نریندر مودی مراقبے میں کیوں چلے گئے؟

انڈین وزیراعظم نریندر مودی مراقبے کی حالت میں (تصویر اے این آئی)
انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابات کے آخری مرحلے میں ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے روحانی وقفہ لیا ہے۔
انتخابات کے آخری دن کے موقع پر 68 سالہ نریندر مودی نے شمالی ریاست اتھراکنڈ کے ایک مقدس غارمیں مراقبہ کیا اس مراقبے کے لیے انہوں نے نارنجی رنگ کا پوشاک پہنا ہوا تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق غار کے اندر مراقبہ کرتے ہوئے نریندر مودی کی تصویریں لی گئی ہیں جس میں وہ بیڈ پر مراقبے کی حالت میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

انڈین وزیراعظم نے کیدرناتھ زیارت کی جانب جاتے ہوئے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر تصویریں بھی شیئر کی ہیں جس پران کے 47.3 ملین فالوورزہیں۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انہوں نے الیکشن کمیشن سے اس روحانی وقفے کے لیے خصوصی اجازت نامہ لیا ہے، انتخابی ضابطہ اخلاق کے مطابق ووٹ ڈالنے سے 48 گھنٹے قبل سیاسی مہم نہیں چلائی جا سکتی۔
سنہ 2014 میں دائیں بازو کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کو حکومت میں لانے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی دوسری دفعہ الیکشن جینتے کی کوشش میں ہیں۔ ملک کی 80 فیصد کے قریب اکثریتی آبادی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے نریندر مودی خود کو ایک ہندو قوم پرست کے طور پر سامنے لائے ہیں۔

نریندر مودی نے مارچ کے مہینے سے اپنی سیاسی مہم شروع کی ہے اور ان کو ایک دن میں تین، تین انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ نے گذشتہ جمعہ کو کہا تھا کہ ’ وزیر اعظم نریندر مودی نے 142 عوامی اجتماعات سے خطاب کیا ہے، اسی طرح چار روڈ شوز کے علاوہ ایک اندازے کے مطابق انہوں نے براہ راست 15 ملین لوگوں سے خطاب کیا ہے۔‘
انڈیا کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے 900 ملین کے قریب لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، ان انتخابات کے نتائج 23 مئی کو سامنے آئیں گے۔

شیئر: