پاکستانی اپوزیشن کا مخمصہ، فریحہ ادریس کا کالم

ایک مضبوط حکومت اور زوردار اپوزیشن جمہوریت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں ہر منتخب حکومت کے سر پر مدت سے قبل ہی حکومت کے خاتمے کی تلوار لٹکتی رہی ہے، کبھی یہ تلوار اٹھاون ٹو بی کی صورت میں تو کبھی، طاہر القادری اورعمران خان کے دھرنوں کی شکل میں حکومت کے سر پر خطرہ بنی رہی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مسائل پر صحت مندانہ بحث و تکرار تو لازم ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے بجائے سیاسی اختلاف کشیدگی کی حدوں تک جا پہنچتا ہے۔ جہاں کوئی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔
اس وقت پاکستان کے منظر نامے پر عددی اعتبار سے ایک بڑی اپوزیشن موجود ہے لیکن  بدقسمتی سے یہ نہ تو مضبوط ہے اور نہ ہی اب تک کوئی متفقہ لائحہ عمل بنا سکی۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن کا رہبر بننے اور اسے حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر آمادہ کرنے کی کوششیں تو بہت کیں لیکن پیپلزپارٹی اور ن لیگ ، ان کی تیز روی کا ساتھ دینے سے قاصر ہیں۔ اے پی سی سے قبل اسلام آباد کے گھیراؤ، حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج اور وزیراعظم کو ہٹانے کی باتیں کی جا رہی تھیں لیکن جب اعلامیہ سامنے آیا تو پتہ لگا کہ پوری حکومت کو گھر بھیجنے کی جگہ صرف چیئرمین سینیٹ کو آئینی طریقے سے ہٹانے پر اتفاق ہو سکا۔ 

مولانا فضل الرحمن نے عید کے بعد کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا تھا ۔ تصویر: اے ایف پی

اپوزیشن کے اندر اپنے اپنے مفادات کا ٹکراؤ بھی دکھائی دیتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن سب کچھ لٹا بیٹھے ہیں، کشمیر کمیٹی کی سربراہی، وزرا کالونی میں طویل عرصے سے میسرسرکاری رہائش گاہ ، اور خیبر پختونخوا میں سیاسی اثر ورسوخ، غرض یہ کہ وہ اپنی ساری کشتیاں جلا چکے ہیں اور سارا نظام لپیٹ دیے جانے کے لیے بھی تیار ہیں۔
ن لیگ بھی نہ صرف وفاق بلکہ تخت لاہور بھی گنوا چکی ہے، نواز شریف تاحایت نااہل ہو کر کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں مگر پیپلز پارٹی کے پاس ابھی پتے باقی ہیں، سندھ حکومت موجود ہے جسے پیپلزپارٹی کسی صورت گنوانا نہیں چاہتی، اسی لیے وہ تمام دروازے بند کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اپنے اپنے مفادات کا یہ ٹکراؤ اور ماضی کی بد عہدیاں، اپوزیشن جماعتوں کے ایک دوسرے پر اعتبار نہ کرنے کا اہم سبب ہیں، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے نظریاتی کارکنوں کے لیے بھی ان جماعتوں کا اتحاد قبول کرنا مشکل ہے۔
کیا اپوزیشن کا تحریک چلانےسے گریز، شکسپیئر کے مشہورزمانہ ڈرامہ ہیملٹ کے ہیرو کے تاخیری حربوں کی مانند ہے؟ جس میں وہ بادشاہ سے جو کہ اس کا چچا بھی ہوتا ہے اپنے باپ کے قتل کا انتقام لینے کے لیے منصوبہ تیار کرتا ہے لیکن اس کے ذہن پر خوف سوار ہوتا ہے کہ کسی کو اس کی خبر نہ ہو اور وہ کہیں عتاب کا شکار نہ ہو جائے۔ وہ بار بار اپنے منصوبے کو ملتوی کرتا رہتا ہے،  یہی اس کی سب سےبڑی کمزوری بن جاتی ہے۔

مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات جاتی امرا رائے ونڈ میں ہوئی تھی۔

وجہ کوئی بھی ہو حکومت نے یقیناً اس بات پر سکھ  کا سانس لیا ہے کیونکہ معاشی بحران اور مہنگائی نے عوام میں بے چینی پیدا کی ہوئی ہے اور اس وقت اپوزیشن کی احتجاجی تحریک ایک نئی مصیبت بن سکتی تھی۔
اپوزیشن کی اے پی سی جس ماحول میں ہوئی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں شامل اہم رہنماؤں پر نیب مقدمات  کے گہرے سائے منڈلا رہے تھے، بلاول بھٹو کے والد آصف علی زرداری اور پھوپھی فریال تالپور نیب کی حراست میں ہیں، شہبازشریف آشیانہ ہاؤسنگ کیس اور رمضان شوگر ملز ریفرنسز میں ضمانت پر رہا ہیں، مریم نواز ایون فیلڈ ریفرنس میں سات سال سزا یافتہ ہیں اور ان کی اپیل عدالت میں زیر سماعت ہے۔ سابق وزیراعظم  شاہد خاقان عباسی ایل این جی کیس میں زیر تفتیش ہیں، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی غیر قانونی بھرتیوں اور ٹھیکوں کے الزامات پر ریفرنسز کا سامنا کر رہے ہیں، کانفرنس کے میزبان مولانا فضل الرحمن پر ڈیرہ اسماعیل خان میں زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کےالزامات ہیں، احتساب اور مستقبل کے خدشات کے یہ سائے اپوزیشن کوکوئی ٹھوس فیصلہ کرنے سے روک رہے ہیں۔
اس ساری پیش رفت کے دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو اور مسلم لیگ ن کی طرف سے مریم نواز کا کردار نمایاں دکھائی دیا، ان دونوں کی سیاست کا تقابل کیا جائے تو نظر آتا ہے کہ بلاول بھٹو کے سیاسی سفر میں کم مشکلات ہیں۔
فی الحال انہیں کسی کرپشن الزام کا سامنا نہیں، پیپلز پارٹی کے اندر قیادت کے معاملے میں بھی ان کے لیے کوئی چیلنج نہیں ہے، جبکہ مریم نواز اپنی جارحانہ طرز سیاست کی وجہ سے مقتدر حلقوں میں پسند نہیں کی جاتیں، وہ العزیزیہ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں، ان کی اپیل زیر سماعت ہےاس لیے ان پر ایک تلوار بھی مسلسل لٹکی ہوئی ہے، پارٹی کے اندر بھی انہیں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی صورت میں  سیاسی وراثت کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

بلاول بھٹو کے لیے پیپلز پارٹی کے اندر قیادت کے معاملے میں بھی کوئی چیلنج نہیں ہے۔

میاں شہباز شریف  کسی قسم کا کوئی ٹکرائو نہیں چاہتے اسی لیے وہ مفاہمانہ سیاست  کا علم اٹھائے ہوئے ہیں جبکہ مریم نواز حکومت کو کوئی مہلت، کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، ان کے والد میاں نواز شریف  جیل کاٹ رہے ہیں اور وہ آخری حد تک جانےکا اعلان کر چکی ہیں، پارٹی کے اندر سینئر قیادت میں اس اختلاف  کی وجہ سے گروپ بندی واضح نظر آرہی ہے، ن لیگ مفاہمت اور مزاحمت کے درمیان پھنسی ہوئی ایک بڑے مخمصےکا شکار ہے۔
اسی لیے گذشتہ 10 ماہ سے اپوزیشن ایک قدم آگے بڑھاتی ہے تو دو قدم پیچھے ہٹ جاتی ہے، اے پی سے صرف چند روز قبل شہباز شریف حکومت کو میثاق معیشت کی پیشکش کرتے ہیں تو آصف زرداری حساب کتاب بند کر کے مل جل کر آگے چلنے کی بات کرتے ہیں لیکن مریم نواز نے اپنے چچا اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کی میثاق معیشت کی پیشکش کو مذاق معیشت قرار دیا اور کہا کہ اپوزیشن عوامی امنگوں پر پورا نہیں اتر رہی ہے۔
عوامی امنگوں پر پورا اترنے میں تو ابھی تک حکومت بھی ناکام دکھائی دے رہی ہے لیکن عوام جب اپوزیشن کی جانب دیکھتے ہیں تو ادھر بھی صرف مخمصے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عددی اعتبار سے کمزور حکومت کو طاقتور اپوزیشن سے فی الحال کوئی خطرہ دکھائی نہیں دیتا۔
 

شیئر: