’ڈیجیٹل لت سے نمٹیں‘، انڈیا میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا مجوزہ بل
’ڈیجیٹل لت سے نمٹیں‘، انڈیا میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا مجوزہ بل
ہفتہ 31 جنوری 2026 11:59
ایل کے ایس دیوریالو نے کہا کہ ’ہمارے بچے سوشل میڈیا کے عادی ہو رہے ہیں (فوٹو: گیٹی امیجز)
انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے ایک اتحادی نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کے لیے مجوزہ بل پیش کیا ہے۔
جس کے بعد میٹا اور یوٹیوب کی سب سے بڑی مارکیٹ بھی اس بحث میں شامل ہو گئی ہے جس میں سوشل میڈیا کے نوجوانوں کی صحت اور تحفظ کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایل کے ایس دیوریالو نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ ’نہ صرف ہمارے بچے سوشل میڈیا کے عادی ہو رہے ہیں بلکہ انڈیا ان بیرونی پلیٹ فارمز کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ مواد بھی فراہم کر رہا ہے۔‘
ان کے مطابق ’اسی ڈیٹا کی بنا پر کمپنیاں جدید اے آئی سسٹمز بنا رہی ہیں اور انڈین یوزرز کو بغیر معاوضے کے ڈیٹا فراہم کرنے والوں میں تبدیل کر رہی ہیں جبکہ اس کے سٹریٹیجک اور معاشی مفادات کہیں اور سے حاصل کیے جا رہے ہیں۔‘
پچھلے مہینے آسٹریلیا اس پہلے ملک کے طور پر سامنے آیا جس نے 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پا پابندی لگائی، جس کو بچوں کے والدین کی جانب سے سراہا گیا تاہم بڑی ٹیکنالوجی کمپنیز اور آزادی اظہار رائے کے حامیوں نے اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اسی طرح فرانس کی قومی اسمبلی نے بھی رواں ہفتے 15 برس سے کم عمر کے بچوں کے لیے پابندی کے قانون کی حمایت کی جبکہ برطانیہ، ڈنمارک اور یونان بھی اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
فیس بک کو چلانے والی کمپنی میٹا، یوٹیوب اور ایکس کی انتطامیہ نے انڈیا میں قانون سازی کے حوالے سے تبصرے کے لیے بھیج گئی ای میلز کا جواب نہیں دیا۔
انڈیا دنیا بھر میں سمارٹ فونز کی دوسری سب سے بڑی مارکیٹ ہے (فوٹو: اے ایف پی)
تاہم اس ضمن میں میٹا کی جانب سے پہلے ہی کہا جا چکا ہے کہ وہ والدین کی نگرانی سے متعلق قوانین کی حمایت کرتی ہے مگر محتاط رہنا چاہیے کہ کہیں ایسا کرتے ہوئے وہ نوعمروں کو کم محفوظ اور غیر منظم سائیٹس کی جانب نہ دھکیل دیں۔
انڈیا کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی منسٹری کی جانب سے اس معاملے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
انڈیا دنیا بھر میں سمارٹ فونز کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے جہاں 75 کروڑ ڈیوائسز استعمال ہو رہی ہیں اور ایک ارب انٹرنیٹ صارفین موجود ہیں۔
اسی وجہ سے انڈیا سوشل میڈیا ایپس کے لیے ابھی ایک بڑی مارکیٹ ہے تاہم ان تک رسائی کے بارے میں کم از کم عمر کی حد مقرر نہیں ہے۔
ایل کے ایس کا 15 صفحات پر مشتمل بل ابھی منظرعام پر نہیں آیا تاہم روئٹرز نے اس کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کہا گیا ہے کہ 16 برس سے کم کسی بھی شخص کے سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنانے، برقرار رکھنے یا چلانے کی اجازت نہیں ہو گی اور جن کے پاس پہلے سے اکاؤنٹ موجود ہیں ان کو غیرفعال کر دیا جائے۔
پچھلے مہینے آسٹریلیا نے 16 برس سے کم عمر بچوں کے استعمال پر پابندی لگائی جبکہ دوسرے ممالک میں بھی اس پر بحث جاری ہے (فوٹو: شٹرسٹاک)
بل میں کہا گیا ہے کہ ’ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ صارفین کی عمر کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر عائد کی جائے۔‘
حکومت کی معاشی مشاورتی ٹیم کے سربراہ نے جمعرات کو کہا تھا کہ انڈیا کو اس ’ڈیجیٹل لت‘ سے نمٹنے کے لیے عمر سے متعلق پالیسیاں بنانی چاہییں۔
ایل کے ایس دیوریالو کا یہ بل ایک پرائیویٹ رکن کا بل ہے جس کو کسی وفاقی وزیر نے پارلیمان کے لیے تجویز نہیں کیا تاہم ایسے بل اکثر بحث کا باعث بنتے ہیں اور قانون سازی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
ان کا تعلق تیلگو دیسام پارٹی سے ہے جو جنوب ریاست آندھرا پرادیش کو چلا رہی ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کی مخلوط حکومت کی اہم اتحادی ہے۔