قوم کی بیٹی یہاں کیوں نہیں؟ شانگلہ ملالہ کو پکارتا ہے!

شانگلہ کے علاقے شاہ پور میں سرسبز پہاڑوں کے بیچ  کچی سڑک پر ایک شاندار عمارت واقع ہے۔ عمارت کے باہر چھوٹی چھوٹی بچیاں آ جا رہی ہیں۔
قریب ہی دیوار کے ساتھ دو پولیس والے کھڑے ہیں۔
یہ پر شکوہ عمارت شانگلہ گرلز سکول کی ہے۔ اس کے سامنے سے گزرنے والی بچیاں یا تو یہاں پڑھتی ہیں یا پھر اس کی کشش سے متاثر ہو کر اس کے ارد گرد گھومتی رہتی ہیں۔
اور پولیس والے یہاں پر اپنا فرض نبھا رہے ہیں، عوام کے جان و مال کے تحفظ کا فرض۔
یہ سکول بھی عوام کا جان و مال ہے، کیونکہ یہ علاقے کی بچیوں کو تعلیم دینے کے لئے بنایا گیا ہے لیکن حکام کو اس کی حفاظت کا احساس زرا زیادہ ہے۔

سکول میں کمپیوٹر لیبارٹری، کھیل کا میدان اور لائبریری بچوں کی خاص دلچسپی ہیں۔ تصویر: اے ایف پی

یہ سکول ملالہ یوسفزئی کی کوششوں اور خواہش سے بنا ہے کیونکہ وہ خود بھی یہاں ہی کی بیٹی ہے۔ اس نے علم حاصل کرنے کے لیے بہت پاپڑ بیلے ہیں۔ اس پر علم اور امن دشمنوں نے حملہ بھی کیا تھا، اور اس کی جان جاتے جاتے رہ گئی تھی۔
پھر اس نے تہیہ کیا تھا کہ وہ دشمنوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود علم حاصل کرنے سے باز نہیں آئے گی، بلکہ دنیا کی ہر لڑکی کو پڑھانے کی کوشش کرے گی، اور اس کی اس کوشش میں اس کے اپنے علاقے کی بچیاں بھی شامل ہوں گی۔
ملالہ کی ان کوششوں سے متاثر ہو کر اس کو نوبیل انعام دیا گیا تو اس نے اس انعام سے حاصل ہونے والی رقم سے یہاں زمین خریدی اور پھر ڈھائی کروڑ روپے کی خطیر رقم سے یہ شاندار عمارت تعمیر کروائی۔
اس سکول میں علاقے کی مقامی بچیاں دسویں تک تعلیم حاصل کریں گی۔
اس سکول نے مقامی بچیوں کے لیے روشنی کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ وہ یہاں پڑھتی ہیں بلکہ ان سے بڑی عمر کی باجیاں، جو پہلے سے خواندہ ہیں وہ یہاں پڑھاتی بھی ہیں۔ اورجو لوگ پہلے یہاں بچیوں کو پڑھانے کے حق میں نہیں تھے، ان کے خیالات بھی آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں۔
گاؤں کے رہائشی تیمور شاہ کی ایک بہن یہاں بطور استاد فرائض انجام دیتی ہیں، جبکہ دیگر تین چھوٹی بہنیں اسی سکول میں پڑھتی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ سکول یہاں کی بچیوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

گاوں کے رہائشی تیمور شاہ کی ایک بہن یہاں استاد ہیں، جبکہ دیگر تین چھوٹی بہنیں اسی سکول میں پڑھتی ہیں۔ تصویر: اے ایف پی

’’اس سکول میں 200 سے زائد بچیاں زیر تعلیم ہیں جو جدید بنیادوں پر بنائے گئے اس تعلیمی ادارے کی سہولتوں سے مستفید ہوتی ہیں۔‘‘
سکول میں کمپیوٹر لیبارٹری، کھیل کا میدان اور لائبریری بچوں کی خاص دلچسپی ہیں۔
خپل کورنامی فاؤنڈیشن، جس نے 14 ماہ کی مدت میں یہ سکول تعمیر کروایا، کے سربراہ محمد علی کہتے ہیں کہ اب اس کو چلانے کا انتظام معروف گلوکار شہزاد رائے کی سماجی تنظیم  زندگی ٹرسٹ کے پاس ہے۔
لیکن اس سکول کی انتظامیہ کو کچھ خدشات بھی ہیں، حفاظت کو درپیش خدشات۔ اس لیے وہ زیادہ لوگوں سے روابط میں محتاط رہتے ہیں، اور سکول کی زیادہ تشہیر سے بچنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔
علاقے کی بچیاں ان خدشات سے بے پرواہ ہیں۔
ان کے کچھ اور تحفظات ہیں۔
یہ کہ ملالہ یوسفزئی، جنہوں نے دنیا بھر کی بچیوں کو تعلیم سے آگاہی کا بیڑا اٹھا رکھا ہے، وہ آج اپنی اکیسویں سالگرہ پر اپنے علاقے کی بچیوں کے درمیان کیوں نہیں ہیں۔
آٹھویں جماعت کی طالبہ روحی بختیار کہتی ہیں، ’’ملالہ یوسفزئی کو پاکستان واپس آنا چاہیے اوریہاں تعلیمی ترقی کی لیے کام کرنا چاہیے۔ یہاں مزید کام کی بہت ضرورت ہے۔ سرکاری سکولوں کی طرح نجی سکولوں میں بھی مستحق بچوں کو سکالر شپ دئیے جانے کی ضرورت ہے۔‘‘
’’ہمارے والدین ہمیں پڑھانا تو چاہتے ہیں لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کا تعلیمی سفر میٹرک کے بعد رک جاتا ہے۔ ہمیں ملالہ کی مدد درکار ہے۔‘‘

 ملالہ نے نوبیل انعام کی رقم سے یہ شاندار عمارت تعمیر کروائی۔ تصویر: اے ایف پی

وہ کہتی ہیں کہ سات لاکھ سے زائد آبادی والے پورے ضلع میں لڑکیوں کے لیے ایک کالج بھی موجود نہیں۔
’’ملالہ کو وطن واپس آ کرعلاقے میں لڑکیوں کی تعلیمی ترقی اور کالجز بنانے کے لیے کام کرنا چا ہیے۔‘‘
ایک اور طالبہ تمنا کفایت، ملالہ کا تعلق اپنے علاقے سے ہونے پر مسرور ہیں، لیکن وہ بھی ان کو مدد کے لئے پکار رہی ہیں۔
’’ملالہ کو اپنے علاقے میں لڑکیوں کے لیے کالج اور مزید سکول تعمیر کرنے چاہئیں۔ انہیں یتیم بچیوں کے لیے بھی سکول تعمیر کرنے چاہیئں۔ ان کا بنایا گیا ایک سکول علاقے کی بچیوں کی ضروریات پوری نہیں کرتا۔‘‘

شیئر: