نہر زبیدہ کی تاریخ کیا ہے؟

سرزمین حجاز کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے یہاں کئی تاریخی مقامات کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ بچپن میں کہانی سن رکھی تھی کہ عباسی خلیفہ ہارون رشید کی اہلیہ ملکہ زبیدہ نے دریائے دجلہ سے نہر نکال کر مکہ مکرمہ تک لائیں۔
 بات یہ ہے کہ لوگ نہر زبیدہ (عین زبیدہ) اور درب زیبدہ کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ حاجیوں کے  لیے پانی کی فراہمی کے لیے مکہ مکرمہ کے قریب وادی نعمان سے نہر نکالی گئی تاہم ملکہ زبیدہ نے بغداد سے مکہ مکرمہ تک حاجیوں کے قافلوں کے لیے جو گزر گاہ بنائی اسے درب زبیدہ کہا جا تا ہے۔
 نہر زبیدہ 1200 برس تک مشاعر مقدسہ اور مکہ مکرمہ میں پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہی۔ آج کے دور میں ماہر آرکیٹکٹ اور انجینیئرحیران ہیں کہ صدیوں پہلے فراہمی آب کے اس عظیم الشان منصوبے کو کیسے تکمیل تک پہنچایاگیا۔ نہر زبیدہ کا منصوبہ اس وقت کے ماہرین نے 10سال کے عرصے میں مکمل کیا۔ اس کی کُل لمبائی 38کلومیٹر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس منصوبے پر 170 ملین دینار لاگت آئی تھی۔ آج اس کاحساب لگایا جائے تو ایک دنیار10گرام سونے کے برابر ہوگا جو بہت بڑی رقم بنتی ہے۔

 نہر زبیدہ صدیوں تک مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ میں حاجیوں کی پانی کی ضروریات کو پورا کرتی رہی۔ یہ نہر 1950ءتک چلتی رہی۔ بعدازاں پمپوں کے ذریعے پانی کھینچے جانے کے باعث خشک ہوکر بند ہوگئی۔ آج بھی اس کا ایک بڑا حصہ محفوظ حالت میں ہے۔
1926 میں سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز نے نہر زبیدہ کی بحالی کے لیے مصری ماہرین کو بلایا ۔انہوں نے9 جنوری 1927 کو کام مکمل کرنے کے بعدرپورٹ پیش کی۔
اس رپورٹ کی ایک کاپی اردونیوز کے پاس موجود ہے جس میں نہر زبیدہ کی تاریخ،مکہ مکرمہ تک پانی کی فراہمی،نہر کی اصلاح و مرمت اور د یگر معلومات کی تفصیل موجود ہے۔
نہر زبیدہ کی تاریخ کیا ہے؟
عباسی خلیفہ ہارون رشید کے انتقال کے بعد ملکہ زبیدہ حج کے لیے مکہ مکرمہ میں حاجیوں کے لیے آئیں تو پانی کی قلت کا نوٹس لیا۔ بغداد واپسی پر ماہر انجینیئرز اور آرکیٹکٹ کو بلا کر مکہ مکرمہ میں پانی کا مسئلہ حل کرنے کا حکم دیا۔
 ماہرین نے ملکہ کو سروے کے بعد رپورٹ دی کہ نہر کی تعمیر کا کام انتہائی مشکل ہے۔ تاریخ کے حوالوں میں ملکہ زبیدہ کایہ جملہ مشہور ہے کہ ’ہر قیمت پر نہر کی تعمیر کی جائے خواہ ہرکدال کی ضرب پر ایک دینار ہی کیوں نہ دینا پڑے‘۔

 مکہ مکرمہ کے قریب وادی نعمان سے پانی لایا گیا
اس وقت کے انجینیئرز نے سروے کے بعد وادی نعمان سے میدان عرفات اور پھر مکہ مکرمہ پانی کی فراہمی کا فیصلہ کیا۔ اس وادی میں بارش اورپہاڑوں سے پانی آنے کے باعث زمین میں پانی کا لیول زیادہ تھا ۔ عرفات سے 10کلومیٹر مشرق میں طائف کی طرف جبل کرا کے دامن میں وادی نعمان واقع ہے۔ یہاں زمین میں پانی کی سطح خاصی بلند ہے۔ اس علاقے میں بارش کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ 
مصری ماہرین کی رپورٹ کے مطابق وادی نعمان سے پانی پہلے عرفات لے جایا گیا۔ اس کے لیے ڈھلوان کی شکل میں پختہ انڈر گرانڈ واٹر چینل بنایا گیا تاکہ پانی خود بخود بہتا ہوا جا ئے۔ پانی کا لیول یکساں رکھنے کے لیے کہیں یہ چینل نہر زمین سے اوپر ہے اور کہیں زمین سے نیچے ہے۔
چینل کوپتھر اور چونے کی مدد سے پختہ کیا گیا تاکہ زمین سے حاصل ہونے والا پانی دوبارہ جذب نہ ہوجائے یعنی پوری نہر زبیدہ کو خواہ وہ زمین کے اوپر ہے یا اندر پتھروں کو چونے سے جوڑ کر پلاسٹر کیا گیا ہے
 میدان عرفات میں جبل رحمہ پر سبیل
 نہر زبیدہ کو وادی نعمان سے پہلے میدان عرفات، مزدلفہ اور پھر مکہ مکرمہ تک ایک ڈھلوان کی صورت میں لایا گیا۔ آج عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس وقت کس طرح یہ کام انجام دیا گیا۔ سروے کے بغیر اتنا درست حساب کیسے لگایا گیا۔ نہر اونچے نیچے راستوں سے گھومتی ہے لیکن اس کا لیول برقرار رہتا ہے۔
اسی نہر کے ساتھ جبل رحمہ پر ایک سبیل بنائی گئی۔ انجینیئرنگ کی یہ خوبصورتی ہے کہ نہر اتنے دُرست لیول پر تھی کہ سبیل میں پانی خود بھرتا تھا اور اس لیول پر تھا کہ لوگ اسے پی سکتے تھے۔

مزدلفہ میں نہر زبیدہ مسجد مشعر الحرام کے قریب کنویں کی شکل میں تھی اور وہاں سے لوگ پانی نکالتے تھے۔ منیٰ کو بھی پانی یہاں سے فراہم کیا جاتا تھا بعد میں نہر پر پمپ لگاکر پانی منیٰ تک پہنچانے کا بندوبست کیاگیا۔ منیٰ میں بھی حوض بنائے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق نہر زبیدہ سے 600 سے 800 کیوبک میٹرپانی روزانہ مکہ مکرمہ آتا تھا۔1950 تک نہر چلتی رہی۔ آبادی بڑھی تو لوگوں کی پانی کی ضروریات بھی بڑھیں۔ انہوں نے پمپ لگا کر زمین سے پانی نکالنا شروع کیا۔ کئی مقامات پر چینل پر پمپ لگا کر پانی کھینچا گیا۔ اس کے نتیجے میں زمین میں پانی کا لیول گرگیا اور یوں نہر خشک ہوگئی۔ اب وادی نعمان میں بھی پانی کا اتنازیادہ لیول نہیں رہا۔
 نہر کی بحالی کا منصوبہ
نہر زبیدہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور بحالی کے لیے مکہ مکرمہ میونسپلٹی نے کام شروع کر رکھا ہے۔ اس سے پہلے شاہ عبداللہ نے نہر زبیدہ کی بحالی کے لیے کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ کے پروفیسر محمد سراج ابو رزیزہ کو پراجیکٹ کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ معروف پاکستانی آرکیٹیکٹ سلیم بخاری نے نہر کی بحالی کے لیے سروے کیا اور ایک دستاویزی فلم تیار کی۔ 

 رپورٹ میں تاریخی حوالوں سے بتایا گیا کہ ملکہ زبیدہ نے نہر کی تعمیر کا کام شروع کیا تھا لیکن اسے مکہ مکرمہ تک نہیں لایا جاسکا تھا۔ نہر مکہ مکرمہ کے علاقے عزیزیہ تک جاتی تھی جہاں ایک بڑاحوض بنایا گیا جو حوض زبیدہ کے نام سے معروف تھا اس سے پانی بھر کر مکہ مکرمہ لے جایا جاتا تھا۔ 
 وزٹر سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ
 حالیہ سروے میں جو بات سامنے آئی وہ یہ کہ چونکہ اب زیر زمین پانی کا لیول اتنا نہیں رہا کہ عین زبیدہ کو بحال کیا جائے ، نہر کے روٹ پر تعمیرات ہوچکی ہیں کچھ حصہ سڑک کے ساتھ ہے۔ نہر جگہ جگہ سے کٹ چکی ہے تاہم مزدلفہ کے قریب ایک بڑا حصہ جو زمین کے اوپر اور بڑی حد تک محفوظ بھی ہے۔ تجویز یہ تھی کہ نہر زبیدہ کو مکمل بحال کرنے کے بجائے اس کے کچھ حصے کو بحال کیاجائے۔ ایک وزٹر سینٹر بنایا جائے وہاں لوگوں کو بتایا جائے کہ نہر زبیدہ کام کس طرح کرتی تھی تاکہ لوگوں کو اندازہ ہو کہ کتنا پانی تھا اورکیسے آتا تھا۔ مزدلفہ کے قریب نہر زمین سے اوپر ہے۔ بڑی خوبصورت اور دیوار چین کی طرح لگتی ہے۔ نہر زبیدہ یہاں وادیوں سے گزرکر جاتی ہے۔ اس مقام پر سیاحتی مرکز بنانے کی تجویز ہے۔ یہ 5 کلومیٹر کی وادی ہے یہاں پارک ،آڈیٹوریم اور میوزیم ہوگا۔ آڈیٹوریم میں لوگوں کو دستاویزی فلم دکھانے کااہتمام ہوگا۔ تجویز یہ ہے کہ ایک خاص مقام سے پانی پمپ کر کے نہر کے اس حصے میں ڈالا جائے جو کارآمد ہے تاکہ سیاحتی سینٹر میں آنے والے لوگ تاریخی نہر میں پانی بہتا ہوا دیکھ سکیں۔
 

شیئر: