’حکومت پرائیویٹ سکولوں کو اردو میڈیم کی طرف لائے گی‘

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ اردو کو لانے کے لیے 22 اضلاع میں سروے کروایا گیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے سرکاری سکولوں میں اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے بعد پرائیویٹ سکولوں میں بھی انگریزی کے بجائے اردو کو ذریعہ تعلیم کے طور پر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اردو نیوز سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے کہا ہے کہ صوبے کے 52 ہزار سے زائد سرکاری سکولوں میں اردو کو ذریعہ تعلیم کے طور پر رائج کرنے کے بعد حکومت پرائیویٹ سکولوں کو بھی انگریزی سے اردو میڈیم کی طرف لائے گی۔
صوبائی وزیر سکول ایجوکیشن نے حکومتی اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اس تاثر کو رد کیا کہ سرکاری سکولوں میں اردو اور پرائیویٹ سکولوں میں انگریزی زبان کے ذریعہ تعلیم بننے سے امیر اور غریب کی طبقاتی خلیج وسیع ہوگی۔
’ایسا قطعاً نہیں ہو گا کیوں کہ ایک بار ہم سرکاری سکولوں میں پرائمری کی سطح پر اردو کو ذریعہ تعلیم بنا لیں پھر ہم پرائیویٹ سکولوں کو بھی بتدریج اسی طرف لائیں گے۔ پرائیویٹ سکولوں کو بھی اس طرف آنا پڑے گا، جو حکومت کہے گی  انہیں کرنا پڑے گا، ایک صوبے میں دو سسٹم تو نہیں چل سکتے۔‘

ڈاکٹر مراد راس نے اس تاثر کو رد کیا کہ ذریعہ تعلیم کے فرق سے امیر اور غریب کی طبقاتی خلیج وسیع ہوگی۔ فائل فوٹو: ٹوئٹر

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ اعلان کیا تھا کہ سرکاری سکولوں میں پرائمری سطح پر اردو کو ذریعہ تعلیم (میڈیم آف انسٹرکشن) بنایا جائے گا۔ عثمان بزدار کے مطابق اس کا اطلاق آئندہ سال مارچ سے ہو گا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی اس ٹویٹ کے بعد ٹوئٹر پر ہی بعض حلقوں کی جانب سے یہ تنقید سامنے آئی تھی کہ سرکاری سکولوں میں اردو کے نفاذ کے بعد والدین مجبور ہو جائیں گے کہ وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے انہیں پرائیویٹ انگریزی میڈیم سکولوں میں پڑھائیں۔ ناقدین کے مطابق اردو میڈیم اور انگریزی میڈیم سکولوں کے بچوں کے درمیان طبقاتی فرق سے معاشرے میں تقسیم پیدا ہوتی ہے۔
تاہم پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ بچے رٹہ لگانے کے بجائے سمجھ کر پڑھیں اور اساتذہ بھی اپنے اسباق اچھے طریقے سے سمجھا سکیں۔

مراد راس کا کہنا ہے کہ ایکٹو لرننگ کے ذریعے بچوں کو سوچنے اور سمجھنے کی طرف مائل کیا جائے گا۔ فوٹو: اے ایف پی

ان کا کہنا تھا کہ لاہور، گوجرانوالہ اور دیگر بڑے شہروں سے ہٹ کر دور دراز کے علاقوں میں اساتذہ اتنے تربیت یافتہ نہیں کہ وہ بچوں کو انگریزی میں پڑھا سکیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان ہی دور دراز علاقوں میں پرائیویٹ سکولوں میں انگریزی میں بچے کیسے پڑھ جاتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ بھی ان علاقوں میں تربیت اور استعداد کار کی کمی کا شکار ہیں۔
ان سے پوچھا گیا کہ بچوں کو انگریزی سے ہٹانے کے بجائے اساتذہ کی استعداد کیوں نہیں بڑھائی جاتی تاکہ وہ انگریزی میں پڑھا سکیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ کام مشکل ہے اور اس میں 10 سال لگ جائیں گے۔
مراد راس کے مطابق گذشتہ حکومت نے 10 برس قبل انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم کے طور پر متعارف کروایا تھا مگر وہ اس عرصے میں اساتذہ کی تربیت نہ کر سکی اس لیے یہ تجربہ ناکام ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اربوں روپے کی مفت کتابیں دے رہی ہے مگر گاؤں میں بچے انگریزی کتابوں کو کوڑے میں پھینک دیتے ہیں اور اردو کتابیں خرید کر پڑھتے ہیں۔

وزیر تعلیم پنجاب کے مطابق طلبہ، اساتذہ اور والدین کی اکثریت اردو کو بطور ذریعہ تعلیم اپنانا چاہتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

ان سے پوچھا گیا کہ بچے پانچویں جماعت تک اردو میں پڑھ کر ایک دم چھٹی جماعت میں انگریزی میں مشکل مضامین کیسے پڑھ پائیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ انگریزی کو بطور مضمون پرائمری کی سطح پر بھی پڑھایا جائے گا تاہم ریاضی، سائنس اور دیگر مضامین اب اردو میں پڑھائے جائیں گے۔ اس طرح بچے چھٹی تک انگریزی بھی سیکھیں گے اور دوسرے مضامین کو اپنی زبان میں بھی سمجھیں گے۔
تاہم صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ایکٹو لرننگ کا نیا نظام لایا جائے گا جس کے ذریعے بچوں کو سوچنے اور سمجھنے کی طرف مائل کیا جائے گا تاکہ وہ رٹہ نہ لگائیں۔ ’ایکٹو لرننگ کے لیے اساتذہ کی تربیت شروع کر رہے ہیں جو 2021 تک مکمل ہو جائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اردو کو لانے کا فیصلہ بھرپور تحقیق کے بعد کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے 22 اضلاع میں سروے کروایا گیا تھا جہاں پر طلبہ، اساتذہ اور والدین کی رائے اردو کو بطور ذریعہ تعلیم رائج کرنے کے حق میں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریزی زبان کی حمایت کی ایک وجہ احساس کمتری بھی ہے۔

شیئر: