’گذشتہ 30 سال سے ٹی وی نہیں دیکھا‘

پاکستان کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام فساد کی جڑ ہے اور نظام تعلیم میں تفریق معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔
ستمبر سنہ 2015 میں ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی میڈیا ہاؤس کو اپنے پہلے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ایک مراعات یافتہ طبقہ ہے جو سرکار کے خرچ پر پل رہا ہے۔
’اردو نیوز‘ کو انٹرویو میں سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں تعلیم کا کوئی معیار ہے اور نہ ہی حکومت کا اس طرف کوئی دھیان ہے ۔ 'صرف آئین میں لکھ دیا گیا ہے کہ پانچ سے سولہ سال تک کی تعلیم ضروری، مفت اور ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ '
لاہور میں 'ہر سکھ' کے نام سے پانچ دیہات کے بچوں کو پڑھانے کے لیے کھولے گئے سکول کی سرپرستی کرنے والے جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ نے بتایا کہ ان کے سکول میں بچوں کو فیض، بلھے شاہ، علامہ اقبال، میاں محمد بخش، بوب ڈلن سمیت کئی شعرا سے متعارف کرایا جاتا ہے۔ 'ہم داغ اور غالب بھی پڑھاتے ہیں ۔ بچوں کو بہت سی شاعری ازبر ہے ۔ وہ شاعری پڑھتے اور اس کی معنویت بھی سمجھتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ سکولوں، کالجوں میں اب یہ نہیں پڑھایا اور نہ بتایا جاتا ہے۔ جسٹس ریٹائڑد جواد خواجہ نے کہا کہ ’لاہور کی ایک بڑی اور اچھی یونیورسٹی میں استاد شاگرد کے رشتے پر لیکچر کے لیے بلایا گیا تو طلبہ سے شیخ سعدی اور سلطان باہو کے بارے میں بات کی ۔ حیرت اور تعجب ہوا کہ 27 بچوں کی کلاس میں 26 نے حضرت شیخ سعدی کا نام ہی نہیں سنا تھا۔‘
سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملکی وسائل تعلیم کے بجائے کسی اور طرف لگا کر ذہین بچوں کے مستقبل کو ضائع کیا جا رہا  ہے۔ ’تعلیم کے سوا ہر جگہ وسائل لگائے جا رہے ہیں ۔ سرکار کہاں ہیں اور پیسہ کہاں جاتا ہے  یہ سوچنے کی بات ہے۔‘
 انہوں نے کہا کہ ہمارا تعلیمی نظام فساد کی جڑ ہے، اس میں تفریق ہے جو معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔  ’ہم نے اپنے سکول میں تفریق کو ختم کیا ہے ۔ میری اپنے پانچ نواسے اور نواسیاں اسی سکول میں پڑھتے ہیں۔‘
جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ نے بتایا کہ انہوں نے بنیادی طورپر سکول اپنے ملازمین کے پانچ بچوں کو تعلیم دینے کے لیے شروع کیا تھا۔’ پھر سوچا کہ اردگرد کے دیہات کے بچوں کے لیے بھی دروازے کھولنے چاہئیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد میری بیٹیوں نے شہر کے لاکاس اور ایل جی ایس جیسے مہنگے سکولوں سے اپنے بچوں کو نکال کر یہاں داخل کرایا ۔اب تعداد 160 ہو گئی ہے تو مزید داخلے بند کر دیے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ان کے سکول میں آنے والے بچوں میں بعض ایسے بھی ہیں جن کی پچھلی دس نسلوں میں سے کسی نے سکول نہیں دیکھا تھا ۔’ہمارے پاس سرکاری سکولوں سے پانچویں جماعت پاس کرکے آنے والے طلبہ یہاں کے دوسری جماعت کے طلبہ سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اب ان کو پڑھتا دیکھ کر خوشی اور طمانیت ہوتی ہے۔‘
سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قوموں کی شناخت اور دفاع ان کے عوام ہوتے ہیں، دیواریں کسی کو نہیں بچا سکتیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی طاقت ہونا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ خود ایچی سن کالج سے پڑھے ہیں تاہم اس وقت اتنی تفریق نہیں تھی ۔ ’میرا مشاہدہ ہے کہ تفریق موجود ہے اور اس کی ایک ہزار وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ اردو انگلش میڈیم اس تفریق کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہے، یہ ایک ذہنیت ہے ۔‘
جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ نے کہا کہ انہوں نے گذشتہ 30 سال سے ٹی وی نہیں دیکھا اور ان کو میڈیا پر آنے کی بھی کبھی خواہش نہیں رہی ۔’میری طبیعت میں کبھی یہ نہیں رہا کہ لائم لائٹ میں آؤں یا میری کوئی شہرت ہو اور شہرت میڈیا کے ذریعے ہوتی ہے ۔ جس طرح کا بھی میڈیا ہے، سوشل میڈیا ہو۔‘
سابق چیف جسٹس میڈیا کے بارے میں اچھے خیالات نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ بتاتا ہے بہت سا میڈیا ایسا ہے جس کو تحقیق اور سچ کریدنے کی عادت ہے اورنہ سچ تک پہنچنے کی خواہش ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب سچ کی کوئی خواہش تمنا نہ ہو اور کمرشلزم پرسارا میڈیا چل رہا ہو تو مجھے تو کوئی خواہش نہیں ہے۔‘
جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ نے بتایا کہ ’مجھے لائیو انٹرویو کی بھی آفر کی گئی مگر ان سے کہا کہ اس حق میں نہیں ہوں کہ لوگوں کے صابن اور شیمپو بیچتا پھروں۔ دومنٹ مجھ سے بات کرنی ہے اور پانچ منٹ اشتہار چلانے ہیں۔‘
سابق چیف جسٹس سے پوچھا گیا کہ وہ موجودہ حالات پر اپنی رائے کیوں نہیں دیتے تو ان کا جواب تھا کہ ’میں بات کے ذریعے نہیں کہنا چاہتا کہ یہ برا ہے اور یہ اچھا ہے، عمل پر یقین رکھتا ہوں۔ گفتار کے غازی بے شمار ملیں گے۔ عملی زندگی ہو، خواہ اس پر لوگ آپ کو برا بھی کہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سکول کھولنے کا خیال اختیاری نہیں تھا۔ ’گھر کے ملازمین کے پانچ بچوں کو پڑھانا شروع کیا تو سکول بن گیا۔‘
سابق چیف جسٹس نے کہا کہ اگر نیت صاف ہے تو چھوٹے سے چھوٹے کام کا بھی بڑا اثر ہوگا۔ 
جسٹس جواد ایس خواجہ نے سپریم کورٹ میں ان کے دور اور فیصلوں کے بارے میں بات کرنے سے انکار کیا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’میری عدالتی زندگی کے بارے میں سوال نہ پوچھا جائے۔ اردو زبان کے فیصلے پر بھی بات نہیں کروں گا۔ میں نے فیصلہ دے دیا جو لوگ دلچسپی رکھتے ہیں وہ اس پر عمل کرا لیں۔‘

شیئر: