Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ورلڈ بینک کے انڈین نژاد صدر اجے سنگھ بنگا کا پاکستان میں آبائی گھر کس حال میں ہے؟

مجھے ڈپٹی کمشنر آفس سے کال آئی کے کابلی گیٹ کے پاس کرتار سنگھ کا مکان تلاش کرنا ہے، اس میں ہماری مدد کریں، حکومتی اہلکاروں  کا حکم ہے، ایک انتہائی اہم مہمان نے یہ مکان دیکھنے آنا ہے۔‘
پنجاب کے شہر خوشاب کے مقامی تاجر پیشہ شہزاد اسلم شہر کی تاریخ اور تہذیب پر تحقیق کا شوق بھی رکھتے ہیں، اسی وجہ سے مقامی انتظامیہ نے انہیں شہر کے قدیم علاقے کابلی گیٹ کے اندر واقع گلی کوٹلاں والی میں ایک صدی قدیم گردوارہ گرو سنگھ سبھا سے متصل ایک مکان کی تلاش میں مدد لینے طلب کیا۔
صوبائی حکومت کے احکامات پر مقامی انتظامیہ جس مکان اور گردوارے  کی تلاش میں سرگرداں تھی اس کا تعلق ورلڈ بینک کے موجودہ صدر اجے سنگھ بنگا کے خاندان سے ہے۔
چار دہائیوں سے فائنانس، بینکنگ اور ٹیکنالوجی میں عالمی شہرت کے اداروں سے منسلک رہنے والے انڈین نژاد امریکی اجے سنگھ بنگا کا تعلق  مہاراشٹر کے ایک سکھ خاندان سے ہے۔ ان کے والد ہر بجھن سنگھ انڈین فوج سے لیفٹنٹ جنرل کے طور پر منسلک رہ چکے ہیں۔
انڈیا میں پیپسی کولا سمیت کئی نامور عالمی  اداروں کی سربراہی  کے بعد 1996 میں سٹی بینک سے ایشیا پیسیفک کے سی ای او کے طور پر وابستہ ہوئے۔ 2020 میں ان کا انتخاب  انٹرنیشنل چیمبرز آف کامرس کے چیئرمین کے طور پر ہوا۔
رواں ماں کے پہلے ہفتے میں وہ پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔ ان کے  حسن ابدال اور ننکانہ صاحب میں سکھ مذہب کے مقدس مقامات کے دورے کی خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہیں۔

آبائی گھر دیکھنے کی خواہش کیوں پیدا ہوئی؟

اجے سنگھ کے والد ہربجھن سنگھ اور والدہ جسونت کور دونوں کی پیدائش اسی علاقے میں ہوئی جو تقسیم سے قبل ضلع سرگودھا کا حصہ تھا۔ موجودہ ضلع خوشاب میں سکھوں اور ہندوؤں کی کثیر آبادی ہوا کرتی تھی جو مقامی تجارت پر  اجارہ داری رکھتے تھے۔
اجے سنگھ کے نانا کرتار سنگھ علاقے کے متمول اور سکھوں کے مذہبی معاملات میں پیش پیش رہنے والی شخصیت تھے جبکہ ان کے دادا گیان سنگھ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے ۔جو خوشاب سے نقل مکانی کر کے سرگودھا میں جا بسے تھے۔

ان کے بیٹے ہربجھن سنگھ کی پیدائش بھی یہیں ہوئی۔ 1946 میں انہوں نے امرتسر میں  ایک مسلمان ڈاکٹر دوست سے جائیداد کا تبادلہ کیا اور وہی سکونت اختیار کی۔
اجے سنگھ بنگا نے ایک تقریب میں پاکستان میں موجود اپنی خاندانی جڑوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک طویل عرصے تک ان کے خاندان میں تقسیم کے صدمات کی وجہ سے پاکستان میں رہ جانے والے آپنے علاقوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جاتی تھی ۔ اور نہ ہی ان علاقوں کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار ہوتا تھا۔
انہوں نے سٹی بینک کے سی ای او کی حیثیت سے کئی بار کراچی کا دورہ کیا، اپنے اجداد کا علاقہ دیکھنے کا خیال کبھی نہیں آیا۔
بقول اجے سنگھ ان کی والدہ نے آپنی وفات سے دو تین برس قبل آپنی جنم بھومی اور وہاں کے لوگوں کے بارے  میں بات کرنا شروع کی۔ موت سے کچھ عرصہ قبل مجھے وہاں جا کر اپنا آبائی علاقہ دیکھنے کی تلقین کی۔

کرتار سنگھ کا گھر کیسے تلاش کیا گیا ؟

آپنی والدہ کی خواہش کو سامنے رکھتے ہوئے اجے سنگھ بنگا نے پاکستان میں موجودگی کے موقع پر خوشاب میں واقع گلی سکھاں والی کے دور ے کی خواہش کی تو پاکستانی حکام نے اس کی تلاش  شروع کر دی۔ 
شہزاد اسلم گردوارہ گرو سنگھ سبھا سے متصل مکان کی چھت پر کھڑے ہمیں بتا رہے تھے کہ ’ضلعی انتظامیہ  کرتار سنگھ  کے مکان اور اس گردوارے کی تلاش میں تھی۔ ہم نے محکمہ لینڈ ریونیو کا ریکارڈ کھنگالا تو کرتار سنگھ نام کے بہت سارے افراد کہ نام سامنے آئے۔ مشکل یہ تھی کہ ان میں سے اجے سنگھ کے نانا کا کھوج کیسے لگایا جائے  ۔ایسے میں گردوارے کا حوالہ،  مقامی سکول کا ریکارڈ اور لینڈ ریونیو میں کرتار سنگھ کا شجرہ نسب ہمارے کام آیا۔‘
1928 میں جب اس گُردوارے کی تعمیر شروع ہوئی تو کرتار سنگھ اس کے انتظامات میں پیش پیش تھے ان کے گھر کا ایک دروازہ گردوارے کے سامنے بارہ دری میں بھی کھلتا تھا۔
تقسیم کے بعد غیر مسلم آبادی کی نقل مکانی کی وجہ سے گردوارے کی عمارت کہیں برسوں تک سکول کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ دو دہائیاں قبل سکول کی منتقلی نے اس عمارت کو اور بھی ویران کر دیا۔
اجے سنگھ کے نانا کا آبائی گھر بھی مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے آنے والے خاندانوں کو الاٹ ہو گیا۔ سکھاں والی گلی کا موجودہ نام گلی کوٹلاں والی ہے کرتار سنگھ کے گھر کا ڈھانچہ جوں کا توں ہے مگر اندرونی طور پر سوائے تین کمروں کے پرانے نقوش باقی نہیں رہے۔

اجے سنگھ بنگا کا آبائی گھر پنجاب کے شہر خوشاب کے ایک گاؤں میں ہے (فوٹو: سکرین گریب)

مہمان کو ہیلی کاپٹر میں کیوں نہیں لایا گیا؟

صوبائی حکومت نے ورلڈ بینک کے صدر کے آبائی گھر اور گردوارے کے دورے کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے شہر میں جگہ جگہ اجے سنگھ کی تصویر والے خیر مقدمی ہوڈنگز اور بل بورڈ نصب تھے۔ اس سے بڑھ کر مقامی آبادی مہمان کے استقبال کے لیے پرجوش تھی۔
سوشل میڈیا پر ان کے دورے کا چرچہ ہونے لگا تو تین فروری کی حیثیت خوشاب میں گویا ایک جشن کی مانند ہو گئی۔ برسوں سے ویران پڑے گردوارے کی تزئین و آرائش نے اس کا روپ بدل گیا۔
اسی وقت بلوچستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کے واقعات سے پیدا ہونے والے ماحول نے انڈین پس منظر رکھنے والے اور اہم عالمی ادارے کے سربراہ کی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش کو جنم دیا۔
مہمان کی حفاظت کے لیے انہیں ہیلی کاپٹر میں لانے کا فیصلہ ہوا ساتھ ہی اس روز مقامی تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ کابلی گیٹ سے متصل سارے بازار بند کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔
اجے سنگھ بنگا کے استقبال اور انہیں گردوارے اور گھر کا دورہ کروانے کے لیے مخصوص اور محدود افراد کو پاس جاری کیے گئے۔ انتظامات میں شریک رہنے والے ایک اہلکار نے اردو نیوز کو بتایا کہ یہ بھی سکیورٹی انتظامات کی مخصوص حکمت عملی تھی کہ بظاہر ہیلی پیڈ بنا کر یہ تاثر دیا گیا کہ مہمان ہیلی کاپٹر کے ذریعے آئیں گے مگر سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں بذریعہ سڑک خوشاب لایا گیا۔
انتہائی کڑے پہرے میں ورلڈ بینک کہ صدر کے اعزاز میں گردوارے کے صحن میں تقریب منعقد کی گئی۔ ان کے آبائی گھر کا راستہ دور ہونے کی وجہ سے گھر کے پچھلے حصے کو ہی مہمان کو دکھانا ممکن ہو سکا۔
اجے سنگھ کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی ان کے خاندان کیا سے جڑے یہ مقامات دیکھنے خوشاب ائیں۔ مہمان نے بڑی اپنائیت کے ساتھ تمام مقامات کے بارے میں گفتگو سنی۔ بے تکلفی اور بے ساختگی سے میزبانوں سے ملتے اور اپنے اب و اجداد کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ 

اجے سنگھ بنگا کے استقبال اور انہیں گردوارے اور گھر کا دورہ کروانے کے لیے مخصوص اور محدود افراد کو پاس جاری کیے گئے تھے (فوٹو: ٹریبیون انڈیا)

خشونت سنگھ کا دوست نالاں کیوں ہے؟

ضلع خوشاب سے متصل تھل  کا علاقہ اور سرائیکی بیلٹ کا سنگم ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے ۔مقامی کلچر میں پنجابی اور سرائکی روایات کا امتزاج جھلکتا ہے۔
تقسیم ہند کے بعد یہاں سے ہجرت کر کے جانے والے خاندانوں میں سے بہت سارے لوگ انڈٰیا اور عالمی سطح پر معروف ہوئے۔
ہاکی کے معروف انڈین کھلاڑی اور کوچ ہربیل سنگھ ان میں سے ایک تھے۔ خوشاب میں ان کا جنم ہوا۔ وہ 1952 اور 1956 میں اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والی انڈین ٹیم کے کوچ بھی تھے۔
ہندوستانی سینما میں نگینہ، نگائیں، دولہا راجہ اور ہیر رانجھا جیسی کامیاب اور کلاسیکل فلموں کے ڈائریکٹر ھرمیش ملہوترا کی جنم بھومی بھی خوشاب ہے۔ انہوں نے ڈائریکٹر کے ساتھ ساتھ اسکرین پلے رائٹر کے طور پر بھی بہت شہرت پائی ۔ہربیش کی بیٹی پیال ملہوترا انڈین فلم انڈسٹری کا حصہ ہیں۔
تاہم خوشاب میں پیدا ہونے والوں میں جو شہرت اور پذیرائی خشونت سنگھ کے حصے میں آئی وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی۔ خوشاب سے چند کلومیٹر دور ہڈالی کے قصبے کے گورنمنٹ ہائی سکول میں نصب خشونت سنگھ کے نام والی تختی کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی تنصیب کے لیے استعمال ہونے والے سیمنٹ کے مصالحے میں خشونت سنگھ کے جسم کی راکھ بھی شامل ہے۔
حشونت سنگھ کے گزر جانے کے بعد ان کی راکھ پاکستان لانے والے اسد علی بھٹی سے ان کی برسوں پر محیط درینہ دوستی ،ملاقاتیں اور خطوط کا تبادلہ ہوتا تھا۔

اجے سنگھ بنگا نے سٹی بینک کے سی ای او کی حیثیت سے کئی بار کراچی کا دورہ کیا (فوٹو: سی ایم ہاؤس سندھ)

خوشاب کے دورے کے موقع پر اسد علی بھٹی سے ملنے اور خشونت سنگھ کے بارے میں جاننے کے لیے ان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تو وہ گویا پھٹ پڑے۔
وہ اس قدر نالاں  تھے کہ انڈیا کے مشہور دانشور، مصنف، صحافی اور سفارت کار خشونت سنگھ سے آپنے تعلق کو بھی بیکار قرار دیا۔
ان کی ناراضگی کا باعث اس سکول میں خشونت سنگھ کے نام پر بننے والی لائبریری کی تعمیر میں انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسی ہے۔
ان کے بقول اس پروجیکٹ کے لیے خطیر رقم رکھی گئی مگر سکول کی انتظامیہ نے پہلے سے بنے ہوئے ایک کمرے کو لائبریری قرار دے کر صرف رسمی کاروائی پوری  کی ہے۔
ان کے تحفظات اور الزامات کی حقیقت کیا ہے اس کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن پاکستان میں خشونت سنگھ کے ساتھ اپنے تعلق پر فخر کرنے والے فرد کا اس تعلق پر نادم ہونا اور اسے بیکار قرار دینا باعث  حیرت ضرور ہے۔
مگر ساتھ ھی یہ خشونت سنگھ کے چاہنے والوں اور انتظامیہ دونوں کے لیے سوچنے اور حالات کو سدھارنے کا پیغام بھی ہے۔

شیئر: