Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے: بیرسٹر عقیل ملک

سہیل آفریدی نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں کارکردگی ہے تو ہمیں تین مرتبہ حکومت ملی۔‘ (فوٹو: پی ٹی آئی)
وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے گورنر راج نافذ کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
اتوار کو جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں ان سے سوال کیا گیا کہ کیا خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگایا جا رہا ہے تو ان سے کا کہنا تھا کہ ’صوبے کے معاملات مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، وہ دہشت گردی ہو یا گورننس۔ ان چیزوں پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’صوبے کی سکیورٹی اور گورننس میں وہاں کے وزیراعلیٰ بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ نہ وہ وفاق کے ساتھ رابطہ رکھنا چاہتے ہیں اور جہاں انہیں ایکشن لینا چاہیے وہاں بھی مشاورت نہیں کرتے۔‘
’حالات اسی (گورنر راج) کی طرف جا رہے ہیں اور یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہے جب بھی ضرورت ہوئی ہے آئینی اقدامات کیے گئے ہیں۔‘
عقیل ملک نے کہا کہ ’صوبے کے جو حالات ہیں وہ اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ وہاں یہ اقدام کیا جائے تاکہ وہاں ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ ہو جو فائدہ پہنچائے۔‘
ان سے پوچھا گیا کہ صوبے میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ ہو چکا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’آرٹیکل 232 کے تحت یہ صدر پاکستان کا استحقاق ہے اور وزیراعظم کی ایڈوائس پر ہونا ہے اور وفاقی حکومت اس پر سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔‘
’صوبے کو کب تک بے یاور مددگار چھوڑیں گے۔ گورنر راج شدید ضرورت کی صورت میں لگایا جاتا ہے، صوبے کے حالات اس کا تقاضا کر رہے ہیں۔‘
عقیل ملک نے کہا کہ ’ابتدائی طور  پر اس کی مدت دو ماہ ہوتی ہے لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے اس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔‘
دوسری طرف اتوار کو پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی صوبے میں کارکردگی کے حوالے سے کہا کہ ’ہمارے ہاتھ سے آدھا خیبر پختونخوا نہیں گیا یہاں کارکردگی ہے تو ہمیں تین مرتبہ حکومت ملی۔‘

صدر مملکت ایمرجنسی نافذ کر کے گورنر راج لگا سکتے ہیں (فوٹو: اے پی پی)

کارگردگی سے متعلق سوال تو وفاقی حکومت سے کرنا چاہیے، 25 لاکھ سے زائد لوگ پاکستان چھوڑ کر جاچکے ہیں، کاروباری طبقہ ملک چھوڑ رہا ہے پریشان ہے۔‘
گورنر راج کیا ہے اور آئین میں گورنر راج کے نفاذ کا کیا طریقہ کار ہے؟
گورنر راج دراصل کسی صوبے کا نظام حکومت براہ راست وفاقی حکومت کے سپرد کرنے کا نام ہے۔ یاد رہے کہ صوبائی گورنر وفاقی حکومت کے نمائندے ہوتے ہیں جنہیں وزیراعظم کی ہدایت پر صدر مملکت براہ راست تعینات کرتا ہے۔ 
آئین کے آرٹیکل 32، 33 اور 34 میں گورنر راج کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے۔ گورنر راج کے دوران بنیادی انسانی حقوق بھی معطل کر دیے جاتے ہیں اور صوبائی اسمبلی کے اختیارات قومی اسمبلی اور سینیٹ کو تفویض کردیے جاتے ہیں۔
کسی صوبے میں ایمرجنسی کی صورت میں گورنر راج نافذ کیا جاسکتا ہے مگر اٹھارہویں ترمیم کے تحت گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی اسمبلی کی منظوری سے مشروط کردیا گیا ہے جس کے بعد وفاقی حکومت کے لیے آسان نہیں کہ کسی صوبے میں مخالف جماعت کی حکومت کا اثر ختم کرنے کے لیے گورنر راج نافذ کرے۔
آئین کی شق 232 کے مطابق اگر ملک کی سلامتی، جنگ یا کسی اندرونی اور بیرونی خدشے کے پیش نظر خطرے میں ہو اور اس کا سامنا صوبائی حکومت نہ کرسکتی ہو تو صدر مملکت ایمرجنسی نافذ کر کے گورنر راج لگا سکتے ہیں۔
تاہم اس کی شرط یہ ہے کہ متعلقہ اسمبلی اس کی سادہ اکثریت قرارداد کے ذریعے منظوری دے۔ اگر متعلقہ اسمبلی سے منظوری نہ ملے تو پھر دس دن کے اندر اس کی قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔
ہنگامی حالت کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد صدر کو بھیجی جائے گی۔ اگر صدر خود ہنگامی حالت نافذ کرتا ہے تو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سامنے توثیق کے لیے پیش کرنے کا پابند ہوگا۔

 

شیئر: