یورینیم افزودہ کرنے کے نتائج بھیانک ہوں گے: ایران کو وارننگ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کا حصول کبھی ممکن نہیں ہو گا۔ فوٹو: اے ایف پی
عالمی برادری نے ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ متعلقہ معاملے کے تمام فریق اس امر پر بھی اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ تہران کو کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی ضرورت ہے۔ ایران کے حالیہ فیصلے نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورینیم کی افزودگی کی سطح بڑھانے سے متعلق ایرانی اعلان پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تہران کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کا حصول کبھی ممکن نہیں ہو گا۔ ایران کو چاہیے کہ خبردار رہے، وہ ایک ہی وجہ سے یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔ میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ وہ سبب کیا ہے مگر یہ اچھا نہیں ہے، بہتر ہے کہ وہ خبردار رہیں۔‘
دوسری طرف برطانیہ نے زور دیا ہے کہ ایران کو ایٹمی طاقتوں کے کلب سے باہر رکھنے پر کام کرنا فرانس اور جرمنی کے لیے بھی اولین ترجیح ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا مشرق وسطیٰ کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔ ہم ابھی تک کسی ایسے طریقے کی تلاش میں ہیں جس سے جوہری معاہدے کو بچایا جا سکے تاہم ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں اس کے بھیانک نتائج ہوں گے۔

بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی کے اہلکار ایران کے جوہری پروگرام کا معائنہ کرتے ہوئے۔ فوٹو (فائل): اے ایف پی

ایران نے اعلان کیا ہے وہ 2015 کے تاریخی معاہدے میں مقرر کی گئی حد سے زیادہ یورینیم کی افزودگی کرے گا۔ ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے ترجمان بہروز کمالوندی نے کہا ہے کہ ایران ’کچھ ہی گھنٹوں میں تاریخی معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد کی حد سے زیادہ یورینیم کی افزودگی شروع کر دے گا۔‘
سرکاری ٹی وی پر براہ راست خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صدر حسن روحانی کی جانب سے ’موصول ہونے والے حکم‘ کے مطابق کچھ آخری مراحل کے تکینکی معاملات طے پانے کے بعد آئندہ چند گھنٹوں میں اس کا نفاذ کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب ایران کے نائب وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اب بھی معاہدہ بچانا چاہتا ہے تاہم انھوں نے یورپی ممالک پر عہد شکنی کا الزام عائد کیا۔
خیال رہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے جانے والے جوہری معاہدے سے 2018 میں امریکہ پہلے سے نکل چکا ہے، جس کے بعد امریکہ نے ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔
اس سے قبل ایران نے مئی میں یورینیم کی افزودگی میں اضافہ شروع کیا تھا، جو تیل کے کارخانوں کے علاوہ جوہری ہتھیار بنانے کے کام بھی آسکتی ہے۔
تاہم ایرانی مقامی نیوز ایجنسی ’محر‘ کے مطابق  ایرانی آرمی چیف میجر جنرل عبدالرحیم موساوی نے پیر کو وضاحت کی کہ ایران کسی بھی ملک سے جنگ لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ 
 

شیئر: