پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بدھ کی شام کُھلے مین ہول میں ماں اور کم سن بیٹی کے گرنے کا واقعہ پیش آیا جو متضادات بیانات کی وجہ سے ابتدائی طور پر مشکوک ہوگیا تھا۔
تاہم چند گھنٹے بعد ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے میڈیا کو بتایا کہ ’خاتون کی لاش مل گئی ہے جبکہ بچی کی تلاش تاحال جاری ہے۔‘
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’تمام ادارے کام کر رہے ہیں اور اس واقعے سے متعلق اعلٰی سطح کی ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جو واقعے کی مکمل تحقیقات کرے گی۔‘
مزید پڑھیں
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مشکوک کال کے حوالے سے قیاس آرائیاں تھیں لیکن بدقسمتی یہ واقعہ ہوا ہے جس کی تحقیقات کی جائیں گی۔‘
’سی سی ٹی وی سے فیملی کی تمام باتیں دُرست ثابت ہوئی ہیں۔ اس معاملے میں فیملی کی منشا کے مطابق مقدمہ درج ہوگا۔‘
ابتدائی اطلاع
ریسکیو 1122 کے مطابق بدھ کی شام 7 بج کر 32 منٹ پر کنٹرول روم کو اطلاع موصول ہوئی کہ بھاٹی گیٹ کے قریب ایک خاتون اور اُس کی 10 ماہ کی بچی کُھلے سیوریج مین ہول میں گر گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کال موصول ہونے کے چار منٹ کے اندر ایمرجنسی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور واٹر ریسکیو و سکوبا ٹیموں کے ذریعے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ خاتون کی شناخت 24 سال کی سعدیہ اور بچی کی شناخت 10 ماہ کی ردا کے طور پر ہوئی۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ’سیوریج لائن کی گہرائی، پانی کے تیز بہاؤ اور محدود جگہ کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔‘
ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکیو شاہد وحید نے میڈیا کو بتایا کہ مین ہول میں ڈیڑھ فٹ پانی موجود ہے جبکہ گہرائی 10 فٹ سے زیادہ اور سیوریج لائن کا قطر قریباً تین فٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ریسکیو ٹیمیں مختلف طریقوں سے تلاش میں مصروف ہیں۔‘
ابتدائی طور پر ریسکیو حکام، پولیس، صوبائی حکومت اور متاثرہ خاندان کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف پائے گئے جس کی وجہ سے واقعہ پیچیدہ ہوگیا۔ تاہم خاتون کی لاش برآمد ہونے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز نے تصدیق کی کہ ’ایسا واقعہ پیش آیا ہے اور بچی کی تلاش تاحال جاری ہے۔‘

دوسری جانب لاپتا خاتون کے ماموں صابر نے فیک کال کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ ’اُن کی دو بہنیں اور بھانجے لاہور سیر کے لیے آئے تھے اور داتا دربار پر حاضری کے بعد رکشہ سٹینڈ پر واپس آئے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’رکشہ کھڑا کیا گیا تھا اور جب خاندان کے افراد واپس آئے تو بچی رکشے میں بیٹھنے کے دوران مین ہول میں گر گئی اور اُسے بچانے کی کوشش میں میری بھانجی بھی مین ہول میں گر گئی۔‘
صابر نے یہ بھی بتایا کہ ’میرے خاندان کے بعض افراد اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں اور میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ جعلی ہے جو دُرست نہیں۔‘
انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اُن کے خاندان کے زیرِحراست افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔‘
پنجاب حکومت کا بیان اور گرفتاریاں
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے شک کی بنیاد پر خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لیا۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں، عینی شاہدین اور زیرِحراست افراد کے بیانات کی روشنی میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ایس پی سٹی بلال احمد نے کہا تھا کہ ’خاتون کے شوہر سے تفتیش جاری ہے لیکن ہمیں تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ سعدیہ اور ردا کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع خود شوہر نے دی تھی جس کے بعد معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔‘
دوسری جانب ترجمان محکمہ ہاؤسنگ نے بیان میں کہا ہے کہ ’وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر متعلقہ افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔‘
’ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو غفلت اور نااہلی پر معطل کیا گیا ہے جبکہ واسا حکام کو ریلیف آپریشن تیز کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔‘
واضح رہے کہ ریسکیو ذرائع اور صوبائی حکومت کے بعض نمائندوں کا پہلے یہ بھی کہنا تھا کہ تکنیکی طور پر سیوریج ہول میں کسی انسان کا اس طرح ڈُوب جانا ممکن نہیں۔
یاد رہے کہ چند ہفتے قبل ہی پنجاب کے ضلع لودھراں کے ایک کھلے مین ہول میں گرنے سے سات سال کا بچہ ریحان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔
اس واقعے پر وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز نے نہ صرف غم و غصے کا اظہار کیا تھا بلکہ ڈپٹی کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔
پولیس نے اس کیس میں زیرِ تعمیر سڑک کے ٹھیکیدار اور سب انجینیئر کے خلاف مقدمہ تک درج کیا تھا۔

دوسری جانب دو روز قبل ہی وزیراعلٰی مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب ڈویلپمنٹ پلان کے تحت 51 شہروں میں سیوریج، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
اس اجلاس میں ’سوہنا پنجاب‘ پراجیکٹ کا اعلان بھی کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ صوبے بھر میں 5 ہزار 887 کلومیٹر طویل سیوریج لائنیں اور 181 ڈرینج لائنیں تعمیر کی جائیں گی جبکہ 33 ہزار سے زائد مین ہولز کے نئے ڈھکن فراہم کیے جائیں گے۔
بیان کے مطابق ’سوہنا پنجاب‘ منصوبے کے تحت سیوریج کے لیے ہائی ڈینسٹی پولی تھائی لین پائپ تیار کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلٰی نے تمام منصوبوں کی شفاف اور بروقت تکمیل کے لیے صوبائی اور ضلعی کنٹرول رُومز قائم کرنے اور ڈپٹی کمشنرز سے باقاعدہ پیش رفت رپورٹس طلب کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔












