’قیامت‘ کی تصویر، جو ’یوم حساب‘ ٹھہری

بھوکے تینوں تھے اور شاید اپنی اپنی جگہ صحیح بھی، ایک وہ جو نچڑی آنتوں، پیٹھ سے لگے پیٹ، پچکے معدے اور خشک حلق کے بوجھ تلے رینگنے تک سے قاصر تھا، زمین پر سر ٹکا کر ہلکا سا سستاتا اور پھر ہمت کرتا جوایک آدھ انچ پر ہی ٹوٹ جاتی۔
دوسرا وہ جو تھوڑے فاصلے پر بیٹھا اس کی سانس ٹوٹنے کا منتظر تھا کہ اس کی بھوک تبھی مٹ سکتی تھی۔ جیسے ہی اول الذکر کے جسم میں جنبش ہوتی وہ فوراً  گردن اٹھا کر دیکھتا، پر تولتا، پھر پرسکون ہو جاتا لیکن رہتا چوکنا۔ ان دونوں سے کچھ قدم پرے ایک کردار تیسرا بھی تھا جس کی بھوک اس کے ہاتھ میں موجود اس آلے سے جڑی تھی جو اپنی جگہ خود بھوکا تھا۔ کس کی بھوک  کیسے مٹی اور کون کس کی بھوک مٹانے کا باعث بنا یہ ایک دلخراش کہانی ہے۔
ایک چار سالہ بچے، ایک گدھ اور ایک فوٹو گرافر کی اس تکون کے تیز دھار سروں نے دنیا کو وہ چرکے لگائے کہ انسانیت چیخ اٹھی، صحافت پر لرزہ طاری ہو گیا اور ایک ایسی بحث چھڑی جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔
یہ منظر ہے 23 مارچ 1993 کے سوڈان کا، جہاں بلا کا قحط پڑا ہے، انسان ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں، بیماریوں کی بہتات ہے انسان کیا جانور چرند پرند سبھی تڑپ رہے ہیں سوائے گدھ کے۔
ایک پردہ جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں بھی اٹھتا ہے، ساٹھ کی دہائی کے شب و روز ہیں۔ غریب گھرانے کا لڑکا کیون کارٹر فارماسسٹ بننے کا خواب آںکھوں میں لیے پڑھائی میں جُتا ہے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور ہے۔ سیاہ فاموں کے حق میں آواز اٹھانے پر اسے سکول سے نکال دیا جاتا ہے۔ نوجوانی میں فوج میں بھرتی ہوتا ہے تو اس کا اپنے ہی ساتھیوں کے ساتھ اس بات پر جھگڑا ہوجاتا ہے کہ وہ سیاہ فام ویٹر کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں۔


1990 کی دہائی میں سوڈان میں شدید قحط تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

وہ زخمی ہوتا ہے اور ٹوٹے دل کے ساتھ استعفیٰ دے دیتا ہے۔ پھر کیمرہ اٹھا کر دنیا کے تلخ و شیریں رنگ دنیا کو ہی دکھانے نکل پڑتا ہے۔ تصویروں کی تلاش میں وہ قحط زدہ سوڈان پہنچتا ہے۔ وہ روز تصویریں کھینچتا ہے، اخبارات کو بھجواتا ہے جو چھپتی ہیں اور اس کا خرچہ چلتا ہے، سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے کہ یکایک بیچ میں وہ تیز دھار تکون آ جاتی ہے جس کا ذکر ابتدائی سطور میں کیا گیا ہے۔
اسے ہر موڑ پر آڑھی ترچھی، پھولی اور تعفن زدہ لاشیں ملتیں جن کی تصویریں بناتا۔ اسی طرح وہ ایک ایسے میدان کے پاس سے گزرا جس میں ایک چار سالہ بچہ جس کا جسم، جسم کم اور ہڈیوں کی گٹھڑی زیادہ ہے، نظر آتا ہے۔ اس کا رخ اقوام متحدہ کے اس خوراک کیمپ کی طرف ہے جو چند فرلانگ پر واقع ہے۔
پھر اس کی نظر گھات لگائے گدھ پر پڑتی ہے اور اس کی رگ صحافت پھڑک اٹھتی ہے وہ چند منٹ لگا کر اس منظر کو اپنے کیمرے میں قید کرتا ہے، اسے بچے کو اٹھانے کا خیال بھی آتا ہے لیکن صحافیوں کومنع کیا گیا ہے کہ کسی جاندار کو ہاتھ نہ لگائیں کیونکہ ہر طرف بیماریوں کے جراثیم پھیلے ہیں، چونکہ اس کے ساتھی اس کے منتظر ہوتے ہیں اس لیے وہ وہاں سے چلا جاتا ہے۔
وہ اپنی تصویریں امریکا کے اخبارات کو بھجواتا ہے جو ’نیو یارک ٹائمز‘ میں چھپتی ہیں۔ ہر طرف اس کی دھوم مچ جاتی ہے، دنیا جہان کی نیوز ایجنسیاں اس سے رابطے شروع کر دیتی ہیں، اس کا شمار صف اول کے فوٹو گرافرز میں ہونے لگتا ہے۔ انہی دنوں اسے کارکردگی کے اعتراف کے طور پر پیولٹزر نامی انعام بھی دیا جاتا ہے۔


کیون کارٹر نے 1993 میں خود ہی اپنی جان لے لی تھی۔ فوٹو: ان سپلیش

وقت کا دھارا بدلتا ہے، کسی تقریب میں کوئی اس سے ایسا سوال کر بیٹھتا ہے جو اس کے دل میں ترازو ہو جاتا ہے۔ پوچھا جاتا ہے کہ ’آپ نے تو اپنی تصویر بنا لی لیکن اس بچے کے لیے کیا کیا، کیا آپ نے اس کو بچانے کی کوشش کی، اس بچے کا آخر کیا بنا، اگر زندہ ہے تو کہاں ہے، اگر مر گیا تو ذمہ دار کون ہے، آپ خود کچھ نہیں کر سکتے تھے تو قریب لگے اقوام متحدہ کے خوراک کیمپ والوں کو اطلاع دے دیتے۔‘
اس کے بعد سے یہ سوال متواترمباحث میں آنے لگا اور ہر بار کیون کے دماغ پرہتھوڑا بن کر برستا۔ اس میں عجیب قسم کی تبدیلیاں نظر آنے لگیں، اس نے اپنے آپ کو گھر تک محدود کر لیا، لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا، ضمیر اس پر روز چِلاتا اور وہ  بھاگنے کی کوشش کرتا مگر اسی سوڈانی بچے کی طرح اس کی کوشش ایک آدھ انچ سے زیادہ نہ بڑھ پاتی۔
وہ سوڈانی بچے کی جگہ خود کو تصور کرتا اور ضمیر کو گدھ کے روپ میں دیکھتا اورایک دن جس طرح سوڈانی بچے نے سر زمین پر ٹکا دیا تھا اسی طرح اس نے بھی ہار مان لی۔
کیون کارٹر نے اپنی ڈائری میں لکھا ’ درد، بھوک اور فاقوں سے مرتے بچوں کی لاشوں کا مجھ پر سایہ ہے، میں تلخ یادوں کو ذہن سے کُھرچ نہیں پا رہا، میں ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتا، اب مجھے صرف ایک ہی چیز سکون دے سکتی ہے اور وہ ہے۔۔۔ موت، میں کین (کچھ عرصہ قبل وفات پانے والا فوٹوجرنلسٹ) کے پاس جانے والا ہوں۔‘

جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ اب صحافت بدل چکی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ اب صحافت بدل چکی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

ایوارڈ ملنے کے کچھ ہی عرصے بعد آج ہی کے روز 27 جولائی 1994 کو کیون کارٹر اپنی گاڑی اس میدان کے پاس لے گیا جہاں وہ بچپن میں کھیلا کرتا تھا، اس نے ایک پائپ سائلنسر میں لگایا اور اس کا دوسرا حصہ گاڑی کے اندر لے جا کر شیشے چڑھا لیے، گاڑی سٹارٹ کی اور ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھ دیا۔ گاڑی میں دھواں بھرتا رہا اور ایک لمحہ ایسا آیا جب کاربن مونو آکسائیڈ کی وجہ سے اس کی سانس رک گئی اور صرف 33 سال کی عمر میں دنیا سے گزر گیا۔
آج کا صحافی کیا کرے؟
کسی زمانے میں تصویر، ویڈیو بنانا انہیں چھاپنا یا چلانا صرف صحافی کرتے تھے مگر اب تو موبائل نے سب کو ’صحافی‘ بنا دیا ہے سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم سب کی پہنچ میں ہے۔ وہاں ایسی کئی تصاویر اور ویڈیوز ملتی ہیں جنہیں دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بہرحال اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایسی کسی ہنگامی حالت میں صحافی کو کیا کرنا چاہیے تو اس کا جواب ’جس کا کام اسی کو ساجے‘ ہرگز نہیں بلکہ جس حد تک ممکن ہو مدد کرنی چاہیے کیونکہ انسانیت کے بغیر صحافت کچھ اور تو ہو سکتی ہے صحافت نہیں، شاید اسی گدھ کی طرح۔
کیون کو کیا کرنا چاہیے تھا؟
وہ ایک حساس شخص تھا اس سے یقیناً خطا ہوئی جس کی سزا پہلے اس کے ضمیر اور بعدازاں اس نے خود اپنے آپ کو دی۔ وہ کسی طور بچے کو اٹھا لیتا، کسی کو مطلع کر دیتا تو آج بھی فوٹوگرافر ہوتا اور شاید آپ ان سطور کے بجائے اس کا کوئی شاہکار دیکھ رہے ہوتے، اس واقعے کا کسی حد تک مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے ایک ڈیبیٹ کا آغاز ہوا۔ صحافت میں اخلاقیات اور ذمہ داری کا وزن بڑھا یہ اور بات کہ اس کا مخالف پلڑا ابھی بھی جھکا ہوا ہے۔
سوالات نے مرنے کے بعد بھی کیون کا پیچھا نہیں چھوڑا، اب کے شاعر علی ساحل نے پوچھا ہے
تم نے ایک گدھ کی تصویر کھینچی
جو ایک بھوکے بچے کے
مرنے کا منتظر تھا
اور خودکشی کر لی
میں نے ایک بھوکے بچے کو
مَرے گدھ کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھ لیا ہے
مجھے کیا کرنا چاہیے؟
 

شیئر: