پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جمعے کو بسنت کو سرکاری سرپرستی، حفاظتی انتظامات اور اہتمام کے ساتھ بھرپور انداز میں منایا جا رہا ہے۔ لاہور میں پتنگ بازی کی نہ صرف اجازت دی گئی ہے بلکہ اس موقع پر اربوں روپے کی خرید و فروخت، سیاحت اور ثقافتی سرگرمیوں کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔
تاہم اسی صوبے کے دیگر بڑے شہروں خصوصاً راولپنڈی اور جڑواں شہر اسلام آباد میں یہی تہوار قانون کی گرفت، گرفتاریوں اور مقدمات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جس نے شہریوں کو تذبذب میں مبتلا کیا ہے۔
حکومت کے ترجمانوں کے مطابق لاہور میں مقامی تہوار کی بحالی کی جا رہی ہے۔ یہ تہوار حکومتی نگرانی میں تیار کیے گئے ڈور اور گڈے کے ذریعے منایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
حکومت کا کہنا ہے کہ لاہور میں استعمال ہونے والا پتنگ بازی کا سامان محفوظ ہے اور اس سامان پر حکومت کی مکمل نظر ہے اور اسے ٹریس بھی کیا جا سکتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مخصوص شہروں میں اجازت دی جا سکتی ہے اور یہ اجازت لاہور کی طرز پر محفوظ پتنگ بازی کا سامان تیار ہونے کے بعد دی جائے گی۔ ایسا سامان نہ صرف حکومتی طور پر قابلِ نگرانی ہوگا بلکہ غیر قانونی اور خطرناک ڈور کے استعمال کی نشاندہی بھی ممکن بنائے گا۔
راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ ’بسنت سے قبل ہی شہر میں ایک منظم آگاہی مہم کا آغاز کیا گیا تھا جو کئی روز تک جاری رہی۔ اس مہم کے دوران پولیس موبائلوں کے ذریعے گلی محلوں میں اعلانات کیے گئے، مساجد کے لاؤڈ سپیکرز سے شہریوں کو خبردار کیا گیا، اہم مقامات پر بینرز آویزاں کیے گئے اور پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے واضح پیغامات جاری کیے گئے کہ راولپنڈی میں پتنگ بازی تاحال غیر قانونی ہے اور اس کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی گئی۔‘
پولیس حکام کے مطابق ’شہریوں کو پہلے ہی یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ اگر کسی چھت سے پتنگ بازی کی گئی تو نہ صرف پتنگ اڑان والے بلکہ مکان یا چھت کے مالک کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

کئی شہریوں نے پولیس کے اعلانات اور آگاہی مہم کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کی تصدیق بھی کی ہے۔
اس پیشگی آگاہی کے بعد گزشتہ دو سے تین روز کے دوران راولپنڈی پولیس نے عملی طور پر کریک ڈاؤن شروع کیا، جس کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے، متعدد پتنگ فروشوں اور ڈور تیار کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، بڑی تعداد میں پتنگیں اور خاص طور پر خطرناک ڈور برآمد کی گئی جبکہ کئی افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔
انہی کارروائیوں کے دوران ایک واقعہ سامنے آیا جس میں کم عمر بچے کے پتنگ اڑانے پر اس کے والد کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔
پولیس کے ترجمان کے مطابق ’مختلف کارروائیوں کے دوران درجنوں ایف آئی آرز درج کی گئیں، متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ مجموعی طور پر ہزاروں کی تعداد میں پتنگیں اور بھاری مقدار میں ڈور برآمد ہوئیں، ان میں کیمیکل اور دھاتی ڈور بھی شامل تھی۔‘
راولپنڈی پولیس حکام کے مطابق بعض کارروائیاں بڑی سپلائی چین کے خلاف بھی کی گئیں جہاں ایک ہی کارروائی میں قریباً 20 ہزار پتنگیں اور 100 کے قریب ڈور کی ریلیں برآمد ہوئیں جبکہ دیگر علاقوں میں چھاپوں کے دوران پچاس ہزار سے زائد پتنگیں اور ہزاروں ڈوریں قبضے میں لی گئیں۔

پولیس ترجمان نے واضح کیا کہ ’یہ کارروائیاں کسی ایک دن یا کسی مخصوص واقعے تک محدود نہیں بلکہ شہر بھر میں جاری ایک منظم مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد انسانی جانوں کا تحفظ ہے.‘
اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے؟
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ اسلام آباد پولیس نے بسنت کے پیش نظر نہ صرف پیشگی آگاہی مہم چلائی بلکہ حالیہ دنوں میں کارروائیوں کے دوران ضبط کی گئی پتنگیں اور ڈور باقاعدہ طور پر تلف بھی کیں۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران بھاری مقدار میں پتنگیں اور بالخصوص دھاتی اور کیمیکل ڈور برآمد ہوئی، جسے انسانی جانوں کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے ضابطے کے مطابق تلف کیا گیا۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق ’شہر کے مختلف سیکٹرز میں کارروائیوں کے دوران 50 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 10 ہزار سے زائد پتنگیں اور بڑی مقدار میں خطرناک ڈور برآمد کر کے موقعے پر ہی تلف کی گئیں۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں پتنگ بازی کے باعث ہونے والے جان لیوا حادثات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جا رہی۔‘
پولیس حکام کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں درج مقدمات متعلقہ قوانین کے تحت کیے جا رہے ہیں اور شہریوں کو مسلسل آگاہ کیا جا رہا ہے کہ حکومتی اعلان کے بغیر پتنگ بازی غیر قانونی ہے۔
راولپنڈی پولیس نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری بیانات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ کارروائیاں اچانک یا کسی مخصوص دن کے لیے نہیں بلکہ ایک تسلسل کا حصہ ہیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق ’جب تک حکومتِ پنجاب کی جانب سے پتنگ بازی کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان یا پالیسی سامنے نہیں آتی، راولپنڈی میں موجودہ قانون پر عمل درآمد جاری رہے گا اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی‘۔
![]()











