پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 49 رنز سے ہرا دیا

لارڈز کے میدان میں 30 ویں میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو49 رنز سے شکست دے دی۔
ٹاس جیت کرپہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 309 رنز کا ہدف دیا جواب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم 50 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 259 رنز بنا سکی۔
جنوبی افریقہ کی بیٹنگ
جنوبی افریقہ نے اننگز کا آغاز کیا تو دوسرے ہی اوور میں عامر نے ہاشم آملہ کو ایل بی ڈبلیو کر دیا، دوسری وکٹ پر سیٹ ہونے والے بیٹسمین ڈی کاک کو شاداب خان نے 47 رنز پر آؤٹ کر دیا ۔اس کے بعد جنوبی افریقن بیٹسمین پریشر میں آ گئے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاداب خان نے مارکرم کو بولڈ کر دیا۔ کپتان ڈوپلیسی نے ٹیم کے مجموعی سکور میں 63 رنز کا اضافی کیا عامر کی گیند پر سرفراز نے ان کا کیچ پکڑا۔ پانچویں وکٹ پر وین ڈیر ڈسن اور ملر نے 53 رنز کی پارٹنر شپ جوڑی، شاداب خان نے ڈسن کو 36 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ ڈیوڈ ملر نے ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی مگر 31 رنز پر شاہین آفریدی نے ان کو بولڈ کر دیا۔ اس کے بعد کوئی بھی کھلاڑی پاکستانی بولنگ کے آگے نہ ٹھہر سکا مورس 16 رنز اور ربادا تین نگیدی ایک رنز بنا کر وہاب کی گیند پر بولڈ ہوئے۔
پاکستان کی جانب سے شاداب خان، وہاب نے تین، عامرنے دو اور شاہین نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
پاکستان کی بیٹنگ
پاکستان کی بیٹنگ شروع ہوئی تو اوپنرز نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے بغیر کسی نقصان کے نصف سینچری مکمل کی۔ عمران طاہر نے 28 رنز پر فخر زمان کا کیچ ڈراپ کر دیا جس کے بعد فخر نے 44 رنز کی اننگز کھیلی اور عمران طاہر کی ہی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اوپنر آنے والے امام الحق نے بھی اچھا آغاز تو دیا مگر نصف سنچری سے محروم رہے، عمران طاہر نےاپنی ہی گیند پر کیچ پکڑتے ہوئے 44 رنز پر امام کو پویلین کی راہ دکھا دی۔ دو وکٹوں کے گرنے سے پاکستانی ٹیم پریشر میں آ گئی محمد حفیظ بھی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ 20 رنز ہی بنا پائے تھے کہ مارکرم کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ بابر اعظم اور حارث نے 81 رنز کی پارٹنر شپ کھیلی بابر اعظم 69 پر فلیکوایو کی گیند پر چھکا لگانے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد عماد وسیم نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے تین چوکوں کی مدد سے 23 رنز بنائے۔ وہاب ریاض چار رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، حارث سہیل نو چوکوں اور تین چھکوں کے ساتھ 89 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے نگیدی نے تین، عمران طاہر دو، فلیکوایو اور مارکرم نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
کرکٹ کا گھر سمجھے جانے والے لارڈز کے میدان میں ورلڈ کپ 2019 کا یہ پہلا میچ تھا۔
اس تاریخی میدان میں پاکستان اب تک 11 ون ڈے میچز کھیل چکا ہے جن میں سے سات میں اسے شکست جبکہ چار میں فتح نصیب ہوئی ہے۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ نے لارڈز کرکٹ گراونڈ میں اب تک چار میچز کھیلے ہیں جن میں سے صرف ایک ہی بار فتح اس کا مقدر بنی ہے۔ یہ وہی گراؤنڈ ہے جہاں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے اپنے ون ڈے کیریئر کا بہترین سکور کر رکھا ہے۔
انہوں نے 2016 میں انگلینڈ کے خلاف 105 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھیں تاہم پاکستان یہ میچ ہار گیا تھا۔

ماضی میں کس کا پلڑا بھاری رہا؟

تاریخی طور پر ورلڈکپ کے اب تک کے 11 ایڈیشنز میں دونوں ٹیمیں چار مرتبہ آمنے سامنے آئی ہیں اور ان مقابلوں میں جنوبی افریقہ کا پلڑا بھاری ہے۔ ان مقابلوں میں تین مرتبہ جنوبی افریقہ جبکہ ایک بار پاکستان ٹیم نے فتح حاصل کر رکھی ہے۔
1992 کے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ نے پہلی بار ایک زبردست مقابلے میں پاکستان کو 20 رنز سے شکست دی تھی۔
دوسری مرتبہ 1996 کے ورلڈ کپ میں بھی جنوبی افریقہ کو فتح حاصل ہوئی اس بار پاکستان کو پانچ وکٹوں سے ہرایا۔

1999 کے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ نے جیت کی ہیٹ ٹرک مکمل کرتے ہوئے پاکستان کو تین وکٹوں سے ہرا دیا۔ تاہم 2015 کے ورلڈ کپ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ سے شکست کا ریکارڈ توڑتے ہوئے 29 رنز سے میدان مار لیا۔
 

 

پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ، میچ کے اہم کھلاڑیوں پر ایک نظر

 جنوبی افریقی ٹیم کے پاس ناتجربہ کار بولنگ لائن ہے تو پاکستان کی ٹیم میں بھی وہاب ریاض کے علاوہ کوئی بولر اس سے پہلے ورلڈ کپ ٹیم کا حصہ نہیں رہا ۔ دونوں ٹیموں میں بلے بازی میں تجربہ رکھنے والے کھلاڑی ٹورنامنٹ میں اب تک بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
محمد عامر  
ولڈ کپ 2019 میں پاکستان ٹیم کے سب سے متاثر کن کھلاڑی محمد عامر اب تک 4 میچز میں 13 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ محمد عامر مزید دو وکٹیں لے کر ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بن جائیں گے۔ انگلیند کے جوفرا آرکر 6 میچز میں 15 وکٹیں لے کر سر فہرست ہیں جبکہ آسٹریلیا کے میچل اسٹارک 15 ہی وکٹوں کے ساتھ دوسرے اور نیوزی لینڈ کے فیرگوسن 5 میچز میں 14 وکٹیں لے کر تیسرے نمبر پر ہیں۔ ولڈ کپ 2019 میں اب تک میچل اسٹارک اور محمد عامر نے ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کیا ہے ۔
بابراعظم
پاکستان ٹیم کی لڑکھڑاتی بیٹنگ لائین میں واحد بابر اعظم ایسے بلے باز ہیں جو ٹیم کو سنبھالا دینے کی اہلیت رکھتے ہیں تاہم ٹورنامنٹ میں وہ غیر معمولی کارکردگی مظاہرہ کرنے میں اب تک کامیاب نہیں ہوئے ۔ بابر اعظم خود اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ان سے جو امیدیں وابسطہ ہیں وہ ابھی تک ان پر پورا نہیں اترے ۔ بابر اعظم نے 4 اننگز میں 163  رنز بنا چکے ہیں جس میں ایک ففٹی بھی شامل ہے ۔ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں شائیقن کرکٹ کی نظریں بھی بابر اعظم پر جم چکی ہیں ۔
شاداب خان
پاکستان ٹیم کے نوجوان سپنر شاداب خان اس ورلڈ کپ میں تین میچز میں صرف دو وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے خلاف سپن باولرز کا کردار کو دیکھتے ہوئے شاداب خان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ۔ حریف جنوبی افریقی پر نظر ڈالیں تو مڈل آرڈر بلے باز گھومتی گیندوں کے سامنے زیادہ مہارت نہیں رکھتے ۔ اسی لیےنوجوان باولر کے پاس آج کے میچ میں جنوبی افریقین مڈل آرڈر کو جلد آوٹ کرنے کے ساتھ ہیرو بننے کا نادر موقع ہے ۔
کونٹن ڈی کوک
جنوبی افریقین وکٹ کیپر بلے باز کونٹن ڈی کوک اس ولڈ کپ میں دو نصف سنچریاں جڑ چکے ہیں ۔ اوپنگ بلے باز نے اب تک 6 میچز میں 191 رنز سکور کیے ہیں ۔ کونٹن ڈی کوک کی وکٹ پر زیادہ دیر تک موجودگی پاکستانی ٹیم کے لیے خطرے سے باہر نہیں ہوگی ۔ اوپنگ بلے باز کونٹن ڈی کوک کا بلا رنز اگلنے لگا تو پاکستان کا ریٹرن ٹکٹ یقینی ہو جائے گا
ہاشم آملہ
ہاشم آملہ کا شمار دنیائے کرکٹ کے مایانہ بلے بازوں میں ہوتا ہے ، اس ٹورنامنٹ میں ہاشم آملہ کا بلا تو خاموش رہا ہے لیکن ہاشم آملہ کی ٹیم میں موجودگی حریف ٹیم کے لیے ہمیشہ خطرے سے خالی نہیں۔ ہاشم آملہ نے ولڈ کپ 2019 میں اب تک 5 میچز میں ایک نصف سنچری کی مدد سے 121 رنز بنائے ہیں ۔ ہاشم آملہ لمبی پارٹنرشپ اور بڑی اننگز کھیلنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ پاکستان ٹیم ہاشم آملہ کی جلد وکٹ لینے میں کامیاب ہوئی تو جنوبی افریقہ کو زیادہ رنز اسکور کرنے سے روکا جا سکتا ہے
کریس مورس
پاکستانی بلے بازوں جہاں اپنے اعصاب سے جنگ لڑ رہئ ہوگی وہیں کرس مورس ان کا دفاع توڑنے میں سر دھڑ کی بازی لگائیں گے ۔ کرس مورس ٹورنامنٹ میں اب تک 4 اننگز میں 9 وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ دراز قد باولرز کا سامنا کرتے ہوئے پاکستانی بلے باز ہمیشہ سے مشکلات کا شکار رہے ہیں ۔ بلے بازوں کو کرس مورس کی سلور باونسرز اور اندر آتی گیندیں پریشانی میں ڈال سکتی ہیں ۔

شیئر: