جادوئی چشمہ، پیاس بجھانے کے بعد پانی غائب 

مصر میں ایک ایسا چشمہ جس کے قریب جانے پر پانی سطح زمین پر آجاتا ہے، دور جاؤ تو زیر زمین چال جاتا ہے۔
دنیا عجیب و غریب واقعات سے بھر ی پڑی ہے۔ کہیں فطرت کا حسن بکھرا ہے توکہیں عقل کو حیران کرنے والے واقعا ت دکھائی دیتے ہیں۔ 
ایسا ہی ایک علاقہ مصر میں بھی واقع ہے جو اپنے جادوئی اثرات کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ ’عین السرو‘ نامی علاقہ مصر کے مغربی صحرائی علاقے  میں واقع ہے جو اپنے جادوئی اثرات کے حوالے سے مشہور ہے۔ اس علاقے سے کئی مافوق الفطرت کہانیاں اور قصے لوگوں میں عام رہتے ہیں۔
ایسا ہی ایک قصہ ایسے چشمے کا بھی ہے جو کسی  فطرت کے حسن سے متعلق نہیں بلکہ اس کے بارے میں سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ 
چشمہ کی خوبی یہ ہے کہ دور سے دیکھنے پر چشمے کی موجودگی کا علم نہیں ہوتا۔ مگر جو ں ہی کوئی جاندار اس چشمے کے کنارے پہنچتا ہے تو چشمے کا پانی خود بخود  سطح زمین کے برابر ہو جاتا ہے۔ لیکن جب پیاسا چشمے کے ٹھنڈے، میٹھے اور صاف و شفاف پانی سے پیاس بجھا کر دور جاتا ہے تو چشمے کا پانی آہستہ آہستہ زمین میں غائب ہو جاتا ہے اور زمین خشک ہو جاتی ہے۔
 دوبارہ اگر کوئی اس چشمے پر آئے تو پانی اسی طرح دوبارہ سطح زمین کے برابر آجاتا ہے ۔ 

چشمے کے پانی سے مستفید ہونے کے لیے چھوٹے چھوٹے تالاب بنا دیے گئے ہیں۔

 اہل علاقہ کے خیال میں اس چشمے پر جادوئی اثر ہے۔ علاقے میں دیگر چشمے بھی ہیں جو مسلسل بہتے رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین  سے پھوٹنے والے چشموں سے پانی مسلسل بہتا رہتا ہے جو زیادہ سے زیادہ 50 برس تک رہنے کے بعد خشک ہو جاتا ہے۔ مگر یہ جادوئی چشمہ اپنی نوعیت کا منفر دہے جیسے اس میں کوئی سینسر لگے ہوں جو کسی بھی جاندار کے جسم سے نکلنے والی شعاؤں یا مخصوص وزن کو اسکین کر کے پانی کو سطح زمین پر ابھاردیتے ہوں۔ 
جیولوجیکل ماہرین نے چشمے کے ارد گرد کی زمین کو ’سپنجی‘ خصوصیات کی حامل ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ جب بھی اس مقام پر معمولی سا بھی دباؤ پڑے تو زمین یکساں طور پر دب جاتی ہے۔ دباؤ پرنے کی وجہ سے پانی ابھر کر اوپر آجاتا ہے۔ اور دباؤ ہٹنے سے زمین دوبارہ ابھر جاتی ہے جس سے پانی زیر زمین چلا جاتا ہے اور دکھائی نہیں دیتا ۔ 
اہل علاقہ نے چشمے سے نکلنے والے پانی  کو جمع کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے تالاب بھی بنا دیے ہیں تاکہ آنے والے اس چشمے کے پانی سے مستفید ہو سکیں ۔  
کچھ عرصہ قبل مصر کی جادوئی جھیل کا بھی چرچہ تھا جو دن میں کئی رنگ تبدیل کرتی ہے۔ 

شیئر: