یوکرین جنگ: امریکی، روسی اور یوکرینی مذاکرات کار متحدہ عرب امارات میں
یوکرین جنگ: امریکی، روسی اور یوکرینی مذاکرات کار متحدہ عرب امارات میں
بدھ 4 فروری 2026 9:17
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس معاہدے کے لیے سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہا (فوٹو: اے ایف پی)
روس، یوکرین اور امریکہ کے مذاکرات کار آج متحدہ عرب امارات میں آج اکٹھے ہو رہے ہیں، جس کا مقصد چار برس سے یوکرین میں جاری جنگ کو روکنے کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سے قبل سفارتی سطح پر ہونے والی جنگ رکوانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں اور دوسری عالمی جنگ کے بعد مہلک ترین جنگ جاری ہے جو چار برس قبل 2022 میں روس کے حملے سے شروع ہوئی تھی۔
بات چیت کے سلسلے کے دوران ہی روس کی جانب سے یوکرین کے گرڈ پر ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے جس سے کئی علاقوں میں بجلی بند ہو گئی۔ جس کے بعد امارات کے دارالحکومت میں ہونے والے مذاکرات میں کسی پیشرفت کے امکانات کم ہوئے ہیں۔
اسی طرح منگل کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہر روسی حملہ اس امر کی تصدیق کر رہا ہے کہ ماسکو کا رویہ تبدیل نہیں ہوا، وہ جنگ کو آگے بڑھا رہا ہے اور سفارت کاری کو سنجیدہ نہیں لیتا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس صورت حال کی مناسبت سے ہی اپنی مذاکراتی ٹیم ترتیب دیا جائے گا۔‘ تاہم مزید وضاحت نہیں کی۔
معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یوکرین کے مشرقی حصے کے مستقبل کا فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔
ماسکو کی جانب سے معاہدے کی پیشگی شرط کے طور پر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کیئف ڈونباس کے علاوہ ان علاقوں سے اپنی فوجیں نکالے جو قدرتی وسائل سے مالامال ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے (فوٹو: اے ایف پی)
اسی طرح وہ ان علاقوں کو بین الاقوامی طور پر روس کا حصہ تسلیم کرانا چاہتا ہے جو کہ حملے کے بعد اس نے قبضے میں لیا ہے۔
دوسری جانب کیئف کا کہنا ہے کہ تنازع کو موجودہ جنگی تناظر میں حل کیا جائے اور افواج کی یکطرفہ واپسی کا مطالبہ مسترد کیا ہے۔
امارات میں ہونے والی بات چیت پہلے بدھ اور جمعرات کے دن مقرر کیے گئے تھے تاہم ان کو ملتوی کر دیا گیا تھا کیونکہ کریملن کا کہنا تھاکہ ان ایام میں تینوں فریقوں کو اکٹھے ہونے پر کچھ مسائل ہیں۔
یوکرین کے وفد کی قیادت سکیورٹی کونسل کے چیف رستم عمرکوف کر رہے ہیں، ان کو ایک تجربہ کار مذاکرات کار سمجھا جاتا ہے اور وہ سفارت کاری کے میدان کچھ ’حیران کن‘ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسی طرح روس کی جانب سے ملٹری انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر آئگور کوسٹیوکوف پیش ہوں گے جن پر مغربی ممالک نے یوکرین پر حملے کے بعد سے پابندی لگا رکھی ہے۔
پچھلے مہینے ابوظبی میں ہونے والے مذاکرات کی قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکوف نے کی تھی۔
یوکرین کے وفد کی قیادت سکیورٹی کونسل کے چیف رستم عمرکوف کریں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
روس جو اپنے پڑوس کے تقریباً 20 فیصد حصے پر قابض ہے، نے دھمکی دی ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ڈونیسک کے باقی علاقے پر بھی قبضہ کر لے گا۔
دوسری جانب یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس کو زمین کا حصہ دیا گیا تو اس سے اس کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ (یوکرین) کسی بھی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا جو کے دوبارہ حملے کو نہ روک سکے۔
کیئف ابھی تک ڈونیسٹک کے علاقے پر تقریباً ایک پانچ حصے پر کنٹرول رکھتا ہے۔
اے ایف پی کے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ روس کی موجودہ رفتار کی مناسبت سے اس پورے علاقے کو فتح کرنے میں ماسکو کو 18 ماہ لگیں گے تاہم یوکرین کے کنٹرول میں موجود ایسے شہری مراکز بھی شامل ہیں جو قلعوں کی طرح مضبوط ہیں۔
روس لوگانسک، کھیرسن اور زاپوریزیا پر بھی ملکیت کا دعویٰ رکھتا ہے جبکہ مشرقی یوکرین میں کم سے کم تین مقامات پر قابض ہے۔