سعودی عرب خوراک ضائع کرنے میں پہلے نمبر پر

’روزانہ 70ملین ریال لاگت کا کھانا کچرے کے ڈبوں میں چلے جاتا ہے۔‘
دنیا میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد کسی طور کم نہیں،مگر جہاں غریب افراد دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں وہیں کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جو ایک خطیر لاگت کا کھانا ضائع کردیتے ہیں۔ سعودی عرب کھانا ضائع کرنےوالے ممالک میں  پوری دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔
سعودی عرب کا شمار یوں تو امیر ممالک میں ہوتا ہے مگر یہاں بھی کئی لوگ غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک طرف غریب افلاس کے ہاتھوں بھوکا رہنے پر مجبور ہیں تو دوسری طرف  روزانہ 70ملین ریال لاگت کا کھانا کچرے کے ڈبوں میں چلے جاتا ہے۔
ہفت روزہ مجلہ سیدتی کے مطابق سعودی عرب کے 90فیصد گھرانوں کے افراد بچ جانے والا کھانا ضائع کردیتے ہیں۔ روزانہ 427 ٹن فاضل کھانا کچرے کے ڈبوں کی نذر کردیا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے 90فیصد گھرانوں کے افراد بچ جانے والا کھانا ضائع کردیتے ہیں۔

سعودی عرب میں علماء سماجی اور اقتصادی امور کے ماہرین فاضل کھانے کے ضیاع کے نقصانات کے بارے میں آگہی مہم چلارہے ہیں۔ ملکی اور علاقائی سطح پر کئی ایسی انجمنیں قائم کر دی گئی ہیں جو فاضل کھانا جمع کر کے بھوکوں تک پہنچانے کا انتظام کر رہی ہیں۔
سبق نیوز کے مطابق ’اکرام‘ فلاحی انجمن نے جون 2019 کے دوران صرف مکہ مکرمہ سے 49 ٹن فاضل کھانا جمع کیا۔ یہ کھانا انجمن کے کارندوں نے شادی گھروں، ہوٹلوں، ریستورانوں، گھروں، سکیورٹی فورس کے اداروں سے حاصل کیا اور 89ہزار سے زائد افراد میں تقسیم کیا۔
مکہ مکرمہ میں تحفظ خوراک انجمن اکرام نے فاضل کھانے سے متعلق اعداد و شمار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں نہیں پتہ کہ ہمارے رضا کاروں نے جو کام کیا اس پر ہم خوش ہوں یا ہیبت ناک اعداد و شمار کو دیکھ کر دکھی ہوں۔‘
’ نہ جانے کتنا کھانا غفلت اور لاپروائی کی وجہ سے ضائع ہو گیا ہو گا جسے ہم جمع نہ کر سکے اور اس سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکے۔‘
فاضل کھانا جمع کرنے کے لیے  قائم نجی انجمن ’خیرات ‘ کی چیئرپرسن نورہ بنت عبدالعزیز العجمی کہتی ہیں کہ ہمیں ہر روز فاضل کھانا ملتا ہے پھر ہم اسے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق محفوظ کر کے تقسیم کردیتے ہیں۔

وزارت زراعت کے مطابق سعودی عرب میں ایک تہائی غذا ضائع کر دی جاتی ہے۔

سابق رکن شوریٰ ڈاکٹر احمد آل مفرح نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں کفایت شعاری کا نظام متعارف کرانا ہو گا اور کھانا ضائع کرنیوالوں پر جرمانے مقرر کرنا ہوں گے۔‘
شوریٰ کے ایک اور سابق رکن ڈاکٹر ناصر بن داؤد کا کہنا تھا کہ شادی گھروں اور مختلف تقریبا ت کے مراکز میں کھانا ضائع کرنیوالوں کے خلاف سزائیں مقرر کرنا ضروری ہیں۔ قانونی مشیر عبداللہ العنزی نے کہا کہ ہمارے یہاں تقریبات میں کھانا ضائع کرنیوالوں کی سزا کےلئے کوئی قانون نہیں۔
اطعام انجمن کے عامر البرجس نے بتایا کہ ہم نے فاضل کھانا جمع کرنے کےلئے بڑے بڑے شادی گھروں اور ہوٹلوں کے ساتھ معاہدے کرلیے ہیں۔
دوسری جانب وزارت زراعت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ایک تہائی غذ ا ضائع کر دی جاتی ہے۔

شیئر: