’شرمندہ ہوں‘ سعودی نوجوان نے خاتون رکن شوریٰ سے معافی مانگ لی

کوثر الاریش نے ٹوئٹر پر بدنام کرنے والے نوجوان کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔
سعودی عرب میں ایک نوجوان نے سعودی شوریٰ کی رکن کوثر الاربش سے بدکلامی  پر معافی مانگی ہے۔ نوجوان نے اپنا معافی نامہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا ہے۔
نوجوان نے خاتون رکن شوریٰ کو مبینہ طور پر بدنام کرنے کی کوشش کی تھی۔ کوثر الاربش نے نوٹس لیتے ہوئے دمام کی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے الزام ثابت ہونے پر نوجوان کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پرکوثر الاربش سے معافی مانگے۔
نوجوان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’جو کچھ کیا اس پر شرمندہ ہوں، میں نے ان کی حق تلفی کی جس پر معذرت خواہ ہوں۔ مجھ سے جو کچھ ہوا وہ میری نادانی تھی جو کسی طرح مناسب نہیں تھی۔‘
کوثر الاربش نے سعودی نوجوان کی معذرت قبول کرتے ہوئے لکھا ’میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ وطن عزیز کے نوجوان اس طرح کی روش نہیں اپنائیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ دشنام طرازی، بدکلامی، افواہ کا پرچار کوئی اچھا کام نہیں اور نہ ہی اس سے کسی کوئی مقصد حاصل ہوتا ہے۔‘
 واضح رہے کہ کوثر الاربش سعودی شوریٰ کی رکن، شاعرہ اور مصنفہ ہیں۔ وہ الاحساء میں پیدا ہوئیں۔ الاریش تجریدی آرٹ کی فنکارہ ہیں اور کنگ فیصل یونیورسٹی سے بزنس مینجمنٹ میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ سعودی عرب سے شائع ہونے والے الجزیرہ اخبار کی کالم نگار ہیں۔

سعودی نوجوان نے سعودی شوریٰ کی خاتون کوثرالاربش سے بدکلامی پر ٹوئٹر پر معافی مانگی۔

سعودی میڈیا کے مطابق کوثر الاربش مئی 2015 کے دوران دمام کے العنود محلے میں الامام الحسین مسجد بم حملے میں اپنے بیٹے محمد العیسیٰ سے محروم ہو گئی تھیں۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ دھماکے میں چار دیگر افراد بھی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔
 سعودی نوجوان کے معافی نامے پر سوشل میڈیا پر تبصرے کئے جاتے رہے۔ ایک شہری نصیر نے اپنے ٹویٹ میں سعودی نوجوان کو معذرت پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص غلطی کی اصلاح کر لے اسے اللہ اچھے اجر سے نوازتا ہے۔ انہوں نے کوثر الاربش کی تائید کرتے ہوئے لکھا  ’بلاشبہ کچھ نوجوان فریب خوردہ ہیں آپ ان کی بد گوئیوں سے بالاتر ہیں۔ آسمان آسمان ہوتا ہے اور سمندر کی تہہ کی جگہ سب جانتے ہیں۔‘
بن سعد نامی ہینڈل سے ٹویٹ کیا گیا ’میں آپ کو آپ کے اعلی رویے پر سلام کرتا ہوں آپ نے تنقید میں قابل احترام طرز اپنایا۔‘
راما نامی ٹوئٹر صارف نے کوثر الاربش سے کہا ’آپ نے ہتک عزت کے دعویٰ سے دستبردار ہوکر اچھا نہیں کیا۔ اس سے بد زبانوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، اس قسم کے لوگوں کا علاج سخت سرزنش کے سوا کچھ نہیں۔‘
عائشہ الحربی نے لکھا ’آپ نے معافی دے کر اپنے بیٹے کے لیے بھی کارِ خیر کیا، آپ نے جو کچھ بھی کیا اس کا اجر انمول ہے۔ معافی دینے سے نوجوان کو سبق ملے گا۔ آپ نے سچ میں جہاد والا کام کیا۔‘
ہندالخمشی خاتون نے ٹویٹ کیا کہ کوثر الاربش نے اصلاح، تہذیب، انسانیت اور حب الوطنی کے باب میں اہم کام کیا۔ اللہ ان کو بہترین صلہ دے۔ 

شیئر: