Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر جدہ پہنچ گئے

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کی دعوت پر سعودی عرب کے ایک روزہ سرکاری دورے پر پہنچ گئے ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’وزیراعظم سعودی عرب میں چند گھنٹے قیام کریں گے اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود سے ملاقات کے بعد وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔‘
جدہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رائل ٹرمینل پر مکہ ریجن کے ڈپٹی گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز، ریاض میں تعینات پاکستان کے سفیر احمد فاروق، جدہ میں تعینات پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی اور دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
بیان کے مطابق ’وزیراعظم اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے کے درمیان ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت ہو گی۔‘
قبل ازیں پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا تھا کہ وزیراعظم سعودی عرب کے دورے پر جا رہے ہیں اس دوران خلیجی ممالک سے بھی قریبی رابطے برقرار رہیں گے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کا ایک روزہ دورہ کر رہے ہیں۔
گذشتہ روز بدھ کو مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں پر حملوں کے بعد بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا تھا کہ پاکستان ’ہر صورت اور ہر حال میں‘ سعودی عرب کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

جدہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رائل ٹرمینل پر مکہ ریجن کے ڈپٹی گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔ (فوٹو: سکرین گریب)

انہوں نے امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ضرورت پڑنے پر ریاض کی مدد کے لیے آئے گا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ سکیورٹی شراکت داری پر زور دیا، جسے گذشتہ برس ستمبر میں دستخط ہونے والے باہمی دفاعی معاہدے نے مزید مضبوط بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی مدد کے لیے آنے کے حوالے سے ’کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ شاید آئیں، ہم ضرور آئیں گے، چاہے جو بھی ہو اور جب بھی ضرورت پڑے۔‘

 
 

شیئر: