سوشل میڈیا کمپنیز کا رویہ غیر منصفانہ ہے، صدر ٹرمپ کا شکوہ

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا کمپنییز کو غیر منصفانہ رویے پر آئندہ ہفتوں میں مدعو کرنے کا اعلان کردیا۔ فوٹو روئٹرز
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان سمیت دیگر نمایاں شخصیات کو سوشل میڈیا کمپنییز کی جانب سے غیر منصفانہ رویے کا سامنا ہے اور وہ آئندہ ہفتوں میں ان کمپنیز کو بات چیت کے لیے مدعو کریں گے۔
امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے منعقد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتظامیہ کو ایسی قانون سازی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جو آزادی اظہار رائے کا تحفظ کریں تاہم صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے کیے گئے اقدامات پر تفصیلات نہیں دیں۔
کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے ایسی شخصیات کو مدعو کر رکھا تھا جن کا دعویٰ تھا کہ سوشل میڈیا پر ان کی آواز کو دبایا جاتا ہے۔ ان کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر سمیت کیبنٹ کے ممبران بھی کانفرنس میں شامل تھے۔
اسقاط حمل کے خلاف کام کرنے والی سماجی کارکن لیلا روز بھی مندوبین میں شامل  تھیں جن کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’پن ٹرسٹ‘ نے بلاک کیا ہوا تھا۔
کانفرنس کا مقصد سوشل میڈیا پر قدامت پسند آوازاں کو سنسر کرنے کے حوالے سے بحث کرنا تھا۔
کانفرنس سے خطاب میں جہاں صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا کی طاقت کو سراہا وہیں روایتی میڈیا پر بھی تنقید کی۔
’اب ہم بمشکل پریس ریلیز شائع کرتے ہیں اور اگر میں سوشل میڈیا پر لگاؤں تو وہ دھماکہ خیز ثابت ہوتی ہے۔‘

کانفرنس میں صدر ٹرمپ کے بیٹے سمیت دیگر حامیوں نے شرکت کی جنہیں سوشل میڈیا پر قدامت پسند آوازیں سینسر ہونے کی شکایت ہے۔ فوٹو روئٹرز

صدر ٹرمپ نے ایک دفعہ پھر ٹوئٹر پر اپنے فالوئرز کی تعداد کم ہونے کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم خاموش نہیں ہوں گے، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیز ہماری آواز سینسر نہ کریں۔‘
صدر ٹرمپ اور ان کی سیاسی جماعت ریپبلکن پارٹی کو شکایت رہی ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے ان کی آواز کو دباتی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا کمپنیز نے ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔
فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل نے صدر ٹرمپ کے ان کو مدعو کرنے کے اعلان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
انٹرنیٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے وضاحتی بیان کے مطابق ’انٹرنیٹ کمپنیز کسی سیاسی نظریے کے خلاف تعصب نہیں کرتیں، اور بالخصوص قدامت پرست آوازیں سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتی رہی ہیں۔‘
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اکثر اپنی تقاریر میں میڈیا کو ’جھوٹی خبریں‘ پھیلانے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی 2016  کی صدارتی مہم کے لیے اسی میڈیا کا سہارا لیا تھا اور 2020 کی صدارتی مہم بھی وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی چلا رہے ہیں۔

شیئر:

متعلقہ خبریں