پاکستان کے کلر بلائنڈ اوپنراور میڈیم پیسرکی کہانی

مدثر نذر نے 76 ٹیسٹ اور  122 ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی، تصویر: آئی سی سی اکیڈمی
نذر محمد پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے اوپنر تھے۔1952 میں انڈیا کے خلاف ٹیسٹ میں پاکستان کی طرف سے پہلی گیند انھوں نے  ہی کھیلی۔اسی سیریز میں لکھنئو ٹیسٹ میں پاکستان کی طرف سے پہلی سنچری بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا، بیٹ کیری کیا اور پورے میچ کے دوران میدان میں موجود رہنے والے پہلے کھلاڑی بنے۔
ایک حادثے کی وجہ سے ان کا کرکٹ کیرئیر پانچ ٹیسٹ میچوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔ 1952میں آخری ٹیسٹ کھیلے، اس کے چوبیس برس بعد ان کے بیٹے مدثر نذر نے باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اوپنر کی حیثیت سے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز کیا۔ والد کی طرح انڈیا کے خلاف بیٹ کیری کیا اور جس سیریز(1983-1982) میں یہ اعزاز حاصل کیا، اسی سیریز میں 761 رنز بنا کر سب سے زیادہ رنز کا قومی ریکارڈ بنایا۔ 
مدثر نذر نے 76 ٹیسٹ اور  122 ون ڈے میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔عمدہ بیٹسمین تو وہ تھے ہی، ساتھ ہی کارآمد میڈیم پیسر بھی تھے، کئی دفعہ اپنی بولنگ سے ٹیم کے کام آئے ،اس کی سب سے قابل ذکر مثال 1982 کا لارڈز ٹیسٹ ہے جس کی دوسری اننگز میں چھ وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کی جیت میں بنیادی کردار ادا کیا اور گولڈن آرم کہلائے۔

لندن میں مدثر نذر کی آنکھوں کا معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے کہا کہ وہ لال اور بھُورا رنگ نہیں دیکھ سکتے، تصویر: اے ایف پی

مدثر نذر کے کلر بلائنڈ ہونے کا بہت کم لوگوں کو علم ہے۔ یہ حقیقت ان پر ٹیسٹ کرکٹر بننے کے چند سال بعد اس وقت عیاں ہوئی جب 1980 میں انگلنیڈ میں ان کی آنکھوں کا ٹیسٹ ہوا۔ ڈاکٹر نے ایک فگر بنا کر ان سے پوچھا :یہ کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ کچھ ہو تو بتاﺅں، بس نقطے سے دکھائی دے رہے ہیں۔ معائنے کے بعد ڈاکٹر نے انھیں کلر بلائنڈ ہونے کا بتایا اور کہا کہ وہ خاص طور پر لال اور بھورا رنگ دیکھنے سے قاصر ہیں۔
مدثر نذر کو پندرہ سولہ برس کی عمر میں ایک دفعہ کھیلتا دیکھ کر پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار نے کہا کہ نذر محمد کے بیٹے کو گیند دیر سے دکھائی دیتی ہے۔ اس رائے کے پیشِ نظر کہا جاسکتا ہے کہ کاردار پہلے شخص تھے جنھیں یہ لگا کہ مدثر نذر کی بینائی میں میں کچھ گڑ بڑ ہے۔ کرکٹ ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کو ایک انٹرویو میں مدثر نذر نے بتایا کہ وہ اگر کلر بلائنڈ نہ ہوتے تو کرکٹ میں اور بھی زیادہ کامیابیاں حاصل کر سکتے تھے۔
مدثر نذر کے ذہن میں یہ بات تو آئی کہ ایسا کیوں ہے کہ دوسرے بیٹسمینوں کے برعکس وہ سٹروک پلیئر نہیں اور سست بیٹنگ کرتے ہیں لیکن اپنے کلر بلائنڈ ہونے کی بات ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ ٹی وی پر فٹ بال میچ دیکھتے ہوئے ان کے لیے دونوں ٹیموں کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا۔

مدثر نذر کہتے ہیں کہ گیند بولر کے ہاتھ سے نکلنے کے بعد گم ہو جاتی اور پچ پر پڑنے کے بعد انہیں نظر آتی، تصویر: آئی سی سی اکیڈمی

ایکسپریس اخبار کو انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ بولر کے ہاتھ سے نکلنے کے بعد گیند ان کے لیے گم ہو جاتی اور پچ پر پڑنے کے بعد نظر آتی۔ ان کے بقول، وہ سوچتے کہ سلیم ملک کریز پر آتے ہی چوکا مار لیتے ہیں یا بڑی سہولت سے سنگل رن لے لیتے ہیں، ادھر میرا یہ حال ہے کہ گیند ڈھونڈنا پڑتی ہے۔ 
ویسٹ انڈیز کے سابق مایہ ناز فاسٹ بولر کرٹلی ایمبروز کا سامنا کرنے میں انھیں سب سے زیادہ دشواری رہی، جس کی وجہ ان کا دراز قد ہونا تھا۔امبروز نے جان لیا تھا کہ یارکر ان کی کمزوری ہے، اس لیے وہ بڑی منصوبہ بندی کے بعد اچانک یہ گیند کرتے جس پر مدثر نذر لاچار ہو کر وکٹ گنوا بیٹھتے۔
مدثر نذر نے مذکورہ انٹرویو میں بتایا کہ ایمبروز کو ان کے کلر بلائنڈ ہونے کی خبر ہوتی تو وہ پہلی گیند پر ہی انہیں یارکر پر آﺅٹ کر سکتے تھے، لیکن وہ دوسرے تیسرے اوور میں سرپرائز بال کے طور پر اپنا ہتھیار آزما کر انھیں پویلین کی راہ دکھاتے۔

شیئر: