سب سے آگے پاکستان، سب سے پہلے پاکستان

اس وقت پاکستان دنیا میں آبادی کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر ہے۔خواندگی میں ہمارا نمبر 135واں ہے
فرض کریں ایک بہت ہی وسیع و عریض ہال میں آپ تنہا موجود ہیں۔ خوراک بھی کثرت سے موجود ہے، لان میں سرسبز و شاداب گھاس بھی لگی ہو، صاف ہوا بھی ہو اور صاف پانی بھی۔
ایسے میں آپ کو تنہائی کا احساس کاٹتا رہے گا۔ اسی وسیع و عریض ہال میں اگر ایک اور شخص آ جائے تو اس کے آنے سے نہ خوراک میں کوئی کمی آئے گی نہ صاف پانی کا ذخیرہ خشک ہوگا نہ ہی صاف ہوا کی فراہمی میں کوئی کمی ہو گی نہ لان کی ہریالی پر کوئی فرق پڑے گا۔ البتہ تنہائی کا احساس کم ہو جائے گا۔
 اسی ہال میں اگر دس افراد آ دھمکیں تو تب بھی نہ خوراک کم ہو گی نہ تازہ ہوا نہ ہریالی نہ خوراک۔ اب فرض کریں اسی وسیع و عریض ہال میں ایک سو لوگ مدعو ہو جائیں تو جگہ کم پڑنے لگے گی، سانس لینے میں دشواری ہو گی، خوارک پر لوگ جھپٹتے پھریں گے اور لان لوگوں کی آمد سے تباہ ہونے لگے گا۔
اب ایک دفعہ فرض کریں کہ اسی ہال میں آپ کو ایک ہزار لوگوں کو فٹ کرنا ہے۔ ایسے میں لوگ ایک دوسرے میں دھنسے ہوں گے ، کچھ دم گھٹنے سے مر جائیں گے کچھ خوراک کی کمی کا شکار ہو جائیں گے کچھ پیاس سے مر جائیں گے۔
 اب آخری دفعہ تصور کریں کہ اسی ہال میں آپ نے ایک لاکھ لوگوں کو فٹ کرنا ہے۔ اس کے بعد جو ہو گا وہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی ہال میں جس میں کبھی آپ تازہ ہوا میں سانس لے رہے تھے، خوارک کی فراوانی سے لطف اندوز ہو رہے تھے، لان کی ہریالی بہار کا سماں پیش کر رہی تھی وہاں موت کا سماں ہو گا۔

پاکستان میں ایک عرصے تک آبادی میں اضافے پر کنٹرول کے حوالے سے موثر حکمت عملی نہیں اپنائی جا سکی: فوٹو اے ایف پی

دیواریں انسانوں کے بوجھ سے ٹوٹ رہی ہوں گی۔ بیماریاں پھوٹ رہی ہوں گی۔ خوارک کے ٹکڑے کی پیچھے لوگ قتل ہو رہے ہوں گے۔ہریالی بدحالی میں بدل چکی ہو گی۔ جرائم بڑھ چکے ہوں گے۔ بھوک اور پیاس ہر طرف ناچ رہی ہو گی۔
یہ دنیا بھی ایک بڑا سا ہال ہے۔ اس میں بھی کبھی آبادی بہت کم تھی۔ لوگوں کے مسائل کم تھے مگر بڑھتی آبادی کے ساتھ اس دنیا کے ساتھ وہی ہو رہا ہے جس کی مثال ابتداء میں دی گئی ہے۔
معاشیات کی ہر پالیسی  اس  لمحے ناکام ہو جاتی ہے جب اس پر دن بہ دن بڑھتی آبادی کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔ آپ اپنے ارد گرد نگاہ ڈالیں اور سوچیں کہ کیا یہ زمین اتنے لوگوں کا بوجھ  سہار سکتی؟یہ غربت، افلاس، نفرت، جرائم ، جنگیں، بدترین ماحولیاتی تبدیلیاں، دہشت گردی، مظالم ، جہالت اسی بڑھتی آبادی کا تحفہ ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں ہماری پسماندگی کا ایک بہت بڑا سبب یہی افراط آبادی ہے۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور کم وسائل ایک بڑا مسئلہ اختیار کرتا جا رہا ہے: فوٹو اے ایف پی

پاکستان میں کبھی بھی فیملی پلاننگ / خاندانی منصوبہ بندی کے موضوع  کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ جس نے بھی یہ بات سنی اس نے اس کے ٹھٹھے ہی لگائے۔
 خاندانی منصوبہ بندی پر لطیفے ہی گھڑے، طنزہی کیے اور تمسخر ہی اڑایا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک دفعہ  اپنے دور حکومت میں ورلڈ پاپولیشن سمٹ میں شرکت کی تھی  جس پر ہمارے ہاں بہت شور مچا تھا۔
اس تقریب میں انہوں نے بہت صراحت سے بات کی تھی۔ لیکن اس وقت یہاں پہلے ہی  ایک خاتون کی سربراہی پر سیاسی جماعتیں مظاہرے کر رہی تھی ایسے میں آبادی پر کنٹرول کی بات پر تو  کفر کے فتوے لگ  گئے تھے۔
اس سمٹ میں شرکت کی وجہ سے ایک بہت ہی رکیک کیمپیئنز ان کے خلاف شروع کی گئی اور ملک بھر میں ان کے خلاف مظاہرے کیے گئے تھے۔
سرکاری سطح پر اس جاہلانہ طرز عمل کا نتیجہ اس موضوع سے مسلسل اجتناب میں نکلتا ہے اوراس  جہالت کا نشانہ وہ لوگ بھی بنتے ہیں جو فیملی پلاننگ یا منصوبہ بندی کے محکمے میں کام کرتے ہیں۔
جب گھر گھر جا کر فیملی ہیلتھ ورکر، خواتین کو ان کی گرتی صحت اور مزید زچگیوں کے مضمرات بتاتی ہیں تو ان کے ساتھ کیا بیتتی ہے، ان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے  یہ ایک المناک داستان ہے۔

 بے نظیر بھٹو نے ایک دفعہ  اپنے دور حکومت میں ورلڈ پاپولیشن سمٹ میں شرکت کی تھی  جس پر ہمارے ہاں بہت شور مچا تھا: فوٹو اے ایف پی

ہم نے  یہ بھی دیکھا کہ لوگوں نے ایسے ورکرز کو فحاشی پھیلانے کا موجب قرار دے دیا۔ کہا یہ گیا کہ یہ نوجوان بچیوں کو حرام کی ترغیب دیتی ہیں۔ یہ بھی ہوا کہ ان ورکرز پر گلیوں میں پتھراو کیا گیا، یہ بھی ہوا کہ  ملک و وقوم سدھارنے کی خواہش والی ان ورکرز پر کتے چھوڑ دیے گئے۔
چند ہزار کی تنخواہ پر کام کرنے والی  ان ورکرز کا جرم صرف اتنا تھا کہ یہ خواتین کو زیادہ زچگیوں کی پیچیدگیوں سے آگاہ کرتی تھیں اور ان کو حمل روکنے کے جدید طریقوں سے آگاہ کرتی تھیں۔
زمانہ اب بھی نہیں بدلا ہے، اب بھی انہی خواتین ورکرز پر کفر کے فتوے لگتے ہیں، ان پر لعنت ملامت ہوتی ہے، ان کی نوکریوں کے حوالے سے ان پرطنز کے تیر برسائے جاتے ہیں۔ ان کی توہین کی جاتی ہے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب ساری دنیا اس مسئلے پر بہت سنجیدہ ہو چکی ہے۔
پاکستانی حکومتوں کی جانب سے جو فیملی پلاننگ کے حوالے سے اشتہاری مہمات شروع کی گئیں وہ بھی اس بحران کی ذمہ دار ہیں۔ ہم ایسے باغیانہ لوگوں کو کبھی بتایا گیا کہ ’بچے دو ہی اچھے‘ اور کبھی تعلیم دی گئی کہ ’کم بچے خوشحال گھرانہ‘۔
ان تمام اشتہارات میں اولاد جیسی نعمت کی مناہی کی گئی ہے جو کہ ہمارے معاشرے میں لوگوں کو قبول نہیں ہے۔ ہمارے ذہن کا ڈیفنس مکینزم ہمیں ان اشتہارات کی تعلیم اور تبلیغ پر عمل کرنے سے منع کرتا ہے۔
اگر حکومت چاہتی ہے پاکستان میں آبادی کی کمی ہو تو اولاد جیسی عزیز چیز پر قدغن لگانے کے پیغامات سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ اگر لوگوں نے اپنی فیملی محدود رکھنی ہے تو یہ فیصلہ انہیں اپنی اولاد کی محبت میں کرنا ہے۔
اس وقت پاکستان دنیا میں آبادی کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر ہے۔خواندگی میں ہمارا نمبر 135واں  ہے۔ایک شخص  کی صحت پرہونے والے اخراجات میں ہم دنیا کے 192 ممالک میں ایک سو ستاسی نمبر پر ہیں، انسانی ترقی میں ہمارا نمبر ایک سو انچاس ہے۔ دفاعی اخراجات میں ہم دنیا میں بیسویں نمبر پر کھڑے ہیں۔ ماحولیات کی بہتری میں ہمارا نمبر  ایک سو اکتیسواں ہے۔

پاکستان میں ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جن کے پاس اپنی رہائش گاہ نہیں ہے: تصویر اے ایف پی

باقی اعداد و شمار بھی ایسے ہی سنگیں ہیں۔ اگر حکومتوں نے اب بھی اس مسئلے پر سنجیدگی سے کام نہیں لیا تو ترقی کی شرح ، خوشحالی کا انڈیکس ، ماحولیات کی ترقی ، تعلیم کے منصوبے، صاف پانی کی ضروریات، خوراک کے ذخیرے میں پاکستان آخری نمبر پر ہو گا اور آبادی کے لحاظ سے ہمارا نمبر ون ہوگا۔  
اس اول پوزیشن کو حاصل کرنے کے کی خوشی میں مدقوق ، جاہل اور بیمار لوگوں کا ایک انبوہ چیخ رہا ہو گا۔ ’سب سے آگے پاکستان ،سب سے پہلے پاکستان۔‘
 

شیئر: