Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’میں نائٹ ہوں‘، پیرس کے ’آخری ہاکر‘ علی اکبر کے لیے فرانس کا اعلیٰ ایوارڈ

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے اخبار فروش علی اکبر کو ’نائٹ‘ بناتے ہوئے فرانس کا اعلیٰ ایوارڈ دے دیا ہے۔
نائٹ ایک خطاب ہے جو ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کو بہادری اور وفاداری کے صلے میں ملک کے اعلیٰ ایوارڈ سے نوازا جائے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستانی نژاد علی اکبر 1973 میں فرانس گئے تھے، جہاں ان کو بہت سے مسائل کا سامنا رہا، وہ کافی عرصہ بے گھر رہے اور حملوں کا سامنا بھی کیا۔
یہ ایوارڈ ان کو فرانس میں کئی دہائیوں تک خدمات انجام دینے کے صلے میں دیا گیا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں نے ایلیسی پیلس میں تقریب سے خطاب میں علی اکبر کی جدوجہد کو سراہا اور 50 برس تک فرانس کو دل میں لیے اخبار فروخت کرنے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پیارے علی آواز لگا کر سیاسی خبروں کو ہمارے گھروں کی اوپری منزلوں تک پہنچانے کے لیے بہت شکریہ۔‘
انہوں نے اس موقع پر پیرس کے کچھ مشہور کیفوں کے نام لیتے ہوئے کہا کہ ان مقامات پر آنے والے لوگوں کے دلوں کو گرمانے پر بھی میرے سمیت سب آپ کے شگرگزار ہیں۔
ان ریستورانوں کے قریب علی اکبر کئی دہائیوں تک اخبار بیچتے رہے ہیں۔
 صدر میکخواں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’آپ فرانس کے پریس کی آواز ہیں۔‘
اس موقع پر علی اکبر کے علاوہ ان کی فمیلی کے افراد ان کے ساتھ موجود تھے۔

صدر میکخواں نے ’باخبر رکھنے پر‘ علی اکبر کا شکریہ بھی ادا کیا (فوٹو: اے ایف پی)

علی اکبر اخبار بیچتے ہوئے خوبصورت انداز اور بلند آواز میں شہ سرخیاں پڑھنے کے لیے مشہور ہیں اور وہ زیادہ تر اخبار سینٹ جرمن کی گلیوں، مارکیٹس اور قریبی علاقوں میں فروخت کرتے رہے ہیں اور اسی کی بدولت ایک لیجنڈ کے طور پر مشہور ہوئے۔
صدر میکخواں نے خوبصورت لباس میں ملبوس چھریرے جسم کے مالک علی اکبر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فرنچ آپ کی زبان بن گئی ہے اور اپنے انداز میں اس مزید اجاگر کرنے کا فن بھی جانتے ہیں۔
’اگر میں ایسا کہوں تو بالکل درست ہو گا کہ آپ نے دنیا کو اپنی بانہوں اور فرانس کو اپنے دل میں بسا رکھا ہے۔‘
انہوں نے علی اکبر کو انضمام کی ایک ایسی مثال قرار دیا جو ملک کو مزید مضبوط اور قابلِ فخر بناتی ہے۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک ایسے وقت میں ایک شاندار مثال ہے جب ہمیں اکثر بری خبریں سننے کو ملتی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’علی اکبر کی طرح اور بھی ایسے کئی لوگوں کی کہانیاں ہیں، جو غربت سے بھاگتے ہوئے ایک آزاد ملک کا انتخاب کرتے ہیں۔‘
اس موقع پر علی اکبر نے کہا کہ وہ صدر کی باتوں سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔
’میں ایک نائٹ ہوں، جسے میں نے خود بنایا ہے۔‘

علی اکبر کا کہنا ہے کہ جب صدر نے ایوارڈ کا اعلان کیا تو یقین نہیں آیا تھا (فوٹو: روئٹرز)

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے علی اکبر غربت نے 70 کی دہائی کے وسط میں غربت سے تنگ آ کر فرانس کا رخ کیا تھا اور ایک ملاح کے طور پر کام کرنے کے علاوہ ریستورانوں میں ڈش واشر کے طور پر بھی کام کیا۔
پھر ایک روز اتفاق سے ان کی فرانسیسی مزاح نگار جارجس برنیئر سے ملاقات ہو گئی جو ان دنوں شارلی ایبڈو کے لیے طنزیہ مضامین لکھا کرتے تھے۔
انہوں نے علی اکبر کو اخبار فروخت کا مشورہ دیا اور موقع بھی فراہم کیا اور یہیں سے علی اکبر کا ایک نیا سفر شروع ہوا۔
علی اکبر کا یہ بھی کہنا تھا کہ پچھلے سال ان کو اس بات پر یقین نہیں آ رہا تھا جب صدر میکخواں نے ان کو فرانس کا اعلیٰ ترین اعزاز دینے کا اعلان کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر میکخواں سے ان کی ملاقات اکثر اخبار بیچتے ہوئے ہوتی تھی جب وہ سٹوڈنٹ تھے اور کالج یا سکول جا رہے ہوتے تھے۔
علی اکبر کو ایک ہزار یورو پنشن ملتی ہے تاہم وہ آج بھی متحرک ہیں اور روز کام پر جاتے ہیں اور ان کو ’پیرس کا آخری ہاکر‘ بھی سمجھا جاتا ہے۔
وہ آج کل روزانہ اوسطاً 30 اخبار فروخت کرتے ہیں، جبکہ شروع کے دنوں میں یہ تعداد ڈیڑھ سو سے 200 تک ہوا کرتی تھی۔
علی اکبر کا کہنا ہے کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ اپنے مزاحیہ جملوں سے لوگوں کو محظوظ کا سلسلہ چھوڑ دیں۔ ’میں اخبار بیچنے کا کام جاری رکھوں گا۔‘

شیئر: