جنسی ہراس کاالزام، ہاروے ونسٹین کا متاثرین کے ساتھ معاہدہ

ونسٹن کے ترجمان نے تصفیہ پر بیان دینے سے انکار کیا ہے
مشہور جریدے ’وال سٹریٹ جرنل‘ کے مطابق امریکی فلم انڈسٹری ہالی وڈ کے بدنام زمانہ پروڈیوسر ہاروے ونسٹین کا جنسی ہراسانی کے مبینہ متاثرین اور قرض دہندگان کے ساتھ 4.4 کروڑ امریکی ڈالرز کا تصفیہ طے پا گیا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے جمعرات بتایا گیا کہ یہ معاہدہ جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والے امیر ہالی وڈ پروڈیوسر کے خلاف تمام دیوانی کارروائیوں کا احاطہ کرے گا جن میں کینیڈا اور برطانیہ میں کی جانے والی کارروائیاں بھی شامل ہیں تاہم معاہدے پر ابھی دستخط ہونا باقی ہیں۔
جنسی ہراسانی کے مبینہ متاثرین اور قرض دہندگان کے علاوہ یہ تصفیہ ان کارروائیوں پر بھی لاگو ہوگا جن کا آغاز نیویارک کے سابق اٹارنی جنرل ایرک سکنڈر مین نے کیا تھا اور اب ان کی پیروی لیٹیشیا جیمز کر رہی ہیں۔
ان کارروائیوں کا خاص مقصد یہی ہے کہ مبینہ متاثرین کو معاوضہ دیا جائے۔ یہ معاوضہ انشورنس کمپنیوں کے ذریعے متاثرین کو دیا جائے گا۔

ونسٹن پر 80 خواتین نے جنسی ہراسانی کا الزام لگایا ہے
ونسٹن پر 80 خواتین نے جنسی ہراسانی کا الزام لگایا ہے

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ونسٹین اور لیٹیشیا کے ترجمانوں نے اس حوالے سے کوئی بھی بیان دینے سے انکار کیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق یہ معاہدہ ونسٹین کو ان جنسی ہراسانی کے الزامات پر مبنی فوجداری مقدمات سے متثنیٰ نہیں دے گا اور وہ ان مقدمات کا سامنا رواں سال ستمبر میں کریں گے۔
جنسی ہراسانی کے خلاف چلنے والی مشہور زمانہ ’می ٹو‘ مہم کا شکار ہونے والے ونسٹین پر دو خواتین کو ہراساں کرنے کا مقدمہ چل رہا ہے۔ ان پر اگر یہ الزام ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں پانچ ہفتوں تک قید ہو سکتی ہے۔
خیال رہے کہ ہالی وڈ کے طاقتور ترین پروڈیوسر سمجھے جانے والے ونسٹین پر اکتوبر 2017 سے اب تک 80 خواتین ہراسانی کا الزام عائد کر چکی ہیں۔ یہی الزامات ان کے زوال کا باعث بن رہے ہیں۔

شیئر: