ریال بھیجنے کے لیے بینکوں کے باہر لمبی قطاریں کیوں؟

’اب تو مزے ہی مزے ہیں، بینکوں میں آج بھی لائن لگی ہوئی تھی۔ اس سے پہلے کہ حکومت کوئی اقدام کرے پاکستانیوں کی بڑی تعداد زیادہ سے زیادہ پیسے بھیجنے کی کوشش میں ہے۔‘
یہ بات سن کر جدہ کے علاقےعزیزیہ میں پراٹھے لینے کے لیے باری کا انتظار کرنے والے کئی لوگوں نے گردن موڑ کر ایک ادھیڑ عمر پاکستانی کارکن کی طرف دیکھا جو ساتھ کھڑے اپنے ساتھی سے تنخواہ میں اضافے کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔
وہ دونوں اونچی آواز میں گفتگو کر رہے تھے۔ مجھ سے رہا نہ گیا ، میں نے آخر پوچھ ہی لیا ”واہ بھئی! کیا مزے ہیں، یہاں تو تنخواہیں کم کی جارہی ہیں بلکہ دو دو ماہ نہیں ملتیں اور آپ کے ہاں تنخواہ بڑھ رہی ہے۔“
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’نہیں نہیں جی، روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے نا، اس لیے ہماری تنخواہ خود بخود بڑھ گئی۔‘
مذکورہ شخص نے اپنا نام شفیق بتایا، اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’میں ہر مہینے ایک لاکھ روپیہ گھر بھیجتا ہوں، اب بھی بھیجوں گا مگر فرق یہ ہے کہ پہلے ساری تنخواہ بھیجنی پڑتی تھی ، اب ایک لاکھ بھیجنے کے بعد کچھ رقم بچ جاتی ہے جسے کسی کام میں لایا جاسکتا ہے۔‘
’مگر پہلے کی نسبت ایک لاکھ روپے کی قدر میں کمی ہوگئی ہے، اب تو ایک لاکھ کافی نہیں ہوں گے،‘ میں نے اپنی رائے دی۔

اشیائے صرف خریدنے کے لیے اوورسیز پاکستانیوں کو مزید رقم اپنے گھر بھیجنا ہوگی

شفیق نے ہنس کر جواب دیا ’او سرجی، پہلے کونسے پورے ہوتے تھے،زیادہ سے زیادہ 20 دن ہی چلتے ہیں، اب ذرا 15 دن چلیں گے۔‘
سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں سمیت دیگر غیر ملکیوں کا معمول ہے کہ وہ ہر مہینے کی 30 تاریخ سے نئے مہینے کی 5 تاریخ تک بینکوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہی ایک ہفتہ ہوتا ہے جس میں عام لوگوں کو تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ بس جیسے ہی تنخواہ ملتی ہے پاکستانی بینکوں کا رخ کرتے ہیں اور پیسے گھر بھیج دیتے ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے بینکوں کے سامنے ان دنوں سے ہٹ کر بھی غیر معمولی رش نظر آرہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے کم ریال بھیجنے سے زیادہ روپے مل رہے ہیں۔ اور لوگ اس موقع کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
پاکستانی کارکن محمد اکرام نے بتایا ’کوشش کر رہا ہوں کہ کم ریال سے زیادہ روپے حاصل کروں مگر مجھے معلوم ہے کہ روپے کی قدر میں مزید کمی ہوگی۔‘
ایک اور کارکن شہید الحسن نے کہا ’ابھی مہینے کا اختتام ہے، تنخواہ ملنے میں 10 دن باقی ہیں مگر میں نے دوستوں سے ادھار لیا ہے تاکہ رقم پاکستان بھیج دوں۔‘

سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ہر مہینے کی 30 تاریخ سے نئے مہینے کی 5 تاریخ تک بینکوں کا رخ کرتے ہیں
سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ہر مہینے کی 30 تاریخ سے نئے مہینے کی 5 تاریخ تک بینکوں کا رخ کرتے ہیں

صحافی عابد شمعون چاند کے مطابق ’پاکستان میں ڈالر کے بحران سے روپے کی قدر میں کمی آ رہی ہے۔ اس سے عوام پریشان ہورہے ہیں مگر سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ریال بھیجتے ہیں تو انہیں زیادہ روپے مل رہے ہیں مگر دوسری طرف ان کے آبائی ملک میں مہنگائی دوگنی ہو رہی ہے۔“
کم ریال میں زیادہ روپے ملنے کا فائدہ اپنی جگہ مگر جب یہی روپے اشیائے صرف خریدنے کے لیے ناکافی ہوں گے تو اوورسیز پاکستانیوں کو مزید رقم اپنے گھر بھیجنی ہوگی۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی سے صرف ملک کے اندر رہنے والے پاکستانی متاثر نہیں ہورہے بلکہ سمندر پار پاکستانی بھی براہ راست متاثر ہوں گے۔ لیکن ابھی یہاں زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ عید قریب ہے اور وہ پاکستان میں اپنے پیاروں کو زیادہ رقم بھیج رہے ہیں تاکہ عید کا رنگ پھیکا نہ ہو۔

شیئر: