خاشقجی پر اقوام متحدہ کی رپورٹ تضادات کا مجموعہ ہے، عادل الجبیر

سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کے موضوع پر اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ کھلے تضادات کا مجموعہ ہے۔
اس سلسلے میں سعودی عرب کی خودمختاری اور اس کے عدالتی اداروں کے اختیار پر کسی طرح کی کوئی سودے بازی نہیں ہوسکتی۔ رپورٹ میں جمال خاشقجی کے حوالے سے جو دعوے کئے گئے ہیں وہ غیر معتبر ہیں۔
عادل الجبیر نے یہ وضاحت جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے پر اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل کی عہدیدار کی رپورٹ کے جواب میں دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ کھلے تضادات پر مشتمل ہے۔
ٹوئٹر پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کونسل کی اس رپورٹ کے مندرجات جو واجب التعمیل نہیں وہ ذرائع ابلاغ میں پہلے ہی شائع ہوچکے ہیں۔

عادل الجبیر نے بتایا کہ سعودی قیادت نے جمال خاشقجی کے قتل کے حقائق دریافت کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں جن کی بنا پر متعدد ملزمان کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
الجبیر نے بتایا کہ خاشقجی کے مقدمے کی سماعت میں سلامتی کونسل کے دائمی پانچوں رکن ممالک کے سفارتخانوں کے نمائندے موجود ہوتے ہیں۔
عادل الجبیر نے ٹوئٹر پر اپنے اکاؤنٹ پر تحریر کیا کہ ’اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ میں کوئی نئی بات نہیں، اس میں ایسے کھلے تضادات اور دعوے کئے گئے ہیں جن کی کوئی بنیاد نہیں‘
الجبیر نے ایک اور ٹویٹ میں توجہ دلائی کہ خاشقجی کے مقدمے کی سماعت میں ترکی اور انسانی حقوق کی سعودی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہوتے ہیں۔ 

عادل الجبیر نےایک اور ٹویٹ میں کہا کہ جمال خاشقجی کے مقدمے کی سماعت کا اختیار صرف اور صرف سعودی عرب کے عدالتی اداروں کو ہے۔ یہ ادارے مکمل طور پر خودمختار ہیں اور آزادانہ طریقے سے اپنے اختیارات استعمال کررہے ہیں۔ کسی بھی فریق کو سعودی عرب کی قیادت کو زک پہنچانے کی کس بھی کوشش کو پوری قوت سے مسترد کرتے ہیں۔ کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ خاشقجی کے مقدمے کو مملکت میں عدالت کے دائرے سے نکالنے یا کسی بھی شکل میں اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے۔ 
 واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والی انسانی حقوق کونسل کی رپورٹر ایگنس کالمرڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری ریاست پرعائد ہوتی ہے۔
سعودی عدالت نے گذشتہ برس گیارہ افراد پر فرد جرم عائد کی تھی جن میں سے پانچ کے لئے پبلک پراسیکیوٹر نے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ 
 

شیئر: