تجارتی مراکز 24گھنٹے کھولنے کی مشروط اجازت،فوائد کیا ہونگے؟

سعودی  کابینہ نے تجارتی مراکز اور ریستوران  24گھنٹے کھولنے کی مشروط اجازت دیدی ۔ کابینہ کا منگل کو شاہ سلمان کی زیر صدارت ہوا۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق مملکت کے شہروں میں 24گھنٹے تجارتی سرگرمیوں کی اجازت ان اداروں کو دی جائے گی جن کی نشاندہی وزیر بلدیات و دیہی امور کرینگے اور وہی ادارے اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے جو مقررہ فیس ادا کرینگے ۔اجازت مفاد عامہ کو مدِ نظر رکھ کر دی گئی ہے ۔ایسی تجارتی سرگرمیاں جن کی ملک و قوم کو 24گھنٹے ضرورت ہوتی ہے انہی پر یہ قانون لاگو ہو گا۔

قائم مقام وزیر بلدیات و دیہی امور ماجد القصبی نے کابینہ کے اس فیصلے  کے حوالے سے بتایا کہ اس سے شہروں کے باشندوں کو سہولت ملے گی۔  تاجروں کو کاروبار کا دائرہ پھیلانے اور کاروبار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے مواقع حاصل ہوں گے ۔ 
 ماجد القصبی کا مزید کہنا تھاکہ بین الاقوامی مارکیٹوں کے تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 24/7کے ملک و قوم پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں ۔اشیاء اور خدمات کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے ۔خارجی سرمایہ کاروں کو کاروبار کھولنے کی ترغیب ملتی ہے ۔ تفریحات ، سیاحت ، ٹرانسپورٹ اور کمیونیکشن کے شعبوں کو فروغ حاصل ہوتا ہے ۔ توقع  ہے کہ اس فیصلے کی بدولت ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور چھوٹے نیز درمیانے درجے کے ادارے قومی پیداوار میں اپنا حصہ زیادہ ڈال سکیں گے ۔
سعودی اقتصادی انجمن کے رکن ڈاکٹر عبداللہ المغلوث نے کہا کہ اس سے ریٹیل کا کاروبار پھلے پھولے گا ۔سروسز کا شعبہ بھی پروان چڑھے گا ۔ ڈیوٹیاں 8,8گھنٹے کی شفٹوں میں ہوں گی۔

اس فیصلے سے خاص طور سے قہوہ خانے ، سوشل کلبس، تفریحاتی مراکز ، گیمز ہال ، سینما گھر اور اسپورٹس کے اداروں کو فائدہ ہو گا ۔ ریستوران اور فاسٹ فوڈ کی دکانوں کا کاروبار بھی چمکے گا ۔ ہوٹلوں اور فرنشڈ اپارٹمنس کو بھی فائدہ ہو گا۔فارمیسیوں ،پٹرول اسٹیشنوں اور ٹرانسپورٹ  کے شعبے کو بھی فائدہ پہنچے گا ۔
سیکریٹری بلدیات ودیہی امور خالد الدغیثر نے توجہ دلائی کہ تجارتی مراکز کو 24گھنٹے کھولنے کی اجازت دینے کے فیصلے کا نماز کے دوران دکانیں بند رکھنے کی پابندی سے کوئی تعلق نہیں ۔
 چیئرمین ایوان صنعت و تجارت ریاض کے مطابق  کاروبار کی اجازت سے مقامی افراد کو95ہزار سے زائد ملازمتیں ملنے کی توقع ہے ۔
 

شیئر: