بچوں کو حفاظتی ٹیکہ لگوائیں، 200 روپے پائیں

قبائلی علاقوں میں پچاس فیصد بچوں کو حفاظی ٹیکے لگوانے کی ضرورت ہے
صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کے بچوں کے لیے چھ بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے حکومت نے ہر بچے کو ٹیکا لگوانے پر 200 روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے سرکاری اہلکاروں کے مطابق سابق فاٹا کی آبادی تقریباً 50 لاکھ ہے جس میں دو سال سے کم عمر بچوں کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار ایک سو کے قریب ہے۔
ایکسپنڈڈ پروگرام فارایمیونائزیشن کے اہلکاروں نے ’اردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سابق فاٹا کے یہ بچے ان کا ہدف ہیں اور اس کے لیے حکومت نے 140 ملین روپے مختص کیے ہیں۔
ایکسپنڈڈ پروگرام فارایمیونائزیشن یا ای پی آئی کے پروگرام منیجر ڈاکٹر صاحبزادہ محمد خالد کا کہنا ہے کہ ’اس وقت سابق قبائلی اضلاع میں تقریباً پچاس فیصد بچے ہیں جو چھ کے چھ ٹیکے لگواتے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ شرح بہت کم ہے اور 2020 تک حکومت نے ٹارگٹ رکھا ہے کہ یہ شرح 50 فی صد سے بڑھا کر 80 فیصد تک لے جائی جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ سابق فاٹا میں صحت کے مراکز دور واقع ہیں اور والدین کے لیے بچوں کو ٹیکے لگوانا مشکل ہوجاتا ہے۔
حفاظتی ٹیکے لگانے پر رقم دینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سہولت صرف ان والدین کو فراہم کی جائے گی جو اپنے بچوں کو صحت کے مراکز میں ٹیکے لگوائیں گے،اس ساری کوشش کا مقصد صرف اور صرف اپنا ٹارگٹ حاصل کرنا ہے جو ہمیں یقین ہے کہ 2020 تک حاصل ہو جائے گا اور بچے چھ مختلف بیماریوں کے حملے سے بچ جائیں گے۔‘
ای پی آئی شیڈول کے مطابق دو سال سے کم عمر کے ہر بچے کو چھ حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں اس ویکسین کے ذریعے بچوں کو بیماریوں سے بچانا ہوتا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ایک طرف ویکسین کی کوریج پر مثبت اثرات اور دوسری طرف موت کی شرح اور امراض میں کمی پر اچھا اثر پڑے گا۔
 ڈاکٹر صاحبزادہ محمد خالد کے مطابق اس قسم کے اقدامات سے معاشرے میں میں مثبت تبدیلی آئے گی اور والدین اپنے بچوں کو بیماریوں کے خلاف ویکسین بھی دیں گے۔

شیئر: