خلع کا مطالبہ: ’شوہر رات کو سوکھی مچھلی اور پیاز کھاتا ہے‘

مصر میں ایک خاتون کی جانب سے عدالت میں خلع کے لیے انوکھا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ خاتون کا مقدمہ یہ ہے کہ ان کا شوہر رات کو سونے سے قبل روزانہ سوکھی مچھلی اور پیاز کھاتا ہے جو اسے قطعی طور پر برداشت نہیں۔
خاتون کے مطابق شوہر کو کئی مرتبہ منع کیا تاہم وہ اپنی اس عادت سے باز نہیں آیا۔ مصری اخبار ’الشاھد‘ کے مطابق دونوں کی شادی کو ایک برس ہوا ہے۔

خاتون نے عدالت میں خلع کا مقدمہ دائر کرنے کے بعد پیشی پر قاضی کے سوال پر کہا کہ انہیں شادی سے قبل اس بات کا قطعی علم نہیں تھا کہ ان کا ہونے والا شوہر اس قسم کے شوق میں مبتلا ہے۔ اگرچہ ہم ایک دوسرے کو کافی عرصہ سے جانتے تھے کیونکہ ایک ہی جگہ کام کرتے ہیں اس کے باوجود مجھے کبھی اس کی عادت کے بارے معلوم نہیں ہو سکا تھا۔
خاتون نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’شادی کے ایک ہفتہ بعد یہ انکشاف اس وقت ہوا جب رات کو شوہر کے پاس سے عجیب سے بو آئی جس سے میرا سرچکرانے لگا۔ میرے دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ وہ سوکھی ہوئی مچھلی ( الرنجة) کھاکر آیا ہے۔‘ 
 شوہر سے درخواست کی کہ وہ آئندہ یہ خوارک استعمال نہ کرے جس پر اس نے مجھے یقین دلایا کہ وہ اس بات کا خیال رکھے گا۔ ہمارے مابین یہ معاہدہ ہو گیا تھا کہ جب بھی اسے مچھلی کھانی ہو وہ اپنی والدہ کے گھر جاکر اپنا شوق پورا کرے اور آنے سے قبل اس بات کا خاص اہتمام کرے گا کہ اس کے منہ یا کپڑوں سے بو نہ آئے۔ 

خاتون کا کہنا ہے کہ مجھے ایسا محسوس ہونے لگتا کہ میں مچھلی منڈ ی میں ہوں (فوٹو:روئٹرز)

خاتون کا کہنا تھا کہ اس کے شوہر نے مشکل سے ایک ہفتہ ہی معاہدے پر عمل کیا۔ جب بھی وہ مچھلی اور پیاز کھا کر گھر آتا اس سے اٹھنے والی شدید بو میرے لیے ناقابل برداشت ہوجاتی۔ مجھے ایسا محسوس ہونے لگتا کہ میں مچھلی منڈی میں رہ رہی ہوں۔ 
 ایک بار ہم نے تعطیلات پر دوسرے شہر جانے پروگرام بنایا جب سامان پیک کر رہی تھی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ کپڑوں کے نیچے سوکھی مچھلیوں کا پیکٹ رکھا ہو ا ہے۔ یہ دیکھ کر میرا حوصلہ جواب دے گیا اور میں اپنے والدین کے گھر آ گئی۔ خاتون نے عدالت سے اپیل کی کہ اسے خلع دلوائی جائے کیونکہ وہ ایسے شخص کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی جو سوکھی مچھلی کھائے بغیر رہ نہیں سکتا۔
 دوسری جانب شوہر کا کہنا تھا کہ وہ کوئی حرام چیز کا عادی نہیں مچھلی اچھی خوراک ہے۔ اتنی سی بات کو اس کی بیوی نے اتنا بڑا مسئلہ بنا دیا۔ عدالت نے مقدمے کو صلح کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

شیئر: