نیوکلیئر ڈیل بچانے کی کوششیں تیز، ٹرمپ کی ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی دھمکی

فرانس کے صدر کے مشئیر کی تہران میں ایران کے صدر حسن روحانی سے ملاقات۔ فوٹو اے ایف پی
ایران کے نیوکلیئر معاہدے کو بچانے کے سلسلے میں فرانس کے صدر امینوئل میکرون کے مشیر نے بدھ کے روز تہران میں ایران کے صدر حسن روحانی اور دوسرے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
ایک طرف فرانس کے صدر کے نمائندے خصوصی امینوئل بون ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کر رہے تھے تو اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپران پر مزید اقتصادی پابندیاں لگانے کی دھمکی دے ڈالی۔
ایران کے صدر حسن روحانی کا فرانسیسی صدر کے مشیر امینوئل بون سے ملاقات میں کہنا تھا کہ ایران نے سفارتکاری اور بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ انہوں نے معاہدے کے دوسرے فریقین پر زور دیا کہ وہ معاہدے کو بچانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
تہران میں بون نے ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکٹری ایڈمرل علی شمخانی، وزیر خارجہ جواد ظریف اور ان کے نائب سے بھی ملاقاتیں کیں۔
فرانس کے وزیر خارجہ کے مطابق بون کا مشن امریکہ اور ایران کے درمیاں کشیدگی میں ناقابل کنڑول اضافے سے بچنے کے لیے بات چیت کا دروارہ کھوکنے کی کوشش کرنا تھا۔
بون سے ملاقات سے پہلے ایران کے وزیرخاجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ بات چیت پریشر کے اندر ممکن نہیں۔ امریکہ کی جانب سے نیوکلیئر ڈیل سے دستبرداری کا ذکر کرتے ہوئے ظریف کا کہنا تھا کہ معاہدے کے یورپی فریق اس مسئلہ کو حل کریں۔
فرانس اور معاہدے کی دیگر فریقین کی جانب سے اسے بچانے کی کوششوں کے باوجود ٹرمپ نے بدھ کو ٹویٹر پر خبردار  کیا کہ ایران پر پابندیوں میں جلد ہی بہت زیادہ اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے تہران پر الزام لگایا کہ وہ کافی عرصے سے خفیہ طریقے سے یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔
تہران کی جانب سے پیر کو یورینیم کی افزودگی 4.5 فیصد سے بڑھانے کے اعلان کے بعد بون ایران پہنچے تھے۔ 4.5 فیصد افزودگی نیوکلئیر ڈیل کے تخت زیادہ سے زیادہ 3.67 کی مقررہ حد سے زیادہ ہے تاہم یہ کیمیائی ہتھیار بنانے کے لیے ضروری کم سے کم حد سے بھی بہت ذیادہ کم ہے۔
اس مہینے کے شروع میں ایران نے افزودہ یورینیم کے اسٹاک کی مقررہ زیادہ سے زیادہ مقدار 300 کلو گرام کی حد بھی عبور کیا تھا۔  
درین اثنا امریکہ کی درخواست پر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا اجلاس اس کے ویانا میں واقع ہیڈکوارٹر میں بدھ کے روز ہوا۔ اجلاس میں امریکہ کے مندوب جیکی والکاٹ نے کہا کہ ایران ’نیوکلئیر بھتہ خوری‘ میں ملوث ہے۔
تاہم ان کے ایرانی ہم منصب نے جواب میں کہا کہ یہ ’ستم ظریفی‘ ہے کہ یہ اجلاس امریکہ کی درخواست پر بلایا گیا ہے اور موجودہ کشیدگی کا سبب بھی امریکہ کا غیرقانونی رویہ ہے۔
بعد ازاں اٹامک ایجنسی میں روس کے سفیر نے ٹویٹ کیا کہ اجلاس میں اس ایشو پر امریکہ عملی طور پر تنہا ہو گیا ۔

فرانسیسی صدر کے مشیر امینوئل بون کی ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات۔ فوٹو اے ایف پی

واضح رہے کہ 2015 میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے میں تین یورپی ممالک نے بھی دستخط کیے تھے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ ’ایران کسی تاخیر کے بغیر معاہدے کی پاسداری کرے اور اپنی نیوکلیئر سرگرمیاں ترک کردے۔
 بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس کے سدباب کے لیے مشترکہ اجلاس جلد بلایا جائے۔
ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہوئے 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنا، معاشی فوائد دینا اورایران کی بین الاقوامی تنہائی کا خاتمہ کرنا تھا۔
ایران نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وعدے کے مطابق ایرانی معیشت کو سہارا دے اور امریکی پابندیوں کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے ایران کی مدد کرے۔

شیئر: