مغربی کنارے میں اسرائیلی اختیارات میں توسیع، آبادکاروں کے لیے زمین خریدنا آسان
مغربی کنارے میں اسرائیلی اختیارات میں توسیع، آبادکاروں کے لیے زمین خریدنا آسان
اتوار 8 فروری 2026 21:03
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اتوار کو اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے ایسے فیصلوں کی منظوری دے دی ہے جن کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے زمین خریدنے کی راہ ہموار کی جائے گی، جبکہ فلسطینیوں پر اسرائیلی حکام کے انتظامی اور قانونی اختیارات میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مغربی کنارہ ان علاقوں میں شامل ہے جنہیں فلسطینی اپنی مستقبل کی آزاد ریاست کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ اس خطے کا بڑا حصہ اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں مغربی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی محدود خود مختاری کے تحت انتظام چلا رہی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیلی اخباروں ینیٹ اور ہیرٹس نے رپورٹ کیا کہ ان اقدامات میں دہائیوں پرانے ان قوانین کو ختم کرنا بھی شامل ہے جو مغربی کنارے میں یہودی شہریوں کو زمین خریدنے سے روکتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق نئے فیصلوں کے تحت اسرائیلی حکام کو بعض مذہبی مقامات کے انتظام کا اختیار دیا جائے گا، جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام علاقوں میں ماحولیاتی خطرات، پانی سے متعلق خلاف ورزیوں اور آثارِ قدیمہ کو نقصان پہنچانے جیسے معاملات پر نگرانی اور کارروائی کا دائرہ بھی وسیع کیا جائے گا۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے ان اقدامات کو خطرناک اور غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عملی طور پر مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلے فلسطینی عوام کے حقوق اور مستقبل کے لیے شدید خطرہ ہیں۔
اسرائیلی وزرا نے فوری طور پر ان فیصلوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو تین دن بعد واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ محمود عباس نے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے 2024 میں کہا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ اور وہاں قائم بستیاں غیرقانونی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
اگرچہ صدر ٹرمپ نے مغربی کنارے کے اسرائیلی الحاق کی مخالفت کی ہے، تاہم ان کی انتظامیہ نے اسرائیلی بستیوں کی تیز رفتار تعمیر کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا، جسے فلسطینی اپنی مجوزہ ریاست کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔
نیتن یاہو، جو رواں سال انتخابات کا سامنا کر رہے ہیں، فلسطینی ریاست کے قیام کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ان کی حکومتی اتحاد میں کئی ایسے ارکان شامل ہیں جو کھلے عام مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کے حامی ہیں۔ یہ علاقہ 1967 کی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں آیا تھا، جس کے بارے میں اسرائیل تاریخی اور مذہبی دعوے بھی پیش کرتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت نے 2024 میں کہا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ اور وہاں قائم بستیاں غیرقانونی ہیں اور انہیں جلد از جلد ختم کیا جانا چاہیے، تاہم اسرائیل اس موقف سے اختلاف کرتا ہے۔