خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے: بیرسٹر عقیل ملک
اتوار 30 نومبر 2025 21:23
سہیل آفریدی نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں کارکردگی ہے تو ہمیں تین مرتبہ حکومت ملی۔‘ (فوٹو: پی ٹی آئی)
وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے گورنر راج نافذ کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
اتوار کو جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں ان سوال کیا گیا کہ کیا خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگایا جا رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’صوبے کے معاملات مشکل حالات سے گز رہے ہیں، وہ دہشت گردی ہو یا گورننس۔ ان چیزوں پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’صوبے کی سکیورٹی اور گورننس میں وہاں کے وزیراعلیٰ بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ نہ وہ وفاق کے ساتھ رابطہ رکھنا چاہتے ہیں اور جہاں انہیں ایکشن لینا چاہیے وہاں بھی مشاورت نہیں کرتے۔‘
’حالات اسی (گورنر راج) کی طرف جا رہے ہیں اور یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہے جب بھی ضرورت ہوئی ہے آئینی اقدامات کیے گئے ہیں۔‘
عقیل ملک نے کہا کہ ’صوبے کے جو حالات ہیں وہ اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ وہاں یہ اقدام کیا جائے تاکہ وہاں ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ ہو جو فائدہ پہنچائے۔‘
ان سے پوچھا گیا کہ صوبے میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ ہو چکا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’آرٹیکل 232 کے تحت یہ صدر پاکستان کا استحقاق ہے اور وزیراعظم کی ایڈوائس پر ہونا ہے اور وفاقی حکومت اس پر سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔‘
’صوبے کو کب تک بے یاور مددگار چھوڑیں گے۔ گورنر راج شدید ضرورت کی صورت میں لگایا جاتا ہے، صوبے کے حالات اس کا تقاضا کر رہے ہیں۔‘
عقیل ملک نے کہا کہ ’ابتدائی دور پر اس کی مدت دو ماہ ہوتی ہے لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے اس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔‘
دوسری طرف اتوار کو پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی صوبے میں کارکردگی کے حوالے سے کہا کہ ’ہمارے ہاتھ سے آدھا خیبر پختونخوا نہیں گیا یہاں کارکردگی ہے تو ہمیں تین مرتبہ حکومت ملی۔‘
’کارگردگی سے متعلق سوال تو وفاقی حکومت سے کرنا چاہیے، 25 لاکھ سے زائد لوگ پاکستان چھوڑ کر جاچکے ہیں، کاروباری طبقہ ملک چھوڑ رہا ہے پریشان ہے۔‘
