پاکستان میں تیل کی کمی کا خدشہ، آئل ڈپوز کے باہر ٹینکرز کی قطاریں
جمعرات 12 مارچ 2026 18:21
پاکستان میں ٹینکر ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ انہیں ڈپو پر ایندھن کی کمی کے باعث طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ حکومت نے قیمتوں میں ایک اور اضافے کے خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حملے نے مشرقِ وسطیٰ میں شپنگ کو متاثر کیا ہے اور تیل و گیس کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ ممالک سپلائی کے خدشات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
منگل کے روز درجنوں ٹینکر، جو پورے پاکستان میں ایندھن فراہم کرتے ہیں، لاہور کے قریب ڈپوؤں کے باہر سڑک کے کنارے کھڑے نظر آئے۔ لاہور صوبہ پنجاب کا دارالحکومت اور ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے۔
ٹینکر ڈرائیور عبدالشکور نے کہا کہ گزشتہ چار دنوں سے ڈپو میں پٹرول نہیں ہے۔
انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'ایران نے اپنی طرف سے سرحد بند کر دی ہے۔ ڈپو خالی پڑا ہے۔'
پاکستان تیل اور گیس کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے، اور اس ہفتے ایندھن لے جانے والے جہازوں کو نیوی کی سکیورٹی فراہم کی گئی تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے دوران سپلائی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں حکومت نے تیل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں لگ گئیں اور لوگوں نے گھبراہٹ میں زیادہ خریداری شروع کر دی۔
وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے منگل کی رات نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایندھن کی قیمت میں فی الحال کوئی بڑا فوری اضافہ نہیں ہوگا۔
پیر کے روز وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایندھن بچانے کے لیے کفایت شعاری کا منصوبہ اعلان کیا، جس میں سرکاری ملازمین کے لیے ہفتہ وار کام کے دن چار کرنے اور سکول بند کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
تاہم ایک ٹینکر ڈرائیور کے معاون مظہر محمود نے کہاکہ 'ڈرائیور آج بھی ڈپو گئے تھے، لیکن ڈپو کے عملے نے کہا کہ ایندھن دستیاب نہیں ہے۔'
انہوں نے بتایا کہ انہیں کہا گیا ہے کہ ایندھن پانچ سے چھ دنوں میں دستیاب ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 'ملک کی صورتحال اچھی نہیں ہے۔ ملک میں پٹرول نہیں ہے، اسی وجہ سے گاڑیاں یہاں کھڑی ہیں۔'
