی ہے، ایسی سرگرمیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
’اگر ثبوت موجود ہیں تو خبر دیں لیکن اگر نہیں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی زندہ کو مار دیں اور کسی مرے ہوئے کو زندہ کر دیں اور کوئی آپ کو کچھ نہ کہے۔‘

 

شیئر: