Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’خفیہ اداروں نے سیاستدانوں کو اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا‘، سابق بنگلہ دیشی آرمی چیف کی گواہی

2024 میں اٹھنے والی احتجاج کی لہر کے نتیجے میں عوامی لیگ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) اقبال کریم بھویان نے کہا ہے کہ خفیہ اداروں نے سیاست دانوں کو اٹھا کر خفیہ قید خانوں میں رکھا جہاں ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
ڈھاکہ ٹریبینون کے مطابق فوج کے سابق سربراہ جنرل اقبال کریم بھویان نے یہ بیان انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل کے سامنے اتوار کو دیا۔
رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ 2007 اور 2009 کے درمیان ڈائریکٹریٹ جنرل آف آف فورسز کی جانب سے اٹھائے گئے لوگوں میں سیاست دان اور وزرا بھی شامل تھے۔
وہ  ایک سابق فوجی افسر میجر جنرل (ر) ضیاالاحسن پر انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں بطور استغاثہ گواہ پیش ہوئے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ڈی جی ایف آئی اس عرصے کے دوران ایک مرکزی کنٹرولنگ اتھارٹی کے طور پر سامنے آیا تھا۔‘
اس مقدمے میں ضیالاحسن کے خلاف عوامی لیگ کی حکومت کے دوران جبری گمشدگیوں اور قتل کے 100 سے زائد واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات شامل ہیں۔
سابق آرمی چیف نے ٹریبیونل کو یہ بتایا کہ ’انہوں نے طارق رحمان کو بھی اٹھایا اور غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
مقدمے میں یہ گواہی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل ون کے دو رکنی عدالتی پینل کے سامنے دی گئی۔
پینل کی سربراہی جسٹس محمد غلام مرتضیٰ موزومدار کر رہے تھے جبکہ دوسرے رکن جسٹس شفیع العالم محمود تھے۔
جنرل ریٹائرڈ اقبال کریم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’عام شہریوں کو خفیہ سیلز میں رکھنا ایک معمول بن گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ افسران کو یقین ہو گیا کہ وہ زیر حراست افراد کے ساتھ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔‘
انہوں نے فوج کی جانب سے کیے گئے ’آپریشن کلین ہارٹ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے دوران کئی افراد ہلاک ہوئے۔‘
ان کے مطابق تفتیش کے دوران 12 افراد دل کے دورہ پڑنے سے جان سے گئے پڑے جبکہ انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے یہ تعداد 60 بتائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعدازاں ان ان واقعات میں ملوث افراد کو استثنیٰ دیا گیا جو کہ قتل کے لائسنس کے مترادف تھا۔
اس سے قبل 14 جنوری کو ٹریبیونل نے ضیالاحسن کے خلاف تین الزامات کے تحت ٹرائل شروع کرنے کا حکم دیا تھا اور بیانات اور گواہیاں ریکارڈ کرنے کے لیے تاریخیں مقرر کی تھیں۔
جنرل ریٹائرڈ کریم اسی شیڈول کے تحت ہی بطور گواہ پیش ہوئے۔
گواہی ریکارڈ کیے جانے کے بعد ٹریبیونل نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔
خیال رہے اگست 2024 میں اٹھنے والی احتجاج کی شدید لہر کے بعد طویل عرصے حکومت کرنے والی جماعت عوامی لیگ کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا اور اس کی سربراہی حسینہ واجد انڈیا فرار ہو گئی تھیں۔

شیئر: