حج: منیٰ میں پہلی بار ’روبوٹ ‘ ہو گا ڈاکٹروں کا ساتھی‎

سعودی وزارت صحت نے حج موسم میں پہلی بار نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے۔
منیٰ میں پہلی بار روبوٹ بھی ڈاکٹروں کا ساتھی ہو گا۔
عکاظ اخبار کے مطابق ڈاکٹرز حاجیوں کے پیچیدہ امراض سے متعلق روبوٹ کی مدد سے مشاورت کر سکیں گے۔
سعودی عرب کے کسی بھی ہسپتال کے سپیشلسٹ ڈاکٹروں سے طبی مشورہ حاصل کر سکیں گے۔
اس ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا کے کسی بھی ہسپتال یا سپیشلسٹ میڈیکل سینٹر کا طبی عملہ منیٰ کے کسی بھی اسپتال کے روبرو ہو گا۔
بیرون مملکت موجود ڈاکٹر منیٰ ہسپتال میں موجود مریض کے بستر تک رسائی حاصل کر کے اس کا معائنہ کر سکیں گے۔ سمارٹ مشین اور فور جی نیٹ ورک کے ذریعے آسانی سے طبی مشورہ پیش کر سکیں گے۔
سعودی وزارت صحت نے اپنے ڈاکٹروں کو منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں سمارٹ روبوٹ استعمال کرنے کی ٹریننگ دلا دی ہے۔
ریاض اور جدہ کے ڈاکٹر بھی اس ٹیکنالوجی کی مدد سے حجاج کرام کی خدمت کر سکیں گے۔
روبوٹ متعدد سہولتوں سے آراستہ ہے۔ سٹیتھوسکوپ اور روبو ڈاکٹر کیمروں سے بھی لیس ہے۔ روبوٹ کان اور آنکھ کا معائنہ کر سکتا ہے۔ اس میں جلد کے معائنے کے لیے خصوصی کیمرہ لگا ہوا ہے۔ بیماری کی تشخیص کے لیے ڈاکٹروں کو جو آلات درکار ہوتے ہیں وہ سب اس میں موجود ہیں۔
میڈیکل روبوٹ کی خوبی یہ ہے کہ اس میں انتہائی اعلیٰ درجے کا ایسا کیمرہ نصب ہے جس سے لی جانیوالی تصاویر نہایت صاف، دقیق ترین تفصیلا ت پر مشتمل اعلیٰ درجے کی ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر حضرات ان پر انحصار کرتے ہیں ۔ وہ انہیں دیکھ کر بیماری کی نشاندہی آسانی سے کرلیتے ہیں۔ یہ روبوٹ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے طبی مشاورت بھی دیتا ہے ۔
 

شیئر: