عمران خان کا دورۂ کراچی تاجر برادری کی توقعات پر پورا اترا؟

سندھ حکومت کے ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ صرف تصاویر بنوانے کے لیے ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں تاجر رہنماؤں سے ملاقات کر کے نئے مالی سال کے بجٹ پر ان کے تحفظات کو سنا اور تاجر برادری کے مطالبات کو ہر ممکن حد تک پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
وزیراعظم عمران خان تاجر برادری کے تحفظات دور کرنے کے لیے اپنی معاشی ٹیم کے ہمراہ بدھ کو ایک روزہ دورے پر کراچی آئے۔
تاجر رہنماؤں اور کراچی بزنس کمیونٹی سے ملاقات کے بعد وزیراعظم عمران خان نے گورنر ہاؤس میں نیوز کانفرنس کی اور ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر بات کی اور سوالوں کے جوابات دیے۔
وزیراعظم نے اپیل کی کہ تاجر اور صنعت کار حکومت کے ساتھ مل کر معاشی عمل کو تیز کریں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے دورے کا مقصد تاجروں اور صنعت کاروں کو حکومتی پالیسیوں سے آگاہ کرنا اور اعتماد میں لینا تھا۔ ’ہم نئے مالی سال کے بجٹ کے بعد سے بزنس کمیونٹی سے رابطے میں ہیں۔ آج کی ملاقات بھی اسی حوالے سے تھی، ہم نے اپنا حال ان کے سامنے رکھا کہ ہمارے پاس کتنا پیسا ہے اور ہم کن پالیسیوں پہ غور کر رہے ہیں، جب کہ انہوں نے اپنے تحفظات سے ہمیں آگاہ کیا۔‘
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سے گورنر ہاؤس کراچی میں وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور آٹوموٹیو سیکٹر کے وفد نے ملاقات کی-
 ملاقات میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیر بحری امور علی زیدی،  وفاقی وزیر حماد اظہر، وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ،  مشیر وزیراعظم ڈاکٹر عشرت حسین،  چیئرمین ایف بی آر سید شبر زیدی، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر حیدر گیلانی اور گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر موجود تھے۔
تاجروں کے وفد میں دارو خان اچکزئی، مرزا اختیار بیگ، جنید اسماعیل مکدہ، زبیر موتی والا اور آٹوموٹیو سیکٹر کے نمائندے شامل تھے۔
ملاقات میں وفود نے ٹیکس نظام میں اصلاحات، مہنگائی پر کنٹرول، سمگلنگ کی روک تھام، کاروبار میں آسانی، سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے مواقع بڑھانے اور محصولات میں اضافہ کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔

تاجروں کے وفد میں دارو خان اچکزئی، مرزا اختیار بیگ، جنید اسماعیل مکدہ اور زبیر موتی والا شامل تھے

وزیراعظم عمران خان نے تاجر برادری کے تحفظات اور تجاویز کو سن کر متعلقہ وزراء اور چیئرمین ایف بی آر کو مسائل حل کرنے کی ہدایت کی۔
تاہم تاجر رہنماؤں کی جانب سے خرید و فروخت کے لیے شناختی کارڈ پیش کرنے کی شرط ختم کرنے کے مطالبے کو وزیراعظم نے مشیر خزانہ سے مشورے کے بعد مسترد کر دیا اور کہا کہ ’اب کاروبار پرانے طریقے سے نہیں چلے گا۔‘
انہوں نے موقف اپنایا کہ یہ سراسر زیادتی ہے کہ پچاس ہزار سے زائد کے لین دین میں شناختی کارڈ شامل نہ کیا جائے۔
خیال رہے کہ حکومت نے تاجروں کے احتجاج کے بعد شناختی کارڈ کی شرط کو ایک مہینے کے لیے مؤخر کر رکھا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی سے کیا جانا تھا۔
تاجر رہنماؤں نے برآمدات کے حوالے سے بعض شعبوں پر سیلز ٹیکس کی شرط ختم کر کے انہیں زیرو ریٹڈ سیکٹر کرنے کا مطالبہ بھی کیا تاہم اس حوالے سے حکومتی وفد نے تاجر تنظیموں کو واضح جواب نہیں دیا۔ تاجر رہنماؤں کے مطابق وزرا نے اس پر مزید مذاکرات کا عندیہ دیا ہے۔
تاجر رہنما زبیر موتی والا نے وزیراعظم اور حکومتی وفد سے ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمعے کے روز مذاکرات کا ایک اور دور ہو گا جس میں حکومت کے ساتھ معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ سیکٹرز کو زیرو ریٹڈ کرنے کے لیے حکومت سے بات چیت جاری ہے۔
وزیراعظم سے ملاقات کے بعد تاجر برادری کی ذیلی تنظمیوں کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں شہر کی چھوٹی بڑی تاجر تنظیموں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ کراچی تاجر اتحاد کے ترجمان احمد قادری نے بتایا کہ اجلاس کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ 
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کراچی کے تاجروں نے چند روز قبل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی تھی تاہم گورنر سندھ نے مذاکرات کے بعد انہوں نے ہڑتال کی کال واپس لینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ وزیراعظم کا دورہ کراچی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
 دوسری جانب صوبائی حکومت کے مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کراچی آمد پر کراچی پیکیج کا وعدہ وفا کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ 162 ارب روپے کا کراچی پیکیج اہل کراچی کے لیے سبز باغ ثابت ہوا ہے اور کراچی کا گرین لائن منصوبہ بھی وزیراعظم کی راہ دیکھ رہا ہے۔
 مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وزیراعظم کی کراچی آمد کاسمیٹک دورہ ہے، حقیقی مسائل سے عمران خان کا واسطہ نہیں۔ ’یہ دورہ محض تصویر کشی اور لذت طعام ہے، کراچی کے مسائل سے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کا کچھ لینا دینا نہیں۔‘
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید ناصرحسین شاہ نے وزیراعظم کے دورہ کراچی پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری کو حکومت کے جھوٹے وعدوں اور دعوؤں پر یقین نہیں رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ مزدور سے لے کر تاجر تک سب ٹیکسوں کے عذاب سے متاثر ہیں جبکہ عمران خان تاجر برادری کو صرف دلاسے اور آسرے دے رہے ہیں۔ ’صنعتیں تیزی سے بند ہو رہی ہیں اور حکومت سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہی ہے۔‘
تاجر رہنما زبیر موتی والا نے کہا کہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے ملاقات کی اور مسائل سنے، تاہم ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا نہ ہی اعلان ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ’حکومتی وفد کی جانب سے جمعہ کو اسلام آباد بلا کر ایک دن میں مطالبات حل کرنے کا یقین دلایا گیا ہے، امید کرتے ہیں کہ ملکی مفاد میں جو بہتر ہوگا اسی پر اتفاق ہو گا۔‘
زبیر موتی والا نے کہا کہ کرنسی گرنے اور مزید 17 فیصد ٹیکس کا اطلاق کرنے سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے، تمام اقسام کے ٹیکس ملا کر بات 40 فیصد پر پہنچ جاتی ہے۔ 
 ان کا کہنا تھا کہ آج جو صنعتیں بند ہوئی ہیں اس کی وجہ صرف ٹیکس میں اضافہ نہیں بلکہ روزمرہ ضرورت کی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں، ’ہم نے ایک سال تک ٹیکس کو ایک ہی سطح پر رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔‘
 

شیئر: