پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی اور صوبہ سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے اور ریبیز کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک بار پھر عوامی صحت کے سنگین بحران کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ریبیز کے باعث ایک آٹھ سالہ بچی کی موت نے نہ صرف طبی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے بلکہ آوارہ کتوں پر قابو پانے کے تناظر میں حکومتی پالیسی، عدالتی ہدایات اور جانوروں کے حقوق کے حوالے سے جاری تنازع کو بھی ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کراچی میں صرف سال کے پہلے مہینے میں کتے کے کاٹنے کے ہزاروں کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور سرکاری ادارے، عدلیہ اور فلاحی تنظیمیں اس مسئلے کے حل کے لیے ایک واضح اور متفقہ حکمتِ عملی بنانے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔
ریبیز سے مرنے والی بچی کے ساتھ کیا ہوا؟
محکمۂ صحت کے مطابق ریبیز کی وجہ سے موت کے منہ میں جانے والی آٹھ سالہ بچی کا تعلق سندھ کے ضلع سانگھڑ کے علاقے جھول سے تھا۔ بچی کو تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل ایک آوارہ کتے نے کاٹا تھا۔
مزید پڑھیں
اہلِ خانہ کے مطابق واقعے کے بعد بچی کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز لے جایا گیا، تاہم وہاں بچی کو مکمل اور معیاری اینٹی ریبیز علاج فراہم نہیں کیا جا سکا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ریبیز سے بچاؤ کے لیے کتے کے کاٹنے کے فورا بعد زخم کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا اور پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس (پی ای پی) کا مکمل کورس کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے، لیکن دیہی علاقوں میں اکثر ایسی سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں۔‘
بچی کی حالت بگڑنے پر اسے کراچی کے انڈس ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ریبیز کی تصدیق کے بعد واضح کیا کہ بیماری آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد اس بیماری کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں اور مریض کو صرف تکلیف کم کرنے کی ادویات دی جا سکتی ہیں۔ چند دن بعد بچی جانبر نہ ہو سکی۔
یہ رواں سال سندھ میں ریبیز سے رپورٹ ہونے والی پہلی ہلاکت ہے، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی کیسز رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔
کراچی میں کتے کے کاٹنے کے کیسز، اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
کراچی کے بڑے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے مہینے میں ہی شہر بھر میں 3 ہزار سے زائد افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہو چکے ہیں۔

انڈس ہسپتال کراچی کے ترجمان سید شبیر حسین شاہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’جنوری کے دوران اب تک ریبیز کے 16 سو سے زیادہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔‘
اسی طرح جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق جے پی ایم سی میں سات سو کے قریب کیسز سامنے آئے ہیں۔
سول ہسپتال کراچی کے حکام کے مطابق جنوری کے مہینے میں اب تک 8 سو سے زائد افراد ہسپتال لائے گئے جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔
اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ حادثات جناح ہسپتال ڈاکٹر عرفان احمد کے مطابق جناح ہسپتال کے ڈاگ بائٹ یونٹ میں متاثرہ مریضوں کو مفت علاج اور ویکسین کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
ریبیز ایک لاعلاج مگر قابلِ روک تھام بیماری
انڈس ہسپتال ریبیز پروگرام کے منیجر آفتاب گوہر کے مطابق ریبیز ایک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ جانور، بالخصوص کتے کے کاٹنے یا تھوک کے ذریعے انسان میں منتقل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’علامات ظاہر ہونے کے بعد ریبیز تقریباً سو فیصد مہلک ثابت ہوتی ہے، تاہم بروقت ویکسینیشن سے اسے مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے۔‘

پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں دنیا میں ریبیز سے ہونے والی اموات کی شرح اب بھی تشویش ناک حد تک زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ روک تھام کی بجائے ردِعمل پر مبنی پالیسی ہے۔
انتظامیہ کیا کر رہی ہے؟
کراچی میونسپل کارپوریشن، ضلعی انتظامیہ اور محکمۂ صحت سندھ کے مطابق آوارہ کتوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں اینٹی ریبیز ویکسین کی دستیابی میں اضافہ اور منتخب علاقوں میں کتوں کی ویکسینیشن اور نس بندی (اسٹرلائزیشن) سمیت عوامی آگاہی مہم شروع کرنا شامل ہے تاکہ شہریوں کو کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری اور ہنگامی نوعیت کے اقدامات کرنے سے متعلق آگاہی دی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ’سندھ حکومت نے ریبیز کنٹرول پروگرام کے تحت عالمی ادارۂ صحت کے زیرو بائی 2030 ہدف کو اپنانے کی کوشش کی ہے، جس کا مقصد 2030 تک انسانوں میں کتے کے ذریعے پھیلنے والی ریبیز کا خاتمہ کرنا ہدف ہے۔‘
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جزوی اور غیر مستقل ہیں اور ان پر مؤثر عملدرآمد ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔
آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی، تنازع کہاں ہے؟
کراچی میں جب بھی کتے کے کاٹنے کے واقعات بڑھتے ہیں تو آوارہ کتوں کو مارنے یا شہر سے ختم کرنے کے مطالبات زور پکڑ لیتے ہیں۔ تاہم اس طریقۂ کار کی جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں اور سماجی کارکن سخت مخالفت کرتے ہیں۔












