نیٹ میٹرنگ، گرڈ کو فروخت بجلی کے یونٹس اب بل میں کریڈٹ ہوں گے
نیٹ میٹرنگ، گرڈ کو فروخت بجلی کے یونٹس اب بل میں کریڈٹ ہوں گے
جمعرات 29 جنوری 2026 5:20
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس لغاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ ’وہ نیٹ میٹرنگ صارفین کی جانب سے گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی کے یونٹس کا مکمل کریڈٹ دیں۔‘
بدھ کو وزارتِ بجلی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سردار اویس لغاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) سے کہا ہے کہ وہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے یونٹس کریڈٹ نہ ہونے کے مسئلے کا نوٹس لیں اور اسے فوری حل کریں۔
واضح رہے کہ گزشہ کئی دنوں سے ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ صارفین کی جانب سے یہ شکایات سامنے آ رہی تھیں کہ ان کی فراہم کی گئی بجلی کو ان کے بلوں میں کریڈٹ نہیں کیا جا رہا۔
’کریڈٹ‘ سے مراد یہ ہے کہ نیٹ میٹرنگ صارفین نے جو اضافی بجلی اپنے سولر سسٹمز سے نیشنل گرڈ کو دی اس کے بدلے وہ یونٹس ان کے بجلی کے بلوں میں ایڈجسٹ نہیں ہوئے۔
مثال کے طور پر اگر کسی صارف نے 100 یونٹس بجلی پیدا کی اور خود 70 یونٹس استعمال کیے جبکہ 30 یونٹس گرڈ کو دیے تو وہ 30 یونٹس اس کے اکاؤنٹ میں کریڈٹ ہو کر اگلے بل میں ایڈجسٹ ہو جانے چاہییں۔تاہم بجلی کی مختلف تقسیم کار کمپنیوں کے نیٹ میٹرنگ صارفین نے یہ شکایات کی تھیں کہ کمپنیوں کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر عمل نہیں کیا جا رہا۔
’ایڈجسٹمنٹ اگلے بلنگ سائیکل میں کی جائے گی‘
پاور ڈویژن کے جاری کیے گئے بیان کے مطابق وزیر توانائی نے پی پی ایم سی کی جانب سے نیٹ میٹرنگ صارفین کے یونٹس کریڈٹ نہ کرنے سے متعلق ہدایات کا نوٹس لیا اور ان ہدایات پر فوری نظرثانی کروائی گئی، یوں یونٹس کریڈٹ نہ ہونے کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن نے مزید بتایا ہے کہ ’وزیر توانائی نے تمام ڈسکوز کو ہدایت کی ہے کہ جن صارفین کے بلوں میں یونٹس کا کریڈٹ شامل نہیں ہو سکا، ان کے لیے متعلقہ ایڈجسٹمنٹ اگلے بلنگ سائیکل میں کی جائے۔‘
توانائی کے شعبے کے ماہر انیل ممتاز کے مطابق صارفین کا مالی استحصال کیا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو: پکسابے
یونٹس کریڈٹ کیوں نہ ہو سکے؟
وزیر توانائی نے یہ بھی واضح کیا کہ ’بعض نیٹ میٹرنگ صارفین نے اپنے منظور شدہ لائسنس سے زائد صلاحیت کے سولر سسٹم نصب کیے ہوئے ہیں اور ایسے چند صارفین کو نیشنل گرڈ کو فروخت کی گئی بجلی کے مکمل یونٹس کا کریڈٹ نہیں ملا۔ تاہم اب صرف وہ یونٹس کریڈٹ نہیں ہوں گے جو منظور شدہ صلاحیت سے زائد ہیں، باقی جائز یونٹس کا کریڈٹ بل میں شامل کیا جائے گا۔‘
منظور شدہ یونٹس سے کیا مراد ہے؟
بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے منظور شدہ یونٹس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی صارف سولر یا نیٹ میٹرنگ سسٹم لگاتا ہے تو اسے ڈسکو یا پاور ڈویژن سے ایک لائسنس یا منظوری ملتی ہے۔
اس منظوری کے تحت یہ طے کیا جاتا ہے کہ صارف زیادہ سے زیادہ کتنے یونٹس پیدا کر سکتا ہے۔ صرف یہ منظور شدہ یونٹس ہی گرڈ کو بھیجی گئی بجلی کے بدلے بل میں کریڈٹ کے لیے قابل قبول ہیں، زائد پیدا شدہ یونٹس کا کریڈٹ نہیں دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں سولر صارفین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت چار لاکھ سے زائڈ نیٹ میٹرنگ صارفین موجود ہیں۔
اس صورتِ حال کے بعد جہاں ایک طرف سولر کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ملک میں شمسی توانائی کو فروغ مل رہا ہے، وہیں دوسری جانب حکومت کو اس بات کی بھی تشویش ہے کہ سولر توانائی کے زیادہ استعمال سے قومی گرڈ میں بجلی کی طلب و رسد پر اثر پڑ سکتا ہے۔
صارف جب سولر یا نیٹ میٹرنگ سسٹم لگاتا ہے تو اسے لائسنس ملتا ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی
اس معاملے کو مزید سمجھنے کے لیے کراچی میں مقیم توانائی ماہر انیل ممتاز سے بات کی۔ ان کے مطابق پاکستان میں نیٹ میٹرنگ صارفین کے ساتھ ہونے والا سلوک تکنیکی نہیں بلکہ معاشی بددیانتی ہے۔
انیل ممتاز کے مطابق ڈسکوز جان بوجھ کر پیک آور اور نان پیک ٹیرف کا فرق استعمال کر کے سولر صارفین کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ دن کے وقت صارف جو بجلی گرڈ کو فراہم کرتا ہے، وہ نان پیک ریٹ پر کریڈٹ کی جاتی ہے، جبکہ رات کو وہی صارف پیک آور ریٹ پر بجلی خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یوں صارف اپنی بجلی سستی بیچ کر مہنگی واپس خریدتا ہے جو نیٹ میٹرنگ کے تصور کی کھلی نفی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نیپرا ریگولیشنز کے مطابق نیٹ میٹرنگ میں یونٹ ٹو یونٹ آف سیٹ ہونا چاہیے مگر ڈسکوز روپے میں ایڈجسٹمنٹ کرتی ہیں جس سے صارف کا حقیقی نقصان بل میں نظر ہی نہیں آتا۔ اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی صارف کے یونٹس زیادہ ہو جائیں تو انہیں فوراً ادا کرنے کے بجائے تین ماہ روک کر تقریباً 27 روپے فی یونٹ کے حساب سے خرید لیا جاتا ہے، جبکہ یہی بجلی صارف کو 40 سے 60 روپے فی یونٹ تک فروخت کی جاتی ہے۔
انیل ممتاز کے مطابق یہ عمل محض انتظامی خرابی نہیں بلکہ نیپرا کی خاموشی سے پنپنے والی اجارہ داری، معاہداتی خلاف ورزی اور مالی استحصال ہے، جس کے باعث سولر سرمایہ کاری کا معاشی جواز ہی ختم ہو رہا ہے۔