بابر جیسی اننگز تو بانوے میں بھی کسی نے نہیں کھیلی 

بابر اعظم اور حارث سہیل کے درمیاں سینچری شراکت پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ فوٹواے ایف پی
آئی سی سی ورلڈکپ میں پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف جیت کے بعد جب آپ سے اردو نیوز کے ذریعے مخاطب ہوا تو تحریر کیا تھا کہ پاکستان ٹیم اب ورلڈ کپ دو ہزار انیس کے آئی سی یو سے باہرآگئی ہے لیکن معجزے کا انتظار ہے۔ 
لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف جیت کے بعد اب نہ صرف ٹیم سنبھلی ہے بلکہ جینے کی نئی امنگ بھی ملی ہے۔ انگلش میں کہتے ہیں نا کہ Miracle do happens تو جناب اس ورلڈ کپ میں سری لنکا کی انگلینڈ کے خلاف جیت کے بعد یہ ورلڈ کپ تمام اندازے تجزیے اور یہاں تک کہ خود انگلینڈ کی سوچ اور اعتماد بھی تبدیل ہوچکا ہے اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہو رہا ہے۔

انگلینڈ کی آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان ٹیم مزید اعتماد کے ساتھ برمنگھم کے میدان میں بلیک کیپس کے خلاف اتری تو سرفراز ٹاس ہار کر بھی میچ جیت گئے۔ 
شاہینوں کی بلند پرواز کے بعد نیوزی لینڈ سنبھلی لیکن سکور 237 رہا جس پر نیوزی لینڈ کو ہار اور پاکستان کو جیت کا یقین نہ تھا۔ 

فخر، امام اور پھر حفیظ آؤٹ ہوئے تو اس ورلڈ کپ اور انیس سو بانوے کے موازنے کرنیوالے پریشان دکھائی دینے لگے۔ فوٹو اے ایف پی 

فخر، امام اور پھر حفیظ آؤٹ ہوئے تو اس ورلڈ کپ اور 1992 کے موازنے کرنے والے پریشان دکھائی دینے لگے۔
فرگوسن کی تیز رفتار باؤلنگ کے بعد مچل سانٹنر اور پھر کین ولیمسن نے گیند کو گز گز ٹرن کرنا شروع کیا تو ٹیسٹ میچ کے پانچویں دن کی پچ کا گمان اور مرلی دھرن اور شین وارن کی یاد آنے لگی۔ 
لیکن مشکل صورتحال اور خطرناک پچ پر بابر اعظم اور حارث سہیل نے جو وننگ پارٹنر شپ قائم کی اس کی مثال نہیں ملتی۔
1987 کے ورلڈ کپ میں سلیم ملک کی سینچری کے بتیس سال بعد بابراعظم پاکستان کی جانب سے مڈل آرڈر میں سینچری بنانے والے پہلے بیٹسمین بن گئے۔ 
    اس بات میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے کہ بابر جیسی اننگز بانوے میں بھی کسی نے نہیں کھیلی۔

 پاکستان کو سیمی فائنل تک رسائی کے لیے انگلینڈ کے بھارت یا نیوزی لینڈ کے خلاف کسی ایک میچ میں ناکامی کا انتظار کرنا ہوگا۔ فوٹو اے ایف پی 

کوئی بھی بیٹسمین مشکل وکٹ پر تین وکٹیں گرنے کے بعد ورلڈ کلاس بالرز کے سامنے سینچری بنا کر میچ جتوا دے تو یہ معمولی بات نہیں۔ لیکن اگر اس اننگز کو تراشنے والا بابراعظم جیسا کلاس کا بیٹسمین ہو تو اس کا مزہ ہی دوبالا ہو جاتا ہے۔ بابر اعظم پہلے ہی ویراٹ کوہلی اور کین ولیمسن جیسے بیٹسمینوں کی فہرست میں شامل ہیں جن کی بیٹنگ کا مخالفین بھی لطف اٹھاتے ہیں۔ 
ایک سو دس رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد مشکل وکٹ پر بابر اعظم اور حارث سہیل نے جو سینچری شراکت قائم کی وہ اس لحاظ سے بیش قیمت ہے کہ اس وکٹ پر کوئی بھی سپنر مرلی دھرن یا شین وارن جتنا ہی مشکل تھا۔ 
دو نوجوان بیٹسمینوں کی میچ وننگ شراکت نہ صرف اس ورلڈکپ میں پاکستان کی جیت کی ضمانت بنی ساتھ ہی پاکستان کی شاندار مستقبل کی نوید بھی سنا دی۔ 
دو شاندار کامیابیوں کے بعد سیمی فائنل تک رسائی یقینی نہیں اور انگلینڈ کے بھارت یا نیوزی لینڈ کے خلاف کسی ایک میچ میں ناکامی کا انتظار کرنا ہوگا لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنوبی افریقا کے خلاف کامیابی کے بعد پاکستان ٹیم آئی سی یو سے باہر آنے کے بعد نہ صرف سنبھلی ہے بلکہ اسے دعاؤں کا سہارا بھی نصیب ہوا ہے 
امید پر دنیا قائم ہے کیونکہ Miracle do happens .
 

شیئر: